شہید  قاری ضیاء الدین فاروق کی  زندگی اور جہادی خدمات

عبدالرؤف  حکمت    

یہ  2010ء کے  ابتدائی  ایام کی  بات ہے، جس میں  امریکی جارحیت پسندوں کے خلاف جہادی کارروائیاں  عروج پر تھیں۔ یہی  وہ  سال  تھا، جسے امریکی جارحیت پسندوں نے  اپنے  لیے سب سے  زیادہ خون ریز    کہا تھا۔ مَیں نے اپنی  صحافتی  ذمہ داری  کے  تحت ارادہ کیا کہ  صوبہ فاریاب کے جہادی  مسئول  کا انٹرویو کروں۔ دیار ہجرت میں ایک  کچے   گھر کے  دروازے پر دستک  دی، کچھ  دیر  بعد میزبان باہر آئے۔ سلام دعا کے  بعد اندر جانے  کے لیے وہ رہنمائی کرتے ہوئے مجھے  ایک   بوسیدہ کمرے میں لے گئے۔ کمرے میں  درمیانے  قد کا خوبرو نوجوان  بیٹھا تھا۔ بہت گرم جوشی  سے   ہاتھ ملایا۔  ایک  ہاتھ پر زخم ہونے کی وجہ سے  پٹی  بندھی ہوئی  تھی۔ وہاں  بیٹھے دیگر  ساتھیوں سے   میں نے  فاریاب کے جہادی مسئول  کے بارے  میں  دریافت کیا کہ وہ کو ن ہیں  تو  انہوں نے  اسی  خوبرو نوجوان کی  طرف ا شارہ کیا کہ  یہ  قاری   صاحب ہیں۔

قاری  صاحب  کے ساتھ   طویل گفتگو  ہوئی۔ آپ ان  افراد میں سے  تھے،  جو پہلی ہی ملاقات میں  کسی  کے دل  میں  گھر کر جاتے ہیں۔ نہایت متواضع،  مؤدب اور جہاد کا سچا اور محاذ پر جان لڑا دینے والا مجاہد، جس نے  اپنا  تن من  سب کچھ اللہ  کے دین کی سربلندی اور کفار  کی شکست کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ قاری صاحب سے اس پہلی  ملاقات نے مجھے   اُن کا گرویدہ  بنا دیا تھا۔ مجھے  یقین ہوا کہ  اس تیس  سالہ  نوجوان کو اپنی عمر کی  نسبت  اللہ  تعالیٰ  نے بڑے بڑے کار ناموں کے لیے منتخب کیا ہے۔ جی ہاں! قاری ضیاء الدین افغانستان کے شمالی علاقوں خصوصاً فاریاب،سرِپل اور جوزجان میں صلیبی جارحیت پسندوں کے خلاف جہاد  کی  بنیاد  رکھنے  والوں میں سے ہیں۔ انہوں نے  اپنی  مخلصانہ کوششوں اور قربانی کے  ذریعے جہاد  کی شمع  روشن کی۔  عوام کو جہادی  فکر  دے کر سیکڑوں نوجوانوں کو اس  راہ کے لیے تیار کیا اور آخر  میں  خود بھی  اس  راہ  میں جام شہادت نوش کیا۔ یہاں  جہادی تاریخ کے اس  گمنام سپوت کی زندگی اور   جہادی کا رناموں کا جائزہ لیتے ہیں،  تاکہ  ایک حقیقی اور مخلص مجاہد کی داستان حیات سے آگاہ ہو سکیں۔

تعارف:

