مولوی نوراللہ منیب کے ساتھ خصوصی نشست

فوجی کمیشن کے ارکان کے ساتھ انٹرویوز کے سلسلے میں اس بار امارت اسلامیہ کی جانب سے تین صوبوں میدان وردگ، غزنی اور زابل کے فوجی کمیشن کے انچارج ’مولوی نوراللہ منیب‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا گیا، جس میں جہادی حالات اور دیگر امور پر سیرحاصل بات چیت ہوئی ہے۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں!

سوال:  محترم منیب صاحب! آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ سب سے پہلے گزشتہ سال صوبہ زابل، غزنی اور میدان وردگ میں عسکری کمیشن کے ماتحت زون کے کردار اور سکیورٹی کی صورت حال سے آگاہ کیجیے۔

جواب:  جب ہم نے ان صوبوں میں کام کا آغاز کیا تو مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ صوبائی گورنروں، ضلعی گورنروں اور صوبائی کمیشن کے ارکان، عسکری قیادت اور جہادی امور کے مختلف عہدے داروں کے ساتھ ملاقاتیں کی گئیں۔ ان سے عسکری کارروائیوں کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس تمام بات چیت اور مشاہدات کو منظوری کے لیے اعلی قیادت کی طرف بھیج دیا گیا۔ بعدازاں ان منصوبوں کو عملی شکل دینے اور وسائل فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ کام کا آغاز ہوا۔ ہمارے کمیشن کے ارکان نے تمام صوبوں میں سال بھر جہادی کارروائیوں کی نگرانی کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور اس حوالے سے اپنی گزارشات اور تجاویز پر مشتمل رپورٹ قیادت تک پہنچائی  گئی۔جب کہ تمام صوبوں میں جہادی سرگرمیاں بہتر پیش رفت کے ساتھ جاری رہیں۔ مجاہدین کے حوصلے بلند اور دشمن مغلوب تھا۔ عمری آپریشن کے دوران ان تمام صوبوں میں بہت سی کارروائیاں کی گئیں۔ مثلا صوبہ غزنی کے ضلع شلگر میں دہشت گرد ملیشیا کی طاقت توڑ دی گئی ہے۔ اس ضلع میں دشمن نے قبائلی رہنماؤں کو بغاوت پر اکسانے کی بہت کوشش کی تھی۔ اس کے لیے بڑی رقم خرچ کی گئی اور پروپیگنڈہ بھی کیا گیا، تاہم مجاہدین نے اللہ کے فضل سے دشمن کی اس مذموم کوشش کو ناکام بنا کر  ضلعی عمارت کے علاوہ باقی تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ اسی طرح ضلع گیرو میں بھی مجاہدین نے کارروائیاں کر کے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اسی طرح ضلع واغز بھی مجاہدین نے مکمل طور پر فتح کر کے وہاں سفید پرچم لہرا دیا ہے۔ ’کابل قندھار شاہراہ‘ مجاہدین کے کنٹرول میں ہے۔ گزشتہ سال کے مجاہدین نے کئی بار اس اہم شاہراہ کو بلاک کر کے دشمن کی آمد و رفت روک دی تھی۔ اسی شاہراہ پر کئی بار دشمن کے اڈوں اور قافلوں پر حملے کیے گئے۔ مجاہدین غزنی شہر میں گوریلا سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جس سے دشمن حواس باختہ ہے۔ مجموعی طور پر مجاہدین کی سرگرمیاں اور جہادی صورت حال تسلی بخش ہے۔

