جنگی جرائم، جولائی2016ء

سید سعید 

یکم جولائی کو فاریاب کے ضلع پشتون کوٹ کے علاقائی رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ جنرل دوستم نے مجاہدین کے خلاف آپریشن کے نام پر ستر عام شہریوں کو خواتین ، بچوں اور بوڑھوں سمیت شہید کر دیا ہے۔ تین سو سے زیادہ عام افراد کو قید کر کے اُن کے گھر تباہ کر دیے ہیں۔

3 جولائی کو سرپل کے کئی علاقائی رہنماؤں نے کابل میں سیکرٹریٹ کے چیف سیکرٹری محمد خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرپل میں اشرف غنی کے سیکرٹری جنرل دوستم کی قیادت میں مسلح افراد نے ان کے گھر لوٹ کر اُنہیں آگ لگا دی ہے۔ عام لوگوں کو مجاہدین سے تعلق کے الزام میں قتل کیا ہے، جب کہ بہت سوں کو قید کر کے اذیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا کو دعوت دی کہ ہمارے علاقے کے لوگ اشرف غنی کے اہل کاروں کی طرف سے جس پریشان حالی کا شکار ہیں، اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بتائیں کہ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟

5 جولائی کو قندھار کے ضلع خاکریزکے علاقے ’باغکی‘ میں جارحیت پسندوں کی بمباری سے خواتین سمیت پانچ افراد شہید اور چار زخمی ہوگئے۔

6جولائی کو یعنی عیدالفطر کے پہلے روز خوست کے ضلع نادرشاہ کوٹ میں ’شمبوات‘ کے علاقے میں مقامی فوجیوں نے مریض کو اسپتال میں لے جانے والی ایک گاڑی  کو نشانہ بنا کر تباہ کر ڈالا، جس میں موجود مریض خاتون شہید اور ان کا بیٹا اسلام الدین زخمی ہو گیا۔

14جولائی کو زابل کے مرکز کلات کے قریب مقامی فوجیوں نے مارٹر کے ایک حملے میں ایک ہی گھر کے 7 افراد کو شہید اور زخمی کر دیا ۔ شہداء میں دو بچے بھی شامل ہیں، جب کہ زخمیوں میں بچوں اور خواتین سمیت 7 افراد شامل ہیں ۔ اسی دن غزنی کے ضلع ’مقر‘ میں ’سمن کلا‘ کے علاقے میں اربکیوں نے دین کی تعلیم دینے والے ایک مدرسے کے طالب علم عطاء اللہ ولد خیال محمد کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد شہید کر دیا۔ جب کہ قندھار میں جارح فوجیوں نے ضلع میوند کے مضافاتی علاقے ’ریگ شہیدانو‘ میں عام لوگوں کی چار گاڑیاں گولہ باری کر کے تباہ کر دیں۔کٹھ پتلی انتظامیہ کے  ترجمان نے اس واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں امارت اسلامیہ سے منسلک  30 افراد قتل کیے ہیں، مگر مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ حملے کا نشانہ بننے والے تمام افراد عام لوگ تھے ۔

16 جولائی کو ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے سنگانہ میں کٹھ پتلی اسلحہ بردار اہل کاروں کی آپس میں لڑائی چھڑ گئی، جس میں بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ اس واقعے میں ایک بچہ اور دو افراد شہید، جب کہ دو عام افراد زخمی ہوگئے۔

17 جولائی کو قندوز کے مرکز کے قریب ’کلتہ تائی‘ نامی علاقے  میں مقامی دہشت گردوں نے میزائل حملے میں ایک بچے سمیت تین افراد شہید کر دیے۔ اسی دن دائی کنڈی کے ضلع اجرستان کے مضافات میں مجاہدین اور کٹھ پتلی اسلحہ برداروں کے درمیان جنگ کے بعد دشمن نے ہیلی کاپٹر سے علاقے پر بمباری کر دی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس بمباری میں عباس خیلو گاؤں میں ایک خاتون شہید اور تین بچے زخمی ہوگئے۔ محمد خیلو کے علاقے میں چاچا فضل محمد کے گھر میں دو خواتین زخمی اور دو شہید ہوگئیں۔

19 جولائی کو پکتیکا کے مرکز کے شہری بازار کے قریب سکیورٹی اداروں کے کارکنوں نے ایک شخص کو گاڑی سے اتارا اور تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا۔ اسی دن شیرزادو کے علاقے ’طوطو‘  میں جارحیت پسندوں نے ڈرون حملے میں عبدالکبیر نامی ایک مقامی نوجوان کو شہید کر دیا۔ جب کہ قندوز کے ضلع امام صاحب کے علاقے قرغان تیپی میں اربکیوں نے عام لوگوں کی ایک مسافر وین پر فائرنگ کر دی، جس میں ایک بچہ شہید، جب کہ اُس کی ماں اور گاڑی ڈرائیور شدید زخمی ہوگئے ۔