قاری  ضیاء الدین  فاروق نے افغان کیلنڈر کے مطابق ۱۳۵۸ ش کو صوبہ فاریاب کے  ضلع دولت آباد  کے  توپ خانی گاؤں میں  حاجی  عبدالباقی کے  گھر میں  آنکھ  کھولی۔ آپ کا  تعلق  ازبک  قبیلے سے تھا۔ آپ کے  والد اپنے قبیلے کے  سربراہ  تھے۔ آپ نے ابتدائی  تعلیم   اپنے آبائی  گاؤں توپ خانی میں مولوی  شمس الدین کے مدرسے  میں حاصل کی۔ پھر  قرآن  پاک حفظ کرنے کے لیے ضلع شیرین تگاب  کے ایک مدرسہ میں داخلہ لیا، آپ نے بہت کم عرصے  میں  قرآن پاک  حفظ کر لیا۔ بعدازاں دینی  تعلیم  کے حصول کے لیے پاکستان  تشریف لے  گئے۔ پاکستان میں پشاور کے ایک مہاجر کیمپ میں ایک  مدرسے میں کچھ عرصہ زیرِ تعلیم رہے، لیکن کچھ عرصہ  بعد  پنجاب کے ضلع  رحیم یار خان تشریف لے  گئے اور وہاں عبداللہ   بن  مسعود رضی اللہ  عنہ  کے  نام سے ایک مشہور مدرسے میں داخلہ لے کر دینی  علوم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس وقت افغانستان  میں امارت اسلامی کی  حکومت  تھی اور کابل  کےشمال میں جنگ جاری تھی۔ قاری ضیاءالدین  کم  عمر ہونے کے  باوجود جہاد کے لیے نکل پڑے اور کابل پہنچ  گئے۔ جہاد پر جانے والے   مجاہدین میں  اپنا نام  لکھوانا چاہا، لیکن کم  عمر ہونے کی وجہ سے انہیں  جانے کی  اجازت  نہیں ملی۔ بعد ازاں قاری  صاحب  ہرات گئے اور وہاں فاریاب کے مشہور جہادی  رہنما اور امارت اسلامی کے رہبری شوریٰ کے  رکن مولوی  عبدالرحمٰن سے  گزارش کی    کہ وہ  انہیں  جہاد  میں حصہ لینے کی اجازت دیں۔ مولوی عبدالرحمٰن صاحب  کہتے ہیں: ’قاری صاحب کو جہاد  سے  حد  درجہ کی  محبت تھی۔ مَیں  نے  ان سے کہا کہ   آپ کی عمر امارت کی  پالیسی کے تحت  بہت کم ہے، اس لیے  آپ کچھ انتظار کر لیں۔

قاری صاحب  کہنے لگے کہ کہ  جہاد کے لیے جرأت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے پاس یہ دونوں موجود ہیں۔ لیکن اجازت نہ ملنے پر انہوں نے  ہرات میں دینی  تعلیم کا سلسلہ  جاری رکھا۔  یہاں   تک  کہ  امریکا  نے  افغانستان پر جارحیت کی   تو  قاری صاحب  اپنی  پڑھائی  ادھوری  چھوڑ کر جہاد کی  راہ میں  نکل پڑے۔

امریکا کے خلاف جہاد میں بنیادی کردار:

امریکی جارحیت کے  بعد  قاری صاحب ایک سال  تک  اپنے   آبائی  علاقے میں  مقیم   رہے۔ وہ اپنے چند ساتھیوں سمیت  جہادی  تربیت کے لیے گھر کو خیر باد کہ گئے۔ آپ نے  افغانستان اور پاکستان  کے درمیان واقع دشوار  گزار پہاڑی  علاقوں میں  قائم  مجاہدین کیے تربیتی  مراکز  میں  جہادی  تربیت کا آغاز کیا۔ یہاں  آپ کی ملاقات   افغانستان کے  صفِ اول کے  مجاہدین  سے  ہوئی۔ یہاں  آپ کا  تعارف شہید  قاری  محمد طاہر فاروق سے  بھی ہوا۔ قاری صاحب جہادی  تربیت حاصل کرنے کے بعد سب  سے  پہلے جہاد کی  دعوت  عام کرنے کے لیے مختلف مدارس میں تشریف لے  گئے، تاکہ  مدارس کے طلباء،نوجوان نسل اور عام لوگوں کو جہاد کی  فرضیت اور ضرورت سے  آگاہ کریں۔ آپ کے  ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ  اس وقت ہم  ایک مدرسے میں  زیرتعلیم  تھے۔ قاری صاحب وہاں آتے  اور   طلباء  کو  جہاد کی دعوت دیتے تھے۔ آپ کے پاس  ایک  چھوٹا DVD  پلئیر بھی ہوتا تھا، جس میں  جہادی ویڈیو اور بیانات ہوتے  تھے،  جو آپ موقع کی  مناسبت سے لوگوں  کو دکھاتے  تھے۔ قاری  صاحب نے بعد میں  اپنے آبائی  ضلع دولت آباد کے  نوجوانوں کو جہاد کی دعوت دی، جس کے  نتیجے میں نوجوانوں کی بڑی  تعداد جہاد  کے لیے تیار ہوگئی۔