سوال:   گزشتہ سال کے مجاہدین نے غزنی، زابل، میدان وردگ میں کتنے حملے کیے؟

جواب:  ہماری معلومات اور اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال صوبہ غزنی میں دشمن کے 1ہزار 2سو ستاون اہل کار ہلاک اور 1ہزار   34 زخمی ہوئے۔ دشمن کے 134 ٹینک، 55 فوجی گاڑیوں، 12 بکتر بند گاڑیاں، 22 موٹرسائیکلیں اور 11 فوجی ٹرک تباہ کیے گئے۔ جب کہ غزنی میں 5 ٹینک، 3 فوجی گاڑیاں، 9 موٹر سائیکلیں، 83 عدد کلاشنکوفیں، 16 مشین گنیں، 4 ٹائمر بم، 6 راکٹ لانچر،9 عدد جی تھری، 4 راکٹ فیوز، 16 عدد مارٹر گولے،4 راؤنڈز، 4 عدد پستول، 1 عدد آر پی جی توپ سمیت بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود غنیمت میں حاصل کیا ہے۔ صوبہ غزنی میں گزشتہ سال کے دوران 124 مجاہدین شہید اور 87 زخمی ہو گئے۔ صوبہ زابل میں گزشتہ سال کے دوران مجاہدین نے دشمن کی چوکیوں اور فوجی گاڑیوں پر 629 بم دھماکے اور حملے کیے، جن کے نتیجے میں دشمن کے 472 اہل کار ہلاک اور 376 زخمی ہوئے۔ علاوہ ازیں اس صوبے میں دشمن کے 51 سپاہیوں نے امارت اسلامیہ کے آگے سرنڈر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال صوبہ زابل میں دشمن کے مالی وسائل کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ 110 فوجی گاڑیاں اور 58 ٹینک مجاہدین کے حملوں کے نتیجے میں تباہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ سال زابل میں 43 مجاہدین شہید اور 58 زخمی ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال صوبہ میدان وردگ میں مجاہدین نے دشمن پر 326 حملے اور 115 بم دھماکے کیے۔ جن کے نتیجے میں دشمن کے 450 فوجی ہلاک اور 275 زخمی ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں دشمن کے 99 ٹینک اور 136 فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا گیا۔ جب کہ 7 چیک پوسٹوں اور ایک بڑا فوجی اڈہ بھی فتح ہوا۔ ان تمام جہادی کاروائیوں کے دوران صوبہ میدان وردگ میں 118 مجاہدین زخمی اور 48 شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہوئے۔

سوال:   یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنگ کے دوران عام شہریوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ افغانستان میں بھی شہریوں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی ایجنسیاں اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہمیشہ مجاہدین پر ہی یہ الزام عائد کیا ہے کہ شہری ہلاکتوں میں وہ ملوث ہیں۔ آپ شہری ہلاکتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:  یہ حقیقت واضح ہے کہ کوئی بھی جنگ شہری ہلاکتوں سے محفوظ نہیں ہے۔ جن علاقوں میں جنگ ہوگی، وہاں عام شہریوں کو نقصان پہنچنا ایک حقیقت ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین اسلامی تعلیمات پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اسلام ایک انسان کس قدر اہمیت دیتا ہے! کسی انسان کا ناحق خون بہانا شریعت میں کتنا بڑا جرم قرار دیا گیا ہے! مجاہدین اس حقیقت سے واقف ہیں۔ اسی لیے امارت اسلامیہ نے اپنے انتظام میں شہری ہلاکتوں سے بچاؤ کے لیے ایک خصوصی ادارہ قائم کیا ہے، افغانستان بھر میں اس کا انتظام  فعال ہے۔ اس ادارے نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اس ادارے کے ارکان ہمیشہ مجاہدین کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی واقعے میں مجاہدین کی جانب سے عام شہریوں کو کچھ نقصان پہنچتا ہے تو یہ ادارہ فوری طور سے تحقیقات شروع کر کے غم زدہ خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے۔ اس ادارے کی کوششوں سے امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔

گزشتہ سال شہری ہلاکتوں کے واقعات کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ شہری ہلاکتوں کے بہت سے واقعات میں دشمن ملوث رہا ہے۔ میدان وردگ میں شہری ہلاکتوں کے 36 واقعات رونما ہوئے، جن میں 41 عام شہری شہید اور 77 زخمی ہوئے۔ ان میں 25 واقعات دشمن کی جانب سے رونما ہوئے۔ تین واقعات عام شہریوں کے آپس کے اختلافات کی بنیاد پر ہوئے۔ تین واقعات ٹریفک حادثات اور پانچ واقعات مجاہدین کی جانب سے رونما ہوئے۔ صوبہ غزنی میں مجموعی طور پر 33 واقعات رونما ہوئے، جن میں 27 واقعات میں حکومت ملوث تھی، جب کہ 6 واقعات میں مجاہدین کے ہاتھوں سامنے آئے۔ اسی طرح زابل میں 21 شہریوں کے قتل کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ جن میں سےاکثر واقعات میں دشمن ملوث تھا۔

