مرحوم مولوی اللہ دادطیب کی سوانح حیات

تحریر: عبدالروف حکمت

امارت اسلامیہ کے سابق وزیراور روسی جارحیت کے خلاف جہادکے دوران سرگرم اورفعال مجاہدرہنماملاداداللہ طیب  15صفرالمظفر1437ھ  میں ملک سے باہرکینسرکی بیماری کے باعث انتقال کرگئے۔

مرحوم کاشمارامارت اسلامیہ کے اہم رہنماوں میں ہوتاتھا،وہ امارت کے دورحکومت میں چندسال تک وزیررہے،وہ بہترین اخلاق اورعمدہ صفات کے باعث اچھی شہرت رکھتے تھے اس لئے ان کی وفات پربہت سارے لوگوں کودکھ ہوا،ذیل میں ان کے چندکارناموں کی مختصرسی تفصیل پیش خدمت ہے۔

پیدائش سے وفات تک:

ملااللہ دادطیب مولوی ولی محمدکے صاحبزادے اورسرفرازکے پوتے ہیں،پشتون قوم کاکڑقبیلہ سے ان کاتعلق تھا،قندہارکے ضلع ارغنداب کے علاقے سردی کے باشندہ تھے۔

وہ ساتھ سال قبل شاہ ولی کوٹ کے علاقے اچکزئی سوزنی میں مولوی ولی محمدکے ہاں پیداہوئے،اس وقت ان کے والداس گاوں کے پیش امام تھے،انہوں نے ابتدائی کتابیں اپنے والدمحترم سے پڑھیں،اس کے بعدشاہ ولی کوٹ میں مولوی عبدالاحدکے دینی مدرسہ میں داخلہ لیااورعلم حاصل کرتے رہے،پندرہ سال کی عمرمیں قندہارچلے گئے جہاں انہوں نے حافظ عبدالکریم کے مدرسہ میں حصول علم کاسلسلہ جاری رکھا،مولوی عبدالکریم جیدعالم دین ہونے کے ساتھ مجاہدرہنمابھی تھے قندہارمیں کمیونزم کے خلاف پہلی مسلح جنگ ان کی جانب سے شروع ہوئی اس لئے ملااللہ دادطیب پربھی جہادی ماحول کاگہرااثرپڑا،اور وہ بھی جہادی جذبے سے سرشارہوئے۔

افغانستان میں کمونسٹ دورتسلط میں جب جنوبی اضلاع میں جہادکاآغازنہیں ہواتھالیکن ملک کے دیگرصوبوں میں جہادی سرگرمیاں شروع ہوئی تھیں،اس دوران حافظ عبدالکریم نے انہیں جہادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے صوبہ ہرات بھیجا،ہرات میں ایک بڑی جہادی تحریک کے قیام میں انہوں نے صف اول کاکرداراداکیاجس کے بعدوہ ایک حملے میں شدیدزخمی ہوئے جنہیں علاج کے لئے ایران منتقل کیاگیا۔

ایران میں تین ماہ گزارنے کے بعدجب صحت یاب ہوئے توواپس قندہارآئے،اس وقت قندہارکے ضلع آرغسان میں حافظ عبدالکریم کی قیادت میں مجاہدین کاایک بڑاجہادی مرکزقائم ہواتھا،ملااللہ اداد اس جہادی مرکزمیں شامل ہوگئے اورحافظ عبدالکریم کی قیادت میں دوبارہ جہادکاآغازکیا۔

قندہارکے سرحدی اضلاع میں روسی جارحیت کے خلاف جب جہادی کارروائیاں عروج پرپہنچیں توحافظ عبدالکریم ضلع ارغنداب گئے اورایک دن گل قلعہ کے علاقے میں ایک شدیدجھڑپ میں جام شہادت نوش کرگئے،ملااللہ دادطیب بھی اس جھڑپ میں شریک تھے،اس کے بعد انہوں نے ملاشیرین کے محاذمیں اورپھرملاعزیزاللہ کے محاذمیں فوجی کمانڈرکی حیثیت سے جہادکوجاری رکھا۔

اس وقت ان کامرکزضلع ارغنداب میں تھاجبکہ ان کی کارروائیاں قندہار۔ہرات قومی شاہراہ،قندہارشہرکے مضافات اورضلع دامان میں ہورہی تھیں،مرحوم ملااللہ دادکے بھائی اورجہادی محاذکے ساتھی ملادادللہ نے بتایاکہ ملااللہ داد نڈراوردلیرمجاہدتھے،ایک بارانہوں نے تن تنہاایک جھڑپ میں روس کے تین ٹینکوں کوتباہ کیا۔

روسی جارحیت کے خلاف جہادکے دوران قندہارمیں مجاہدین کے مسائل کے حل کے لئے چندادارے قائم کئے گئے،ملااللہ دادکوضلع ارغنداب محکمہ کاسربراہ مقررکیاگیاانہوں نے چندسال تک مسلسل اخلاص اورمحنت کے ساتھ خدمات انجام دیں،جب روسی افواج افغانستان سے نکل گئیں تووہ تمام معاملات سے کنارہ کش ہوکراپنے کاروبارمیں مصروف ہوگئے جب طالبان کی اسلامی تحریک ظہورپذیرہوئی تووہ بھی ایک مجاہدکی حیثیت سے دوبارہ قافلہ جہادمیں شامل ہوئے،پھرایک عرصہ جیل میں بھی گزارا۔