قاری صاحب  نے گفتگو کے دوران اس علاقے میں جہادی کارروائیوں کے  آغاز کے  بارے میں بتایا کہ ’سب سے پہلے  ہم نے یہاں جہاد کی  دعوت دی۔ ہم  گلی گلی اور گھر گھر جا کر لوگوں کو جہاد کی فرضیت    سے  آگاہ کرتے  رہے۔ یہاں  تک  کہ  مجاہدین   راستے میں  بیٹھ کر   ہر آنے اور جانے  والوں کو  روک کر جہاد کی فرضیت اور اہمیت سے آگاہ  کرتے ۔ اس کام سے لوگوں کے دلوں  میں مجاہدین اور جہاد سے محبت کی  شمع  روشن ہوئی اور مجاہدین پر اعتماد بڑھنے لگا۔ اس  سے دشمن کے  پروپیگنڈے  دم توڑ گئے، جو سارا دن  لوگوں کو  بتاتے  رہتے کہ   یہ مجاہدین   غیر ملکی  ایجنٹ ہیں، لیکن لوگوں نے دیکھا کہ تمام مجاہدین  اُنہی کے علاقوں سے  تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے  وہ  مجاہدین کے  شانہ  بشانہ  کفار اور  ان کے  معاونین کےخلاف  بر سر  پیکار ہوگئے۔

جہادی  عملیات کا آغاز:

قاری صاحب اور ان کے ساتھیوں نے  سب سے  پہلے اپنے علاقے میں جہادی  عملیات  گوریلا  کارروائیوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے  شروع کیں۔فاریاب،جوزجان اور سرپل کے مجاہدین  مشترکہ طور پر گوریلا کارروائیوں میں حصہ لیتے  رہے اور ہمیشہ الرٹ رہتے۔ کیوں کہ  ان کی تعداد کم  اور  اسلحہ  نہ ہونے کے برابر  تھا۔ اس لیے دشمن کے  کمزور  نکتوں  پر حملہ کرتے  اور  جائے واردات سے  بہت دور  یعنی دوسرے صوبے  میں چلے  جاتے  تھے۔ اس طرح  مذکورہ  تینوں صوبوں میں  بہ یک  وقت جہادی  کارروائیاں جاری تھیں۔  بعدازاں افغانستان کے دیگر حصوں کی  طرح فاریاب میں  بھی جہادی کارروائیاں   اعلانیہ طور پر شروع ہوگئیں، جن میں قاری  ضیاء الدین  صاحب  کا کردار سب سے  نمایاں  تھا۔  آپ بڑے   عرصے تک    ضلع  دولت  آباد کے  عسکری مسئول  رہے،  جب کہ   2009ء میں آپ کو صوبہ فاریاب کا  جہادی مسئول  مقرر کر  دیا گیا۔

آپ کی  رہنمائی میں  فاریاب  کے مختلف  علاقوں میں دشمن  پر لاتعداد تباہ کن  حملے  ہوئے، جن کے  نتیجے میں ضلع اندخوئی کے  گورنر اور  آئی جی پولیس  اسی  طرح شیرین تگاب کے  پولیس سربراہ سمیت دشمن کے  متعدد اعلیٰ عہدے دار ہلاک ہوگئے۔ 2010ء میں  مجاہدین کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اتنی وسعت آئی کہ مجاہدین نے  دولت آباد، شیرین تگاب، خواجہ موسیٰ، المار، قیصار،چھلگزی،گورزوان،بلچراغ اور لولاش اضلاع میں بہت سے علاقوں پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ اسی  طرح فاریاب میں امارت اسلامی  کی  علاقائی  تشکیلات   بھی فعال ہوئیں، جن کے کے ذریعے فاریاب جہاد کے ایک  ناقابل  تسخیر محاذ میں  تبدیل ہوا۔

