علم اور جہاد کے خادم شیخ الحدیث مولوی ندا محمد ندیم صاحب سے گفتگو

شمالی علاقوں میں دوستم مسلسل شکست کھارہا ہے۔

گفتگو: أبوعابد

سوال :

محترم شیخ صاحب آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور گفتگو کے لیے وقت دینے پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ سب سے پہلے ہمارے قارئین سے اپنا تعارف کرائیں۔

جواب:

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على إمام المجاهدين المبعوث رحمة للعالمين نبينا محمد صلی الله عليه وسلم وعلى أله وأصحابه والتابعين ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ، امابعد :

میرانام ندامحمد ندیم ہے ۔ قندہار کا شہری ہوں اور عسکری کمیشن شمال مغربی زون کے حلقے کا ذمہ دار ہوں۔

سوال: آپ کے حلقہء ذمہ داری میں جو علاقے آتے ہیں وہاں موجودہ جہادی حالات کے حوالے سے کچھ معلومات دیں ۔ہر صوبے کے حوالے سے مختصر منظر کشی کہ کتنا علاقہ آپ لوگوں کے پاس ہے اور کتنا دشمن کے ۔ مجاہدین کی قوت کتنی ہے ۔ امارت اسلامیہ سے ان کی وفاداری اور ان کے آپس کے اتحاد کے بارے میں معلومات ہم سے شریک کریں۔

جواب:

شمال مغربی زون کے حلقے سے متعلقہ صوبے فاریاب ، بادغیس ، جوزجان ، سرپل اور غور ہیں ۔ مجموعی طورپر ان صوبوں کے اکثر علاقوں میں امارت اسلامیہ کی حاکمیت مضبوط ہے اور یہاں عوام امن اور شرعی نظام کے سائے میں سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔

حلقے کے تمام صوبوں کے جہادی حالات پر صحیح معلومات جاننے کے لیے یہاں ہر صوبے پر الگ الگ بات کریں گے ۔

فاریاب: فاریاب میں خواجہ ناموسی اور ضلع خیبر مکمل طورپر مجاہدین کے ہاتھ میں ہیں اور پشتونکوٹ ، جمعہ بازار، شیرین تگاب ، دولت آباد ، لولاش ، بندر اور المار کے اضلاع کے صرف ضلعی مراکز دشمن کے ہاتھ میں ہیں باقی سارا ضلع مجاہدین کے پاس ہے ۔ قیصار اور چہلگزی کے اضلاع آدھے سے زیادہ مجاہدین کے ہاتھ میں ہیں ۔ اندخوئی ، بلچراغ اور گرزیوان کے کچھ علاقوں میں مجاہدین کی حکومت مضبوط ہے اور وہاں متحرک جہادی تحریکات موجود ہیں ۔

مجموعی طورپر فاریاب میں مجاہدین الحمد للہ بلند حوصلہ کے ساتھ قوت میں ہیں ۔ دشمن شدید گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہے ۔ اور اس گھبراہٹ کی وجہ سے وہ اپنے دفاع کی فکر میں ہے ۔ فاریاب کا مرکز میمنہ شہر گذشتہ سال سے جب سے خواجہ ناموسی کا ضلع فتح ہوا ہے مسلسل مجاہدین کے حملوں کی زد پر ہے ۔ اور ان شاء اللہ میمنہ کی فتح مجاہدین کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ فاریاب میں اب 4000 کے قریب فعال مسلح مجاہدین خدمت کررہے ہیں جن میں ازبک ، پشتون ، تاجک ، ترکمن اور عرب سب شامل ہیں ۔

