اسٹریٹجک اہمیت کا ضلع سنگین فتح ہو گیا

آج کی بات:

 

امارت اسلامیہ کے غیور مجاہدین نے افغانستان بھر میں وسیع فتوحات کے سلسلے میں صوبہ ہلمند کے اہم ضلع "سنگین” پر مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ ضلع سنگین کا مرکز گزشتہ ایک ماہ سے مجاہدین کے محاصرے میں تھا۔ کابل انتظامیہ غیرملکی حملہ آوروں کی فضائی مدد کے باوجود اس اہم ضلع کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ جب کہ وہ گزشتہ رات راہ فرار اختیار کر کے علاقے سے غائب ہو گئی ہے۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے خبر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع سنگین میں کابل حکومت کے محصور مسلح اہل کار گزشتہ رات طیاروں کے ذریعے یہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد غیرملکی حملہ آوروں نے ضلعی ہیڈ کوارٹر اور پولیس ہیڈ کوارٹر پر بمباری کر کے دونوں عمارات کو کھنڈر بنا دیا ہے، تاکہ وہ عمارتیں مجاہدین کے کام نہ آ سکیں۔ تاہم وہاں موجود دشمن کے ساز و سامان اور گاڑیوں کو بہت کم نقصان پہنچا ہے، جنہیں مجاہدین نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

ضلع سنگین کی ضلعی عمارت کے علاوہ باقی تمام علاقوں پر پہلے ہی سے مجاہدین کا کنٹرول تھا۔ مجاہدین نے گزشتہ ماہ ضلعی ہیڈ کوارٹر اور دفاعی چوکیوں پر حملے کیے تھے۔ جب کہ شہر کو فتح کر کے ضلعی مرکز کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ غیرملکی حملہ آوروں نے کابل انتظامیہ کی درخواست پر سنگین شہر اور اردگرد کے علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حتی کہ ایک رات کی بمباری میں خواتین اور بچوں سمیت 39 شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک مسجد شہید اور کئی مکانات بھی تباہ ہوگئے ہیں۔ قابض درندوں نے ایک دن بعد دوبارہ بمباری کر کے 15 شہریوں کو شہید اور زخمی کر دیا ہے۔

دشمن بہت کوشش اور مسلسل فضائی حملوں، گولہ بارود برسانے اور رات گئے خفیہ چھاپے مارنے کے باوجود مجاہدین کو شکست دینے اور ضلعی ہیڈکوارٹر کا محاصرہ توڑنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ کابل انتظامیہ قابضین کی مکمل حمایت کے باوجود نہ صرف مجاہدین کو پسپا نہ کر سکی، بلکہ اجرتی فورسز نے ضلعی ہیڈ کوارٹر میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے بجائے راہ فرار اختیار کی ہے۔

ضلع سنگین میں بہت سارے امریکی اور برطانوی فوجیوں نے اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔ یہاں مسلسل اور خونریز جھڑپوں اور حملوں نے بہت سے قابض جرنیلوں کو دن میں تارے دکھا دیے ہیں۔ وہ افغانستان پر قبضے کا خواب دیکھنا ترک کر گئے ہیں۔ انگریز دشمن کے اعتراف کے مطابق ضلع سنگین میں مجاہدین کے ہاتھوں سو سے زائد دشمن فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ حقیقی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ کرزئی اور اشرف غنی کی قیادت میں کابل انتظامیہ نے سرتوڑ کوششں کی تھی کہ ضلع سنگین پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے، تاہم زیادہ جانی نقصان اٹھانے کے باوجود وہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہو گئی ہے۔

ضلع سنگین اسٹریٹجک لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ضلع قندھار اور ہرات کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کے قریب واقع ہے۔ ضلع کجکی کا راستہ بھی یہیں سے گزرتا ہے۔ اس ضلع کو شمالی ہلمند کا دروازہ قرار دیا جاتا ہے۔ اب مجاہدین ضلع سنگین پر کنٹرول قائم کرنے کے بعد بآسانی قندھار کے ضلع میوند تک آمدورفت رکھ سکتے ہیں، جس سے دشمن کی سپلائی لائن کاٹ دی گئی ہے۔ ضلع سنگین کی فتح مجاہدین کے لیے بے حد اہم کامیابی اور دشمن کے لیے رسوا کن شکست سمجھی جا رہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*