شہادت:

قاری صاحب  طویل  اور مخلصانہ جہادی  کارروائیوں کے بعد 7 اکتوبر 2010ء کو غیرملکی جارحیت پسندوں اور ان کے    کاسہ لیسوں  کے  ایک  بڑے  چھاپے کے  دوران ضلع دولت آباد کے  قرغن  قدق کے علاقے میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ کفار انہیں گرفتار کرنا  چاہتے تھے، لیکن  انہوں نے  گرفتاری کے  بجائے شہادت کو ترجیح دی۔ مذکورہ   گاؤں  اس ضلع کے مرکز کے  قریب  واقع ہے۔  قاری صاحب  اپنے  مجاہد  ساتھیوں  سمیت  یہاں  رہائش پذیر  تھے۔ اس علاقے  میں عام  شاہراہ پر دشمن کے  قافلوں پر حملوں کے منصوبے  بناتے اور ساتھیوں کی تشکیل  کرتے، جب  دشمن کو ان کے  ٹھکانے  کا علم ہوا تو  فضائی  اور  زمینی  راستے   سے اس علاقے میں ایک  بڑا چھاپہ  مارا۔ قاری  صاحب  گاؤں سے  نکل  گئے۔  کیوں کہ  یہاں  عام لوگوں کو  نقصان  پہنچنے کا  اندیشہ  تھا۔ اس لیے آپ صحرا کی  طرف  چلے گئے، لیکن دشمن کی جانب سے  آپ کا فضائی اور زمینی  تعاقب جاری تھا۔ سب سے  پہلے دشمن نے  ان پر فضائی  حملہ کیا، جس میں ان کے ایک ساتھی شہید ہوئے اور  آپ اپنے   تین  دیگر ساتھیوں کے ساتھ  دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے  ساتھیوں سمیت  جام شہادت  نوش کرگئے۔ آپ کو اپنے آبائی گاؤں  سے    بہت دور  ضلع  بلچراغ  کے  قریب میمنہ  قشلاک   کے  علاقے میں سپردخاک کیا  گیا۔ انا للہ  وانا الیہ  راجعون

شہید قاری ضیاءالدین کی شخصیت:

قاری صاحب کا تعلق  ایک امیر اور زمیندار  گھرانے سے تھا۔  آپ کے والد اپنے  علاقے کے  سربراہ اور باغات،زمینوں  کے مالک تھے، لیکن  قاری صاحب کو  کبھی  ان  اشیاء سے  محبت  نہیں  ہوئی۔ آپ نے دنیا کی  عیش و عشرت کی  زندگی کو خیر باد کہا۔ آرام  و راحت کی زندگی  کو  پسند نہیں کیا اور اپنی ساری زندگی جہاد،ہجرت اورتکالیف میں  گزار دی۔ آپ کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ  قاری صاحب   ایک متقی   شخص  تھے۔ بیت المال کی رقم کو نہایت احتیاط سے کام  میں لا تے۔ جہادی مسئول ہونے  کے  باوجود   بیت المال کی رقم خود استعمال  نہیں کرتے تھے،  بلکہ  اپنے ایک ساتھی  کو اس کام کے لیے مقرر کیا تھا اور  بیت المال کے  تمام امور ان کے سپرد تھے۔ جہاد سے   انتہائی درجے کی  محبت تھی۔کم عمری  میں جہاد کا شوق تھااور امریکی  جارحیت کے  بعد  اس  وقت تک  جہاد  جاری  رکھا، جب  تک اس   راہ میں شہادت کے  بلند مرتبے پر فائز نہیں ہوگئے۔ رحمہ اللہ  تعالیٰ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*