بادغیس: صوبہ بادغیس کا ضلع تگاب عالم مکمل طورپر مجاہدین کے قبضے میں ہے ۔ بالامرغاب ، درہ بوم اور جوند کے اضلاع میں سے صرف مراکز دشمن کے پاس ہیں باقی پورے کے پورے اضلاع پر مجاہدین کا کنٹرول ہے ۔ ان کے علاوہ اس صوبے کے بقیہ اضلاع میں بھی اکثر علاقوں پر مجاہدین کا سکہ چلتا ہے ۔ جن اضلاع پر دشمن کا قبضہ برقرار ہے ان کے راستے بھی مجاہدین نے بند کررکھے ہیں ۔ دشمن وہاں موجود اپنے فوجیوں کو وسائل فضائی راستے سے پہنچاتا ہے ۔ ضلع غورماچ بہت عرصہ سے مجاہدین کے محاصرے میں تھا آج اور ابھی جب میں آپ سے بات کررہا ہوں تو غورماچ پر مجاہدین کے شدید فیصلہ کن حملے جاری ہیں امید ہے ان شاء اللہ مجاہدین کو فتح ہوگی۔بادغیس میں 6000 کے قریب مجاہدین خدمت کررہے ہیں ۔

سرپل : سرپل میں کوہستانات ، شرم ، الفتح اور البدر اضلاع پر مجاہدین کا قبضہ بہت مضبوط ہے ۔ یہاں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ البدر اور الفتح کے اضلاع جو پہلے ضلع کوہستانات کا حصہ تھے امارت اسلامیہ کی جانب سے عوامی اور عسکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں الگ کرکے دو اضلاع کا درجہ دیا گیا۔ صوبہ سرپل کے دیگر اضلاع میں صرف ضلعی مراکز یا مراکز کے ساتھ کچھ اور علاقے دشمن کے پاس ہیں باقی سارے علاقے مجاہدین کے پاس ہیں ۔ اس صوبے کا مرکز بھی مجاہدین کی مسلسل نظر میں ہے ۔ مرکز کے اکثر علاقے مجاہدین کے کنٹرول میں ہیں ۔ سرپل 2000 کے قریب مجاہدین موجودہیں ۔

جوزجان : اگرچہ رواں سال دوستم کے ہزاروں گلم جم ملیشیا کے اہلکار جوزجان میں موجود رہے ۔ ان کے فوجی آپریشن اور کارروائیوں سے مجاہدین کی پیش قدمی کا راستہ بند رہا ۔ مگر قوتشیپی اور درزآب کے اضلاع میں مراکز کے علاوہ تمام علاقے مجاہدین نے اپنی کنٹرول میں لے لیے ہیں ۔ پورے جوزجان میں آپریشنوں کا مقابلہ کرکے اپنی مضبوط صفوں کا قیام برقرار رکھا ۔ ان دو اضلاع کے علاوہ ہر ضلع میں مجاہدین نے گوریلا کارروائیاں کرکے دشمن کو خوب نقصان پہنچایا ہے ۔ قوت شیپی اور درز آب کے ضلعی مراکز بھی مجاہدین کے محاصرے میں ہیں اور فتح کی امید بہت زیادہ ہے ۔ جوزجان میں 2000 کے قریب مسلح مجاہدین جہاد میں مصروف ہیں ۔

غور: غور کے ضلع مرغاب میں مکمل طورپر مجاہدین حاکم ہیں ۔ دیگر اضلاع میں مجاہدین بہت فعال ہیں ۔ اکثر علاقوں کے صرف مراکز دشمن کے پاس ہیں ۔ غور میں بھی 2000 کے قریب مجاہدین امارت اسلامیہ کے جھنڈے تلے جہاد کررہے ہیں ۔

حلقے کے متعلقہ صوبوں میں الحمد للہ مجاہدین پورے اتحاد واتفاق سے جہاد کررہے ہیں اور کسی قسم کا کوئی لسانی ، علاقائی اور قومی اختلاف ان کے درمیان نہیں ہے ۔ ذمہ داران سے لے کر عام مجاہدین تک سب امارت اسلامیہ کی اطاعت کررہے ہیں ۔ اور امارت اسلامیہ جس کو ذمہ دار کے طورپر متعین کردیتی ہے اس کی اطاعت لازمی کرتے ہیں ۔  ابھی اس وقت بھی فاریاب کا گورنر سرپل کے ایک شہری ہے جو قوم کے اعتبار سے تاجک ہے ۔ اس کا نائب پشتون اور صوبائی کمیشن کا ذمہ دار ازبک ہے جو فاریاب کا رہنے والا ہے ۔ پورے فاریاب سے یہ نہیں سن پائیں گے کہ یہ ذمہ داران کیوں متعین کررکھے ہیں ۔ اسی طرح صوبہ غور کا گورنر ہلمند سے تعلق رکھتا ہے اور بادغیس کا گورنر دایکندی کا شہری ہے ۔ حلقے کے تمام صوبوں میں مجاہدین کے درمیان مثالی تعاون ، محبت اور یگانگت کی فضا قائم ہے ۔ اس کی مثال پیش کرنے کے لیے عرض کروں کہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی مجاہدین نے مل کر آپریشن کیے ۔ فاریاب ، بادغیس اور سرپل کے مجاہدین نے غور میں غور کے مجاہدین کے ساتھ مل کے بڑے آپریشن کیے ۔ مجاہدین کی تربیت اور اسلحہ کی فراہمی کا نظام بہت مضبوط اور فعال ہے ۔

