جنگی جرائم مارچ 2016

سید سعید                   

رواں سال یکم  مارچ کو صوبہ کاپیسا کے  ضلع  نجراب  کے  علاقے افغانیہ  کے  غریب  شاہ خیل گاؤں میں  کٹھ پتلی اہل کاروں  کی  فائرنگ کے  نتیجے میں  ایک  خاتون  شہید، جب کہ  ایک  زخمی  ہوگئی۔

۳ مارچ کو صوبہ  ہلمند کے ضلع سنگین کے  علاقے  چہاردہ  میں  امریکی کاسہ لیسوں کے مارٹر  حملوں  کی  زد میں  آ کر ایک   خاتون  اور  پانچ  بچے  شہید ہوئے، جبکہ  ایک  خاتون  زخمی ہوئیں۔

۷ مارچ کو صوبہ  پکتیکا کے ضلع  اورگون  کے  علاقے  پیرکوٹی میں  ظالم ملیشیا  کے  اہل کاروں نے دو بچوں کو شہید کر دیا ۔ اس  واقعے  کے  ردِعمل  میں  مقامی  لوگوں نے  بچوں کے جنازوں کے  ساتھ  بازار میں  حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

۸ مارچ کو صوبہ  بلخ  کے ضلع کشندہ  کے   پنج نامی  علاقے  میں عطاء نور کی  رہنمائی میں حکومتی  اہل کاروں  نے طالبان کے ساتھ مقابلے  کے دوران  عام لوگوں کو  جانی  و مالی نقصانات  پہنچائے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے  کہ  اہل کاروں نے  ان کے  گھروں  کو لوٹا، کئی گھروں کو آگ لگا دی، جب کہ  سات افراد کو شہید  بھی کیا۔

۱۱ مارچ کو صوبہ  غزنی کے   ضلع قرہ باغ  کے  نواحی  علاقے میں کٹھ پتلی  حکومت کے  اہل کاروں نے  ایک نوجوان کو بلاوجہ شہید کر دیا،ورثا نے شہید کی لاش سمیت احتجاج کیا، لیکن کسی  حکومتی  فرد کے کان  پر  جوں  تک نہیں رینگی۔

۱۲ مارچ کو صوبہ  ہلمند کے مرکز لشکر گاہ   میں کٹھ پتلی  اہل کاروں  نے  قندھار شاہراہ   پر شہریوں کو لے  جانے والی ایک  گاڑی  پر حملہ کیا، جس  میں   ایک  شخص شہید، جب کہ  دوسرا زخمی ہوگیا۔ اسی   دن صوبہ  غزنی کے  ضلع  مقر  کے  ملی خیل  گاؤں  میں ملیشیا کے  اہل کاروں نے  دو عمر رسیدہ  بزرگوں   عبدالرزاق اور عبدالرحمان   اکا  کو  شدید   تشدد کے بعد شہید کردیا۔

۱۴ مارچ صوبہ  قندوز کے  مرکز  سےملحق کتہ  خیل کے علاقے میں امریکی جارحیت پسندوں کے   ڈرون  حملے  میں ایک  خاتون   اور ایک  بچہ  زخمی ہوگیا۔

۱۵ مارچ صوبہ کنڑ کے ضلع  غازی آباد  کے  سپین گٹی حاجی  آباد گاؤں  میں کٹھ  پتلی  اہل کاروں  کے مارٹر گولوں کے  نتیجے  میں  پانچ خواتین  شہید ہوگئیں۔اسی دن  صوبہ لوگر کے ضلع  برکی  برک کے جوکی  بازار  میں کٹھ  پتلی  اہل کاروں کے بھاری  ہتھیاروں  کی فائرنگ کی زد میں  آ کر گیارہ  شہری  زخمی ہوگئے۔

۱۸ مارچ کو  صوبہ  قندوز کے ضلع دشت ارچی   کے علاقے شہروان میں  کٹھ پتلی  اہل کاروں  کے  مارٹر گولوں کے  ایک  حملے  میں دو   شہری شہید ہوگئے۔

۱۹ مارچ کو صوبہ  ننگرہار کے ضلع حصارک  کے ملکان نامی علاقے میں  امریکی کاسہ لیسوں  کے بھاری ہتھیاروں کے حملے میں  ایک   بچہ  شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔

۲۰  مارچ کو صوبہ  ہلمند کے ضلع گریشک  کے شورکی   گاؤں میں  غیر ملکی جارحیت پسندوں   نے  کٹھ پتلی  اہل کاروں کی مدد سے امارت اسلامیہ کے  ایک   جیل  پر  چھاپہ  مارا، ا،مارت نے اس جیل  میں عام جرائم میں ملوث  افراد کو رکھا تھا۔ غیر ملکی جارحیت پسندوں نے  ان میں سے   سات افراد کو شہید ، جب کہ  پانچ کو   زخمی  کر دیا۔ اس کے علاوہ  آٹھ افراد کو  گرفتار کرکے  ساتھ لے گئے۔ اسی دن قندوز  کے مرکز سے  ملحق مہمندان کے علاقے میں غیر ملکی جارحیت پسندوں نے  ملکی    کٹھ پتلیوں کی  مدد  سے  چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران  کئی افراد پر  تشدد کیا۔ گھروں سے  قیمتی  اشیاء  لوٹنے کے علاوہ چھ افراد کو گرفتار  بھی کیا گیا۔

۲۵ مارچ کو غیر ملکی جارحیت پسندوں نے   صوبہ  ہلمند کے ضلع  مارجہ  میں عام آبادی کو ڈرون حملوں کا نشانہ  بنایا، جس میں درجنوں  شہریوں کی شہادت اور درجنوں کے زخمی ہونے کے  علاوہ  لوگوں  کو   کافی مالی  نقصانات  بھی  اٹھانے  پڑے۔

۲۸ مارچ کو صوبہ  ہرات کے ضلع شین ڈنڈ   کے دو علاقوں  بخت بابد اور  شور آباد میں کٹھ پتلی  اہل کاروں نے  امارت کے مجاہدین کے  ساتھ جھڑپ   کے  بعد علاقے پر  فضائی حملے  کیے، جس  کے نتیجے میں آٹھ شہری شہید  ہوئے،  جب کہ  گھروں کو بھی  شدید  نقصان پہنچا۔

اقتباسات: بی بی سی،آزادی ریڈیو،افغان اسلامک نیوز ایجنسی، پژواک،خبریال،لراوبر،نن ایشیا اور بینوا ویب سائٹس

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*