امارت اسلامیہ میں خدمات:

ملااللہ دادطیب امارت اسلامیہ کے ابتدائی دورمیں مرکزی شوری کے رکن تھے،اس کے بعدانہیں اقتصادی امورکی ذمہ داری بھی سونپی گئی،بعدازاں قندہارمیں رینیووزیرکی حیثیت سے خدمت جاری رکھااوراس کے بعدصوبہ ہرات میں یہی خدمات انجام دیتے رہے۔

کابل کی فتح سے قبل ملااللہ دادطیب قندہارمیں مواصلات کے مسئول کی حیثیت سے فرائض منصبی اداکرتے رہے جب کابل فتح ہواتوان کوکابل میں وزارت مواصلات کاقلمدان دیاگیااوروہ امریکی یلغارکے وقت اسی عہدے پرفائز رہے۔

انہوں نے جب کابل میں وزارت مواصلات کی ذمہ داری سنبھالی توملک بھرمیں مواصلات کانظام درہم برہم ہوچکاتھا،ٹلیفون لائنیں کاٹ دی گئی تھیں اورتقریبااس سسٹم کا80فیصدناکارہ ہوچکاتھا۔

انہوں نے وزارت کاقلمدان سنبھالنے کے بعدابتداء سے مواصلات کانظام دوباہ فعال بنانے پرکام شروع کیا،سب سے پہلے بڑے شہروں میں بی سیم اورریڈیوکے اسٹوڈیوسسٹم فعال بنایاجب صوبوں کے درمیان رابطہ بحال ہواتوکابل میں کائیکروویف کاپراناسسٹم بحال کیااسی طرح ننگرہاراورپشاورکے راستے سے دنیاکے ساتھ افغانستان کارابطہ بحال کردیا۔

چونکہ ملک میں خانہ جنگی کے باعث مواصلاتی نظام تباہی کاشکارہوگیاتھااوریہ سسٹم بہت پرانابھی ہوچکاتھااس کے پرزے بھی نہیں مل رہے تھے اس لئے مواصلات کے نظام میں نئی تبدیلی لانے کی ضرورت محسوس کی گئی اورنئے سسٹم کوفعال بنانے پرغورکیاگیا،اسی سلسلے میں تمام بڑے شہروں میں ڈیجیٹل ٹلیفون سسٹم کومتعارف کروایاگیااورملک بھرمیں عوام کوبہت جلدیہ سہولیت فراہم کی گئی۔

اسی طرح مواصلاتی نظام کی مزیدترقی کے لئے سٹلائٹ ٹلیفون کے آلات تقسیم کئے گئے اوردنیاکے ساتھ مواصلاتی رابطے بحال کرکے افغان عوام کوسہولت فراہم کی گئی،اس کے علاوہ اس وقت وزارت مواصلات کی یہ کوشش تھی کہ وہ ملک میں موبائل نیٹ ورک قائم کرے اس سلسلے میں وزیرمواصلات ملااللہ دادطیب نے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ معائدہ پردستخط کیا اورابتداء میں تین لاکھ موبائل سم تقسیم کرنے کافیصلہ کیاگیااورافغان بی سم کے نام سے ایک کمپنی کی جانب سے یہ نیٹ ورک قائم کرنے کاعمل شروع ہوالیکن بدقسمتی سے امریکہ اوراقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان پراقتصادی پابندیاں عائدکی گئیں جس کے باعث طالبان کی جانب سے شروع کئے گئے دیگرمنصوبوں کی طرح یہ منصوبہ بھی تعطل کاشکاررہااورامریکی یلغارکے بعدجب اقتصادی پابندیاں ختم کی گئیں تواسی نام سے وہی پرانے منصوبے پردوبارہ کام شروع کیاگیا،مواصلات کانیٹ ورک قائم کرناافغانستان کی ترقی کی جانب اہم پیشرفت قراردیاجاتاہے جس کاکریڈٹ کرزی حکومت کے وزیرمواصلات امیرزی سنگین کودیاجاتاہے حالانکہ اس سلسلے میں بنیادی کرداراس ملک کے گمنام خادم مرحوم ملااللہ دادطیب نے اداکیاتھا۔

ملااللہ دادطیب کی شخصیت اورزندگی کے آخری ایام:

افغانستان پرامریکی یلغارکے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے ،وہاں پر ہجرت کی خفیہ پرخطرات زندگی گزارنے کے دوران مجاہدین کے ساتھ بھی رابطے میں تھے اورحسب توفیق ان کی خدمت کرتے تھے۔