صرف فاریاب کے معسکر سے حال ہی میں درجنوں کی تعداد میں مجاہدین فارغ ہوکر نکلے ہیں ۔ حلقے کے متعلقہ صوبوں کے مجاہدین کے پاس جنگ کے لیے اب بھی 20 بکتر بند گاڑیاں، 60 عام فوجی گاڑیاں ہیں ۔دشمن سے بڑی تعداد میں اسلحہ غنیمت میں آنے کے بعد الحمد للہ مجاہدین خود کفیل ہوگئے ہیں ۔ ضرورت کے مطابق بھاری اسلحہ بھی ہے مجاہدین کے پاس ، مثال کے طورپر مجاہدین کے پاس دوسال پہلے ایک دہشکہ بھی نہیں تھا اب الحمد للہ دس دہشکے موجود ہیں ۔

سوال:

آپ کی ذمہ داری کے حلقوں میں امارت اسلامیہ کے ساتھ عوامی تعاون کتنا ہے؟ امارت اسلامیہ کے ساتھ مجاہدین کے تعاون کی کچھ مثالیں اگر پیش کریں ؟

جواب:

حلقے سے مربوط صوبوں میں الحمد للہ مجاہدین کے ساتھ عوامی تعاون سو فیصد موجود ہے ۔ ان علاقوں کے لوگ مجاہدین کو اپنا محسن سمجھتے ہیں ۔ یہاں کے لوگ سابقہ چوروں ، لٹیروں اور ڈکیتوں کی ملیشیا سے تنگ آچکے ہیں ۔ ان کی جان ومال کے وہ خود مالک نہ تھے ۔ ظالمانہ ٹیکس وصول کیے جاتے رہے اور اگر کسی کو وہ لوگ قتل کردیتے تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، امارت اسلامیہ کے مجاہدین ان کے لیے نجات کے فرشتے ہیں ۔ مجاہدین کی حاکمیت کے علاقوں میں عوام باعزت زندگی گذارتے ہیں ۔ اسلامی عدالتوں میں عزت کی زندگی گذارتے ہیں ۔ ان کی شکایت سنی جاتی ہے اور انہیں اپنے تمام تر انسانی اور اسلامی حقوق میسر ہیں ۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے ہر طرح کا تعاون مثالی ہے ۔ اس کی چند مثالیں میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل صوبہ بادغیس کے بالامرغاب میں دشمن سے شدید جنگ ہوئی ۔ اس جنگ کے دوران علاقے کے لوگوں نے اپنے گھروں میں دنبے کاٹے ، گوشت بہت اچھی طرح پکایااور مجاہدین کے مورچوں تک پہنچایا ۔ جنگ کے شدید مراحل میں مجاہدین کو گوشت اور روٹی مورچوں تک پہنچائی ۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں گولیوں کی بارش میں جو لوگ مورچوں تک کھانا پہنچانے آئیں ان کی مجاہدین سے محبت کتنی ہوگی۔