سوال:   دشمن ہمیشہ یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ صوبہ زابل کے ضلع خاک افغان میں داعش موجود ہے۔ داعش کے جنگجو اس ضلع کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں اور متعدد علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے۔ آپ ان رپورٹس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:  حال ہی میں اس پروپیگنڈے نے زور پکڑا ہے۔ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ افغانستان میں داعش کو حقیقت سے کئی گنا زیادہ ظاہر کرے۔ ایک سال قبل ضلع خاک افغان اور ضلع ارغنداب میں ایسے افراد موجود تھے، جو داعش سے اپنا تعلق ظاہر کرتے تھے۔ انہوں نے متعدد علاقے میں کچھ مشکلات اور مسائل بھی پیدا کیے تھے،  لیکن امارت اسلامیہ نے گزشہ سال اس علاقے میں وسیع پیمانے پر کارروائی کر کے پورا علاقہ کلیئر کر کے یہاں سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اب خاک افغان اور دیگر علاقوں میں مکمل امن اور امارت اسلامیہ کی عمل داری قائم ہے۔ وہاں ہمارے مجاہدین موجود ہیں۔ مَیں نے خود اپنے گورنر صاحب اور دیگر صوبائی حکام کے ساتھ ان علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا ہے، وہاں علاقے کے عوام اور مجاہدین کے ساتھ ملاقاتیں کیں، عوام نے مجاہدین کے تعاون اور قیامِ امن پر مسرت کا اظہار کیا۔ لوگ سکون کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان علاقوں میں امن قائم ہے۔ سکیورٹی کی صورت حال بہت بہتر ہے۔ یہاں داعش موجود ہے اور نہ ہی دوسرے شرپسند عناصر موجود ہیں۔ ان تمام علاقوں میں امارت اسلامیہ کی حکمرانی ہے۔

سوال:   امارت کے زیر کنٹرول علاقوں میں عوام اور مجاہدین کے درمیان تعلقات کیسے ہیں؟ ان علاقوں میں عدلیہ اور تعلیم و تربیت کی صورت حال کیسی ہے؟

جواب:  عسکری کمیشن کے ماتحت ہمارے حلقے کے ارکان کی ذمہ داریوں میں مجاہدین کی نگرانی بھی ہے۔ اس سلسلے میں عوام کے ساتھ مجاہدین کے تعلقات اور عوام کی شکایات کی سماعت بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ہمارا زیادہ تر تعلق بھی عوام کے ساتھ ہے۔ اٹھنا بیٹھنا بھی ان کے ساتھ ہے۔ ہم دیہاتوں میں عوام کے ساتھ ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ان کی شکایات اور تجاویز کو ہم سنتے اور نوٹ کرتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ عوام کے ساتھ مجاہدین کا تعلق اور سلوک بہت بہتر ہے۔ ماضی میں کبھی کبھی ہم اس حوالے سے شکایات سنتے تھے، لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ صورت حال تبدیل ہو چکی ہے اور مجاہدین  بھی اس کی اہمیت محسوس کر چکے ہیں۔

پورے افغانستان کی طرح ان صوبوں میں بھی امارت اسلامیہ کی عدالتیں قائم اور کام کر رہی ہیں۔ عوام بھی ان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ عوام اپنے مسائل کے حوالے سے انہی عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارا نصب العین اور مشن اسلامی نظام کا قیام ہے، جو عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ امارت اسلامیہ نے بھی اس کی ضرورت و اہمیت کے پیش نظر نظامِ عدالت کو اولین ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔ اپنی بھرپور توجہ اسی طرف مرکوز کر رکھی ہے۔ اعلی عدلیہ کی جانب سے ججوں کی تربیت کے لیے وقتا فوقتا سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بار بار وفود بھیجے جاتےہیں،  تاکہ تمام علاقوں میں قریب سے عدالتوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔ اللہ کے فضل و کرم سے عدالتوں کی کارکردگی میں مزید بہتری آ رہی ہے۔ امارت اسلامیہ تعلیم و تربیت اور شعبہ صحت پر بھی بھرپور توجہ دیتی ہے۔ اب تمام علاقوں میں مدراس، دارالحفاظ اور اسکولز فعال ہیں، جن میں نئی نسل تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہی ہے۔ مثلا صوبہ میدان وردگ میں ابھی ہمارے اعداد و شمار کے مطابق 93ہزار 5 سو تیرہ بچے عصری تعلیمی اداروں میں حاضر ہیں، جب کہ 12ہزار  78 بچے دینی مدارس اور دارالحفاظ میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

سوال:   آپ جانتے ہیں امارت اسلامیہ نے مجاہدین کو ہمیشہ تاکید کی ہے کہ وہ عوامی مفاد کے منصوبوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ان تمام منصوبوں کی حمایت کریں، جو عوام کے مفاد میں ناگزیر ہوں۔ اس حوالے سے حال ہی میں ایک اعلامیہ بھی شایع ہوا تھا، تاہم دشمن اب بھی یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ مجاہدین عوامی مفاد کے منصوبوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ راستوں اور پلوں کو تباہ کیا جاتا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