امریکی یلغارکے ابتدائی دورمیں امارت اسلامیہ کے عہدیداروں اورمجاہدین پرعرصہ حیات تنگ کرکے ان کوگرفتارکرنے،شہیدکرنے اورجیلوں میں ڈالنے کاسلسلہ شروع ہواتھا،ان کے لئے ملک کے اندراورباہرمشکلات سے بھرپوردورتھا،ملااللہ دادطیب نے بھی اس مشکل دورمیں ملک سے باہرمشکل ترین زندگی گزارنے کوترجیح دی مگرامریکہ کوسرنڈرہونے اوران کے زیرسایہ کام کرنے سے صاف انکارکردیا،ایک بارحامدکرزئی نے ٹلیفون پررابطہ قائم کرکے انہیں ملک واپس لوٹنے اورخدمت کرنے کامشورہ دیااورپرانی وزارت کاقلمدان واپس ان کے سپردکرنے کی پیشکش کردی مگرملااللہ دادطیب نے انہیں جواب دیاکہ آپ نے غلط اندازہ لگایاہے ہم جہاداس لئے نہیں کررہے تھے کہ کفرکے سامنے سرجھکاکروزارت اورمنصب کے مراعات اورمفادات حاصل کریں ہم غلامی کی زندگی سے حریت کے ساتھ موت کوترجیح دیتے ہیں ہم اسلامی نظام کے زیرسایہ ملک کے لئے خدمت کررہے تھے طاغوتی قوتوں کے زیرسایہ منصب قبول کرناملک کے لئے خدمت نہیں بلکہ دین اورعوام کے ساتھ بڑی خیانت اورغداری ہے۔

ملااللہ دادطیب کچھ عرصہ بعدپاکستان نے گرفتارکیا5سال دوماہ کوئٹہ میں اورچودہ ماہ اسلام آبادمیں قیدرہے اس دوران چھ سال تک ان کااپنے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اورنہ ان کی زندگی کے بارے میں کسی کوپتہ تھا۔

انہیں دوران حراست معدے کے کینسرکی بیماری لاحق ہوئی رہائی کے بعدانہوں نے علاج شروع کیالیکن مفیدنہ رہا،رہائی کے تین سال بعد15صفرالمظفر1437ھ میں جمعہ کی شب اللہ کوپیارے ہوگئے اورقندہارکے ضلع ارغنداب میں سپردخاک کیاگیا۔

ملااللہ دادطیب کے بارے میں ان کے چھوٹے بھائی ملاداداللہ نے بتایاکہ وہ بہت متقی اورمجاہدانسان تھے،اللہ نے انہیں استعداد،زہانت اوراچھے اخلاق کی صفات سے نوازاتھاوہ روسی فوجیوں اورکمونسٹوں کے ساتھ تین بارزخمی ہوئے،ایک بارصوبہ ہرات میں اوردوبارقندہارمیں زخمی ہوئے،وہ دولت جمع کرنے کے خلاف تھے وہ روسی افواج کے خلاف جہادکے دوران قندہارمیں ملاعزیزاللہ محاذکے کمانڈرتھے جب وہ یہ محاذچھوڑکرجارہے تھے توتمام اسلحہ ان کے سپردکرکے خالی ہاتھ چلے گئے اوراپنے محاذکے سربراہ سے کہاکہ میں نے اللہ کی رضاکے لئے جہادکیامیرے لئے اللہ کااجرکافی ہے ۔

امارت اسلامیہ کے سابق وزیراورشعبہ اطلاعات کے مشیرمولوی سعدالدین سعیدملااللہ دادطیب کے قریبی دوست تھے انہوں نے ان کے بارے میں بتایاکہ ملااللہ دادمرحوم نیک اورعابدانسان تھے وہ کابل میں دوران وزارت اورپھرہجرت کی زندگی کے دوران پانچ وقت مسجدمیں نمازاداکرنے کے پابندی کرتے تھے وہ گھرپرکبھی بھی فرض نمازادانہیں کرتے تھے۔

وہ صبح سویرے اٹھتے تھے تہجدکی نمازپڑھتے تھے اورپھرنمازفجرتک اذکارمیں مصروف رہتے تھے اشراق کی نمازبھی ان کامعمول تھااورسب سے بڑھ کر وہ غیبت اوربدگوئی سے بہت گریزکرتے تھے۔

ملااللہ دادطیب کی وفات کے متعلق امارت اسلامیہ افغانستان نے رسمی تعزیتی بیان جاری کیاجس کے مطابق: ایک افسوسناک خبرملی کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے سابق وزیرمواصلات ملااللہ دادطیب کینسرکی بیماری کے باعث گزشتہ روزجمعہ کی شب وفات پاگئے اوراپنے آبائی گاوں قندہارمیں سپردخاک کیاگیا ،اناللہ واناالیہ راجعون

امارت اسلامیہ ملااللہ دادطیب کی خدمات کوقدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے،غم اوردکھ کی اس گھڑی میں ان کے خاندان اورپسماندگان کے ساتھ برابرشریک ہے اللہ تعالی مرحوم کواپنی جواررحمت میں جگہ دے اورپسماندگان کوصبرجمیل عطافرمائے امین

امارت اسلامیہ افغانستان

۱۴۳۷/۲/۱۶ هـ ق

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*