فاریاب ضلع گرزیوان میں رمضان کے مہینے میں شدید لڑائی ہو جس میں ہمارے تین انتہائی بہادر ساتھی شہید ہوگئے ۔ میں شہداء کو دیکھنے کے لیے نیچھے آیاتو علاقے کے بہت سے بزرگ شہری اور علماء بھی شہداء کی زیارت کے لیے آئے تھے ۔ میں نے شہداء کے چہروں سے چادریں ہٹائیں اور ان کے چہرے نظر آئے تو وہاں موجود سب لوگ رونے لگے ۔ علاقے کے علماء اور بزرگ ایسے روئے کہ جیسے ان کے اپنے بیٹے شہید ہوئے ہوں ۔

اس کے ساتھ ساتھ اکثر علاقوں کے لوگوں نے مجاہدین کے لیے اسلحہ خریدااور اپنی مرضی سے کبھی کبھی رسد اور کمک فراہم کرتے ہیں ۔ میرے حلقے کے تمام صوبوں میں ، میں نے دیکھا ہے کہ جب جنگ شروع ہوجاتی ہے تو علاقے کے سارے لوگ خدمت کے لیے پہنچ جاتے ہیں ۔ جنگ میں کوئی زخمی ہوجائے تو ڈاکٹر ان کی خدمت اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ شہداء کی منتقلی کے لیے لوگ اپنی گاڑیاں خود لاکر حاضر کردیتے ہیں۔

سوال:

عمری آپریشن کے سلسلے میں رواں سال بہار کے موسم سے اب تک آپ کے علاقے میں کون سی پیش رفت ہوئی ۔ اس حوالے سے معلومات دیں ۔

جواب:

عمری آپریشن کے آغاز سے اب تک الحمدللہ ہمارے حلقے کے متعلقہ صوبوں میں مجاہدین نے بہت پیش رفت کی ہے ۔ جس میں وسیع علاقے دشمن کے قبضے سے آزاد کرائے گئے ہیں ۔ بڑے پیمانے پر دشمن کو جانی ومالی نقصان پہنچایا۔ان اضلاع کے نام ذرا تفصیل سے بتاتاہوں جہاں ابھی فتوحات ہوئی ہیں ۔

فاریاب:ضلع قیصار کے خواجہ ذات خوان ، ارکلیک وزعفران، بیدکی ، چکنک، آقمس ، بورہ غان اور طوی مست ، ضلع پشتونکوٹ کے خورترک، چند گاوں سمیت تیلان اور غنڈہ سنگ علاقے ، ضلع گرزیوان کے گنج اور تگاب ایشان کے علاقے ، ضلع شیرین تگاب کے آستانہ بابا ، ضلع لولاش کے دقدوق اور شورہ کے علاقے ، ضلع بندر کا نہستان ، ضلع بلچراغ کا کتہ قاش اور کارخانہ ، ضلع جمعہ بازار کا کلہ کلاں ، قرہ شیخ اور خواجہ قشری کا علاقہ اور ضلع المار کا قرایی کا علاقہ ۔

قرایی کا وسیع علاقہ عوام کی ضروریات اور عسکری نظم وضبط کی ضرورت کے تحت اسے باقاعدہ ضلع کا درجہ دیا گیاجس کا نام خیبر رکھا گیا۔

ان علاقوں میں سے اکثر علاقے اب بھی مجاہدین کے پاس ہیں کچھ علاقوں سے مجاہدین نے واپس عقب نشینی کرلی ہے ۔

بادغیس: ضلع قادس میں غیب علی اور لوگر کے علاقے ، ضلع جوند میں اربکیوں سے کوریج نامی علاقے کی صفائی ، غورماچ میں مستوخیلو کا علاقہ ، آب کمر میں اربکیوں کا سینہ اردو کے علاقے میں دس گاوں سے صفایا، ضلع مرغاب میں اکازو کے وسیع علاقے کا صفایا۔

سرپل: ضلع سنگ چارک میں مسجد سبز اور توپخانےکا علاقہ ، تاغای خواجہ اور تبر مہمی کا علاقہاور گجوا کا اہم علاقہ ۔ ضلع سوزمہ قلعہ میں چاریک ، تنزیل ، گورکاب اور دو مزید علاقوں سے دشمن کا صفایا۔

