ملا محمد حسن رحمانی صاحب مرحوم کے حالات زندگی پر نظر

عبدالرؤف حکمت

موت برحق ہے اور ہر زندہ نفس موت کو چھکنے والی ہے ۔ یہی قرآنی فیصلہ ہے ۔ مگر قابل غور بات یہ ہے کہ موت کس حالت میں آتی ہے اور انسان دنیا سے کس عمل ، کردار اور نظریے کو لے کر رخصت ہوتا ہے ۔کامیاب اور کامران صرف وہ ہے جو ایمان ، نیک عمل ، صالح اور مصلح سوچ کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجائے ۔ ایسی موت خود متوفی کے لیے دائمی سعادت اور ورثاء ومتعلقین کے لیے دائمی فخر کا باعث بنتا ہے ۔ آج ہم متوفی کے کارناموں اور زندگی پر بات کریں گے کہ انہوں نے ایمان ، نیک عمل کے ساتھ ساتھ جہاد ، علم ، ہجرت اور دینی خدمات سے مالامال زندگی گذاری ، اور پھر اسی سفر میں انہیں موت آئی ۔ یہ مرحوم ملاحسن رحمانی صاحب ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل اپنی روح خالق حقیقی کے سپرد کردی۔

زندگی کے ابتدائی مراحل:

ملا محمد حسن رحمانی مرحوم ملا اللہ داد اخوند کے صاحبزادے تھے ۔ انہوں نے چند دہائیاں قبل صوبہ اروزگان ضلع چارچینو کے گاوں ارغور میں ایک غریب اور دیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ انتہائی بچپن میں دینی تعلیم کا آغاز کیا ۔ ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور پھر قندہار اور پاکستان صوبہ بلوچستان میں مختلف مدارس میں وقت کے جید علماء کرام سے کسب فیض کیا ۔

مرحوم رحمانی صاحب کو دینی علوم سے خاص محبت تھی اور علماء کرام اور مدرسین سے ان کا دائمی تعلق تھا ۔ روسی جارحیت کے خلاف جہاد میں ان کی تعلیم ادھوری رہ گئی ۔ امریکی جارحیت کے بعدروپوشی کے ایام میں انہوں نے ایک بارپھردینی تعلیم حاصل کرنی شروع کی اور اپنے ایک خاص استاد مولوی ارشاد الحق صاحب سے دورہ حدیث کی تکمیل کی ۔

روسی جارحیت کے خلاف جہاد:

اس وقت جب رحمانی صاحب کراچی میں دینی تعلیم میں مصروف تھے افغانستان میں روسیوں کے خلاف جہاد اپنے عروج پر تھا۔ انہوں نے جہادی فریضے کی تکمیل کے لیے اپنی کتابیں رکھ دیں اور جہاد کے لیے قندہار چلے گئے ۔ وہ ابتداء میں مشہور غازی طالب جان شہید کے محاذ میں تھے جن کا مرکز ارغنداب کے مضافات میں چارباغ علاقے میں تھا۔ رحمانی صاحب اس علاقے میں مذکورہ محاذ کے ذمہ دار تھے ۔

طالب جان  کی شہادت کے بعد رحمانی صاحب مرحوم نے معروف مجاہد لالا ملنگ شہید کے محاذ سے جہاد کا آغاز کردیا ۔ بعدازاں آخر تک اسی محاذ میں ایک ممتاز مجاہد کی حیثیت سے رہے ۔

لالا ملنگ شہید کی قیادت میں مجاہدین نے ارغنداب ، پنجوائی اور قندہار شہر کے مضافات میں جیسے پنجاو ، پشتون باغ ، نظرجان باغ ، محلہ جات شاہ آغا دوراہی اور قندہار تا ہرات شاہراہ پر دشمن پر حملے کیے ۔ اس علاقے میں سوویت یونین سے تاریخی معرکے ہوئے جن کی یادیں آج بھی عوام کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دور میں قندہار چھاونی کے علاقے میں تورانو نامی ایک چیک پوسٹ پر کارروائی کے دوران ان کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی جس کے بعد وہ تاآخر ایک ٹانگ پر رہے اور دین کی خدمت میں مستعد رہے ۔

امارت اسلامیہ میں خدمت

جب افغانستان میں تنظیمی اختلافات اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی قیادت میں طالبان تحریک، فسادات کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ۔ رحمانی صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو آغاز سے ہی اس تحریک کے رکن تھے ۔ لالا ملنگ شہید رحمانی صاحب کا محاذ جس کے اہم رکن رحمانی صاحب بھی تھے اپنے تمام تر ساتھیوں کے ساتھ اسلامی تحریک میں ضم ہوگئے۔ ان کے اس انضمام سے تحریک کو بہت تقویت اور مضبوطی ملی ۔