21جولائی کو ننگرہار کے ضلع خوگیانو میں وزیرو کے علاقے ’تنگی‘ میں کٹھ پتلی اسلحہ بردار اہل کاروں نے مارٹر حملے میں حاجی ہمیشہ گل نامی ایک معمر شخص کو شہید کر دیا، جب کہ دو خواتین اور ایک بچہ شدید زخمی ہو گئے۔

22 جولائی کو پروان کے ضلع سیدخیلو کے علاقے ’انچو‘ میں کابل انتظامیہ نے نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے موقع پر گولہ باری کی۔ حملے میں 9 افراد شہید اور 30 زخمی ہوگئے ۔ اسی طرح دہشت گرد اہل کاروں نے 20 افراد کو قید بھی کیا ہے۔ اسی دن ضلع سرخرود میں ’کڑسوخوڑ‘نامی علاقے میں اشرف غنی کے اسلحہ بردار اہل کاروں نے عام شہریوں کے گھروں پر مارٹر حملے کیے ۔ ان حملوں میں کچھ گھروں کو نقصان پہنچا اور ایک گھر میں ایک خاتون اور ایک بچہ شہید ہوگئے ۔ گھر کے سربراہ اللہ دوست سمیت ایک بچہ زخمی بھی ہو گئے ۔

23 جولائی کو تخار کے ضلع درقد کے نورخیلو نامی علاقے میں اشرف غنی کے اسلحہ بردار اہل کاروں کی مارٹر گولوں کی فائرنگ میں 5 افراد شہید اور تین زخمی ہوگئے ۔ اسی دن ننگرہار کے ضلع چپرہار کے مضافات میں اشرف غنی کے اسلحہ بردار اہل کاروں کی گولہ باری میں 7 افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ جب کہ ضلع حصارک کے ’میاں صاحب‘ نامی کے علاقے میں اشرف غنی کے اسلحہ بردار اہل کاروں کی طرف سے مارٹر کی فائرنگ میں دو بچے زخمی اور ایک آدمی شہید ہوگیا۔

24 جولائی کو اشرف غنی کے اسلحہ بردار اہل کاروں کی فائرنگ میں ننگرہار کے ضلع چپر ہار کے گلدری نامی علاقے میں ایک خاتون اور شوہر اپنے دو بچوں سمیت زخمی ہوگئے ۔ اسی طرح شولانی کے گاؤں میں ایک میزائل ’نوح جان چاچا‘ کے گھر پر آ گرا، جس میں ایک خاتون شہید اور دو بچے زخمی ہوگئے۔

25 جولائی کو جارحیت پسندوں نے نائٹ آپریشن کے سلسلے میں قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ کے علاقے بوری میں چھاپہ مارا ، جس میں دو عام افراد شہید اور دو زخمی ہوگئے۔

28 جولائی کو جارحیت پسندوں نے اشرف غنی کے اسلحہ بردار اہل کاروں کے تعاون سے نائٹ آپریشن کے دوران ننگرہار کے ضلع چپر ہار کے علاقے ’تریلی‘ نامی گاؤں میں چھاپہ مارا ، تلاشی کے دوران لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور 5 افراد کو گرفتار کرکے کال کوٹھریوں میں بند کر دیا ہے۔

30 جولائی کو جوزجان کے ضلع آقچی کے علاقے سرخ کلی میں اربکیوں نے دو افراد شہید کر دیا اور لوگوں کے گھروں سے قیمتی سامان اور موٹر سائیکل اپنے ساتھ لے گئے۔

31 جولائی کو ننگرہار کے ضلع حصارک کے گاؤں میاں صاحب اور خوگیانو میں وزیرو کے علاقے میں اربکیوں نے اشرف غنی کے اسلحہ بردار اہل کاروں کے تعاون سے چھاپہ مارا ، تلاشی کے دوران لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ، انہیں مالی نقصان پہنچایا اور معلم نواب سمیت چار افراد کو قید کرکے اپنے ساتھ لے گئے ۔ جب کہ میدان وردگ کے ضلع جلریز میں اسماعیل خیل میں مقامی فوجیوں نے ایک عام فرد کو شہید کر دیا ۔

ماخذ:(بی بی سی ریڈیو،آزادي ریڈیو ،افغان اسلامي اژانس ریڈیو،پژواک ویب سائٹ ،خبریال ویب سائٹ،لراوبر ویب سائٹ ،نن ٹکی آسیا ویب سائٹ ، بینوا ویب سائٹ)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*