جوزجان: فیض آباد میں اربکیوں کے گرجک کا اہم اور اسٹریٹجک علاقہ اور ضلع سے مربوط 16 اہم گاوں ، ضلع قوشیپہ میں شیر بیگ اور دیگر وسیع علاقوں کا تصفیہ ، ضلع خانقاہ میں اربکیوں سے دس گاوں کا تصفیہ ، اور اب حال ہی میں ضلع قوت شیپہ میں چقمہ چقور کا علاقہ اور کلان کلا گاوں کی فتح

غور: ضع شینکوٹ میں شدید لڑائی میں بڑے علاقوں کی فتح ، ضلع ساغر کے بالائی حصے میں وسیع علاقے کی فتح۔ ضلع چخچران اور چہارصدی کے اضلاع میں سومک اور فلاخر کے وسیع علاقے اور شہرک کے اضلاع کے وسیع علاقوں میں مجاہدین کے ہاتھوں فتوحات۔

مذکورہ علاقوں کی فتح کے بعد مجاہدین نے آپریشن میں درجنوں چیک پوسٹیں اور عسکری مراکزبھی فتح کردیے اور سینکڑوں دشمنوں کو ہلاک اور زخمی کرڈالا ۔ اسی طرح ان کارروائیوں کے دوران مجاہدین نے دشمن کی بہت سی گاڑیاں اور طرح طرح کے اسلحے غنیمت میں حاصل کرلیے۔

سوال:

جنرل دوستم گذشتہ سال اور اس سال بار بار فاریاب ، جوزجان اور سرپل کے علاقوں میں آیا ۔ یہاں باربار فوج بھیجی اور مجاہدین کے ختم کرنے کے دعوے کیے ۔ ان کے ان دعووں کے حوالے سے کچھ معلومات دیں کہ یہ واقعی سچے تھے یا مجاہدین کے مقابلے میں شکست کھائی ؟

جواب:

آپ جانتے ہیں الحمد للہ دوستم گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی تمام کارروائیوں میں ناکام ہوکر لوٹا۔ دوستم چاہتا ہے کہ فوجی دباو ، مختلف فریبوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے پھر سے اپنا پرانا علاقائی اقتدار حاصل کرلے ۔ اور اپنے اثرورسوخ کے علاقے سے مجاہدین کو واپس پسپا کردے ۔ جب بھی آتا ہے ہزاروں کی تعداد میں اپنے ساتھ فوج لاتا ہے ۔ جو طیاروں اور ٹینکوں سے مسلح ہوتی ہے تاکہ مجاہدین پر بڑے حملے کردے ۔ مجاہدین کی مضبوط مزاحمت کے بعد مجاہدین کے درمیان قومی اور لسانی اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مجاہدین کو فون کرتا ہے اور وائرلیس پر گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم تو میری قوم کے افراد ہو تم کیوں پشتونوں کے ساتھی ہوگئے ۔ میرے پاس آجاو میں تمھیں خوب مالا مال کردوںگا۔ دولت ، عہدے اور ہر قسم کی آزادی دوں گا مگر مجاہدین جواب میں کہتے ہیں کہ تم کافر اور مرتد ہو ہم مسلمان ہیں ایک کافر اور مسلمان ایک دوسرے کے دوست کیسے ہوسکتے ہیں ۔ ہم اپنے دیگربھائیوں سے مل کر تمھارے خلاف جہاد کرتے ہیں ۔ دوستم یہاں سے جب مایوس ہوجاتا ہے تو عام لوگوں پر مظالم شروع کردیتا ہے اور عام لوگوں کو شہید کردیتا ہے ۔ انہیں قید کرتا ہے ۔ ان کے گھر لوٹ لیتا ہے ۔ اور پھر میڈیا پر طالبان کے خلاف آپریشن کی رپورٹیں دیتا ہے ۔ دوستم نے اپنے حالیہ کارروائیوں میں دولت آباد اور شیرین تگاب کے اضلاع میں بہت سے گاوں پر چڑھائی کی ۔ رمضان مبارک کے مہینے میں لوگوں کے درجنوں گھر جلا ڈالے ۔ بہت سے دکانوں کو آگ لگائی ، جن میں سے اکثر مبائلوں اور دیگر قیمتی اشیاء کی تھیں ۔ علاقے کے بہت سے لوگوں کو شہید اور زخمی کیا۔ علاقے سے 70 کے قریب بوڑھوں کو اپنے ساتھ لے کر گیا جن میں سے اکثر کسان اور چرواہے تھے ۔ لوگوں کے 50 عدد موٹر سائیکل اور سینکڑوں کی تعداد میں مویشی لے کر چلا گیا ۔ گھروں سے قیمتی برتن ، قالین ، بستر اور دیگر چیزیں لوٹ لیں ۔