قندہار کی فتح کے بعد رحمانی صاحب امارت اسلامیہ کی پہلی شوری کے رکن بھی تھے ۔ بعد ازاں قندہار میں صوبائی عہدیدار بنائے گئے۔ ایک سال بعد امارت اسلامیہ کی جانب انہیں قندہار کا گورنر اور مغربی زون کے تنظیمی سربراہ متعین کیا گیا، پھر امریکی جارحیت کے دور تک اسی عہدے پر برقرار رہے ۔

امریکی جارحیت کے بعد وہ اپنے علاقے سے ہجرت پر مجبور ہوگئے اور انہوں نےروپوشی کی زندگی گذارنی شروع کردی ۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ امارت اسلامیہ کے اقتصادی کمیشن میں بھی خدمات انجام دیتے رہے ۔ اس طرح 14 سال تک مجاہدین کو رسدکی  فراہمی ، زخمیوں کے علاج معالجے ، یتیموں کی کفالت کی خدمت میں حصہ لیتے رہے ۔ اللہ تعالی انہیں کامل اجر عطا فرمائے ۔

مرحوم رحمانی صاحب زندگی کے آخر تک امارت اسلامیہ کی صفوں میں ایک سچے خدمت گذار اور وفادار کی طرح خدمات انجام دیتے رہے  ۔ انہوں نے جس طرح امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے ساتھ امارت اسلامیہ کے لیے خود وقف رکھا تھا اور مخلصانہ کام کرتے رہے بعدہ ان کے نائب اور جانشین امیرالمومنین ملا اختر محمد منصور صاحب سے بھی بیعت کی اور ہر طرح سے وفادار رہے ۔

جناب رحمانی صاحب کلیجے کے سرطان کے مریض تھے ۔ 8 فروری 2016 کو 55 سال کی عمر میں انہوں نے اس جہان فانی کو الوداع کہا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

رحمانی صاحب کی شخصیت

مرحوم رحمانی صاحب کے ایک ساتھی مولوی عبدالرحمن منیر صاحب ان کی شخصیت کے حوالے سے کہتے ہیں:

رحمانی صاحب تقوی اور عاجزی کا نمونہ تھے ۔ عاجز ، فقیر الحال ، مشفق انسان تھے ۔ بیواوں ، یتیموں اور بے سہارہ لوگوں کی کفالت کرتے ۔ یہاں تک کہ اپنے گھر کے لیے مخصوص مبلغ بھی وہ مریض یا زخمی مجاہد کے معالجے یا شہداء کے ورثا اور یتیموں پر خرچ کردیتے تھے ۔ اپنی ذمہ داری کے دوران انتہائی تقوی سے کام لیتے ۔

رحمانی صاحب ایک اور پرانے رفیق کار سید عبداللہ آغا ان کے حوالے سے کہتے ہیں :

رحمانی صاحب ایسی شخصیت تھی جنہیں فقر اور مسکنت سے خاص محبت تھی ۔ میں نے انہیں کبھی بھی نئے کپڑوں اور آراستہ لباس میں نہیں دیکھا ۔ ہمیشہ عام سے معمولی اورسادہ لباس میں رہتے ۔ امارت اسلامیہ کی جانب سے انہیں گاڑی دی گئی مگر انہوں نے قبول نہیں کیا ۔ دلی لحاظ سے وہ انتہائی رحم دل تھے وہ کسی محتاج یا مریض کو دیکھتے تو اپنی غربت کا ایک لقمہ بھی اس سے شریک کرتے اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرتے ۔

معروف  لکھاری موسی فرہاد ، رحمانی صاحب کی وفات کی مناسبت سے لکھتے ہیں :

رحمانی صاحب نے بہت فقیرانہ زندگی گذاری ، ہر قسم کی خیانت اور کرپشن سے پاک انسان تھے ۔ افغانستان کے 37 سالہ انقلاب کے پورے دورانیے میں جہاد کے تینوں مرحلوں میں ایسا کوئی داغ ان کے دامن پر نہیں جس سے ان کے ، ان کے گھرانے یامجاہدین کی بدنامی ہو ۔ بلکہ اپنی ساری زندگی اللہ کی راہ میں ایک سچے انسان کی طرح گذاری ۔

امارت اسلامیہ کی رہبری شوری کی جانب سے رحمانی صاحب کی وفات کے حوالے سے تعزیتی پیغام نشر کیا گیا جس میں ان کی خدمات کی قدردانی کی گئی تھی اور اللہ تعالی سے ان کے لیے جنت الفردوس کی دعا کی گئی تھی ۔

اللہ تعالی مرحوم پر رحم فرمائے اور ان کی خدمات قبول فرمائے  اور انہیں بلند درجات عطافرمائے ۔

آمین یا رب العلمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*