جواب:  مجاہدین بھی افغانستان کے باسی اور اسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنی قوم اور مسلمان عوام کے مفادات کا تحفظ ان کا بنیادی ہدف ہے۔ اس لیے عوامی مفاد کے حامل منصوبوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، بلکہ ان کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ ان کا تحفظ بھی یقینی بناتے ہیں۔ مجاہدین کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ جب کسی علاقے میں کارروائی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو وہ وہاں موجود عوامی مفاد کے منصوبوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ کارروائی کے لیے ایسا نقشہ بنایا جاتا ہے، جن سے عوامی افادیت کے حامل منصوبوں کو نقصان نہ پہنچے۔ ہماری جانب سے بھی مجاہدین کو ہمیشہ یہی تاکید کی جاتی ہے۔ مجاہدین عوامی افادیت کے حامل منصوبوں کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے چند مثالیں موجود ہیں۔ مثلا حال ہی میں صوبہ میدان وردگ میں 70 کلومیٹر سڑک کا تعمیراتی کام جاری ہے۔ مجاہدین نے سڑک کا تعمیراتی کام کرنے والوں کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔ اسی طرح کابل سے بجلی کی فراہمی کا منصوبہ شروع ہوا ہے۔ اس کے کھمبے لگائے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبہ میدان وردگ سے گزر کر اب غزنی میں اس پر کام شروع ہے۔ یہ تمام علاقے مجاہدین کے کنٹرول میں ہیں۔ مجاہدین کی طرف سے انہیں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ جب کہ مجاہدین نے ان کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ مجاہدین ان تمام منصوبوں کا خیرمقدم اور ان کی حفاظت کرتے ہیں، جو عوام کے مفاد میں اور اسلامی اصولوں کے مطابق ہوں۔ کیوں کہ امارت اسلامیہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خود بھی منصوبے بنا رہی ہے اور مختلف علاقوں میں سڑکیں تعمیر کر رہی ہے۔

سوال:   یہ بتائیں کہ دشمن کس حال میں ہے؟ بظاہر لگتا ہے وہ حواس باختہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے؟

جواب:  جی ہاں! اگر ہمارے مجاہدین مکمل دیانت، اخلاص اور تقوی کے ساتھ جہاد کا فریضہ انجام دیتے رہیں تو اللہ تعالی کی مدد ضرور شامل حال رہے گی۔ مجاہدین کے ساتھ اللہ کی نصرت یہ ہے کہ اِنہیں رعب و دبدبہ دیا گیا ہے۔ ان کا دشمن مرعوب ہے۔ جس طرح اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد انہیں رعب دینے اور دشمن کو مرعوب کرنے کی صورت میں کرتا تھا۔ دشمن اب حواس باختہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اُس پر مجاہدین کا رعب ہے۔ یہ مجاہدین کے ساتھ اللہ تعالی کی مدد کی علامت ہے۔ مجاہدین کے لیے ضروری ہے کہ دیانت داری، اخلاص اور تقوی میں مزید اضافہ کریں۔ عسکری کمیشن نے بھی مجاہدین کی تربیت اور اصلاح پر بھرپور توجہ دے رکھی ہے۔ مختلف مواقع پر تربیتی سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مجاہدین کو عسکری تربیت دینے کے علاوہ نظریاتی اور فکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔

سوال:   آپ کا شکریہ! ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا۔ آخر میں آپ عوام اور مجاہدین کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

جواب:  عوام کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہماری قومیت مسلمان ہے۔ اسلام میں علمائے کرام اور مجاہدین قوم کی قیادت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے اہل ہیں۔ ہم اپنے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مجاہدین اور علمائے کرام کی بھرپور حمایت کریں۔ مجاہدین کے لیے جانی و مالی قربانی دینے اور اپنے علاقوں میں مجاہدین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔ جس طرح اب تک عوام مجاہدین کی حمایت میں پیش پیش ہیں، امید ہے وہ آئندہ بھی مجاہدین کی اسی طرح حمایت کرتے رہیں گے۔ اسی طرح مجاہدین کو بھی یہ پیغام دیتا ہوں کہ وہ خود میں اپنی قوم اور عوام کی بلاامتیاز خدمت کا جذبہ پیدا کریں۔ جس طرح طاغوتی قوتوں کے خلاف لڑنے کے لیے کمربستہ ہیں، اسی طرح عوام کی خدمت کے لیے بھی اسی جذبے کے ساتھ کمربستہ ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*