سوال:

چند دن قبل امریکی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف ڈانفورڈ اور افغانستان میں ناٹو اور امریکی فوج کے عمومی کمانڈر جنرل نیکلسن نے بیانات کے سلسلے میں کہا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین رواں سال گرمی یا جنگی موسم میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کرپائے ہیں ۔

عکسری کمیشن کے ایک رکن اور امارت اسلامیہ کے ایک ذمہ دار کی حیثیت سے اس حوالے سے آپ کی رائے کیا ہے اور دشمن کے ہاں اس خبر کا مطلب کیا ہے؟

جواب :

امریکا اور اس کے کٹھ پتلیوں نے ہمیشہ یہ کوشش کہ ہے مجاہدین کی خدمات اور کمالات کو چھپاکر رکھیں ۔ رواں سال اگر مجاہدین کو کوئی کامیابی نہیں ملی ہے تو پھر نکلسن پینٹاگون میں یہ اعتراف کیوں کرتا ہے کہ کابل انتظامیہ اور مجاہدین کے درمیان رواں جنگ بالکل جام ہوچکی ہے ۔ یعنی کابل انتظامیہ طالبان کے مقابلے میں کوئی پیش رفت نہیں کرپارہی۔ اسی بات کی تائید اور تشریح پگواش تنظیم کے دارالانشاء کے سربراہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کی ۔ اس واضح طور پر کہا کہ حکومت طالبان کو شکست نہیں دے سکتی ۔ اس جنرل نے کیوں اعلان کیا کہ محض جولائی کے مہینے میں 900 فوجی طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں ۔ وزارت دفاع نے اگست کے مہینے میں رپورٹ جاری کی کہ 1000 کے قریب فوجی اس ماہ میں ہلاک ہوچکے ہیں ۔ ان کی باتیں کیسے دنیا کے لیے قابل تسلیم ہوسکتی ہیں جب امارت اسلامیہ نے ایک بارپھر قندوز فتح کردیا ۔ ہلمند ، ارزگان ، فراہ ، فاریاب اور سرپل کے مرکزی شہروں کے دروازوں پر مجاہدین دستک دے رہے ہیں ۔ میرے خیال میں اب وہ وقت گذرچکا جب امریکا لوگوں کو پروپیگنڈہ کرکے دھوکہ دیتا تھا۔ ہمیں اطمینان ہے کہ ہمارے عوام کو مجاہدین کی کامیابیوں کا خوب اندازہ ہے اور وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔

سوال:

جنابف شیخ صاحب ہماری معلومات کے مطابق اس سے قبل آپ کی زندگی کا بڑا حصہ دینی علوم کی تعلیم وتعلم میں گذرا ہے ۔ مگر حال میں آپ نے مسلح جہاد کا رخ کیا ۔ وجہ کیا تھی ؟ آپ نے جہاد کو کیوں اتنا ضروری سمجھا کہ اس کے لیے تدریس کی قربانی دی ۔ مہربانی فرماکر جہاد کی اہمیت اور ضرورت کے حوالے سے کچھ وضاحت کردیں۔

جواب:

دینی علوم کی تدریس کے دوران میں تدریس کے ساتھ ساتھ جہادی خدمات بھی انجام دیتا تھا ۔ حتی کہ موقوف علیہ اور دورہ حدیث کے سال بھی ۔ مگر تدریس کے دوران زیادہ وقت تدریس کو دیا ۔ جب امیرالمومنین شہید رحمہ اللہ کی جانب سے مجھے موجودہ عہدہ حوالہ کیا گیا تو ساتھ یہ ہدایت بھی کی کہ تمھارا مقصد اصلی جہادی خدمت ہوگا ۔ ساتھ میں تدریس بھی کرتے رہنا ۔ اگرچہ امیر کی جانب سے تدریس کی جانب تھی مگر سونپی گئی ذمہ داری کو کماحقہ ادا کرنے کے لیے مجاہدین کے ساتھ مورچوں میں رہنا ، ان کے کاموں کو بہت قریب سے دیکھنا اور اصلاح کی کوشش ، پیش رفت کا جائزہ یہ سب کچھ آسان نہ تھا۔ تفسیر ، احادیث مبارکہ ، فقہہ اور دیگر علوم کی تدریس واقعتا ایک بڑی خدمت ہے اور اسے پورا کرنا لازمی ہے مگر محاذوں کو بھی علماء کرام کی اشد ضرورت ہے ۔ وہ مجاہد جو اسلام ، مدارس ، اسلامی سرزمین اور ناموس کے دفاع کی خاطر سروں کی قربانیاں دے رہے ہیں ۔ اپنی پڑھائی اور دنیا کے کام چھوڑ کر آئے ہیں ۔ کئی کئی ماہ تک شدید حالات میں رہتے ہیں ان کا علماء پر حق ہے کہ علماء ان کی رہنمائی کریں ۔ اور انہیں اطمینان دلائیں کہ تمھارے اساتذہ بھی تمھارے ساتھ محاذوں پر موجود ہیں ۔

سوال:

آپ کے خیال میں جہاد کے آداب کون سے ہیں؟ مجاہد کو اپنی دن رات کی زندگی کیسی گذارنی چاہیے ؟ مختصرا اگر ایک سچے اور معیاری مجاہد کی صفات بتادیں ؟

جواب:

وہ مجاہد جو جہاد کے آداب کا خیال رکھے اور اپنے آپ میں یہ سب چیزیں پیدا کرے ۔ اسے ہم حقیقی مجاہد کہہ سکتے ہیں ۔ مجاہد ہمیشہ اللہ کا ذکر کرے ، مجاہد مخلص ہو ، ریا کاری سے بچے ، تقوی دار ہو اور فسق وفجور سے بچتا ہو ، اپنے امراء کی اطاعت کرے ، سچ بولے ، غدار نہ ہو ، تکبر اور خودپسندی سے دور ہو ، مجاہد صابر اور شاکر ہو، میدان جنگ میں ثابت قدمی دکھائے ، اچھی تدبیر کا مالک ہو ، جنگ میں لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کا خیال رکھے ، اپنے اسلحہ کی خوب حفاظت کرے ، اختلافات سے خود کو بچائے ، ایثار کی صفت اپنے آپ میں پیدا کرے اور ساتھیوں کے ساتھ بہترین رویہ رکھے یہ سب ایک بہترین اور آئیڈیل مجاہد کے اخلاق ہیں ۔

سوال:

جہاد ایک انتہائی مشکل راستہ ہے ۔ اتنا سخت کہ اس کا نام ہی مشقتیں سہنے اور کوشش کرنے سے لیا گیا ہے ۔ اس راہ کے کچھ مراحل میں کبھی کبھی مجاہدین کو مایوسی سی محسوس ہوتی ہے اور کبھی عزم اور حوصلہ ٹوٹ ساجاتا ہے ۔ آپ کے خیال میں وہ کون سے اسباب ہیں جو مجاہد کا عزم ہمیشہ مضبوط رکھتے ہیں ۔ اور ایک آدمی کو ایک ناقابل شکست اور کفر کے خلاف ایک ناقابل تسخیر مجاہد بنادیتے ہیں ۔

جواب :

جہاد واقعتا ایک سخت اور کھٹن راستہ ہے ۔ شہادتیں ، زخم اور قید اس کے لازمی اشیاء ہیں ۔ مگر ایک مومن جب اتنی تکالیف کے باوجود بھی جہاد کا راستہ اختیارکرتا ہے یہ اللہ تعالی کی عطا اور دل میں ایمان کی روشنی کی برکت ہوتی ہے ۔ جو دنیا میں فرضیت کی ادائیگی اور آخرت میں اللہ کی رضا اور جنت کے دخول کی نیت سے کی جاتی ہے ۔ اتنی بڑی فرضیت کی ادائیگی میں شیطان بھی اتنی ہی کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح انہیں روک دیں ۔ مجاہد اگر جنگ میں حوصلہ ہارتا ہے یا کود کو کمزور سمجھتا ہے تو اسے چاہیے اس کو شیطان کی چال سمجھے ۔ اور اس سے بچنے کے لیے کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی جانب رجوع کریں ۔ اللہ تعالی کا ارشادپاک ہے : وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ إِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا، و قال الله تعالی : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ – و قال الله تعالی : وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ۔ اللہ تعالی مجاہد کو ثابت قدم رہنے کا حکم دیتا ہے ۔ ہمت ہارنے اور سستی سے منع کرتا ہے ۔ اپنی مشکلات پر صبرکرنی ہوگی اس کی شکایت نہین کرے گا اور صبر میں مقابلہ یہ کہ کفار کے ساتھ صبرمیں مقابلہ کیا جائے ۔ اگر کافر اپنی آسودہ زندگی چھوڑ کر اتنے دور دراز سے یہاں آتے ہیں اور آکر آپ کے پہاڑوں میں آپ سے لڑتے ہیں ایک مسلمان کو تو ہزار مرتبہ جہاد کے لیے اٹھنا چاہیے ۔ اسی نیت سے جہاد کرے کہ زندہ ہوں تو اللہ تعالی ان قربانیوں کا بدلہ دیں گے ۔ شہید ہوجاوں تو اللہ تعالی اپنی رضا اور جنت دیں گے ۔ کافر کو تو اللہ تعالی سے یہ امید بھی نہیں ۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے عظیم پیغمبر نے مجاہدین کے ساتھ محاذوں پر کتنی تکالیف اٹھائی ہیں ۔ آپ کا مبارک خون گرا ہے اور آپ زخمی ہوئے ہیں ۔ بہت سے صحابہ کرام شہید ہوئے ہیں ۔ ان تکالیف کے باوجود نہ صحابہ کا عزم ٹوٹا ہے نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مایوس ہوئے ہیں ۔ اب یہ ذمہ داری ہم تک پہنچی ہے ۔

یہ ساری باتیں اگر ایک مجاہد ذہن میں رکھے تو پھر کیوں اپنا عزم ہار جائے گا ؟ کیوں جہاد سے اکتا جائیں گے؟

سوال

آخر میں افغان عوام اور ہمارے قارئین کے لیے کوئی پیغام ہوتو ہمارے ساتھ شریک کریں ۔

افغانستان کے مجاہد عوام اور آپ کے قارئین کے لیے میراپیغام یہ ہے کہ تاریخ کے اس حساس ترین مرحلے پر ہرطبقے کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داریاں پہچانیں۔علمائے کرام ، شعراء وخطباء ، ادیب اور دانشور ، صاحب ثروت لوگ اور عام مسلمان اپنا کردار ادا کریں اور اپنے مجاہدین کی پشت پر کھڑ ہوکر ہر حوالے سے ان کی مدد کریں اور انہیں مالا مال کردیں۔امارت اسلامیہ افغانستان دنیا بھر کے مسلمانوں کی واحد جہادی تحریک ہے جس کی جانب لوگوں کی امید کی نگاہیں اٹھتی ہیں ۔ افغان عوام نےامریکی جارحیت کے بعد سے اب تک بہت سی قربانیں دی ہیں ۔ مجاہدین کے ساتھ اپنی بساط کے مطابق ہر طرح کا تعاون کیا ہے ۔ میں ان کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں ۔ جارحیت پسندوں اور ان کے غلاموں کے خلاف جنگ کی طوالت اور کفری دنیا کے مکارانہ شیطانی پروپیگنڈے کی پروا نہ کریں ۔ اپنے مجاہد بچوں کےساتھ مضبوطی سے کھڑے رہو ۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالی کی نصرت اور مجاہد عوام کی بے دریغ قربانیوں سے ہی اللہ تعالی اس سرزمین پر اسلامی نظام قائم کرے گا۔ اور یہ عظیم قوم اسلامی نظام کے سائے میں آرام اور سکون کا سانس لے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*