کابل انتظامیہ اینٹلی جنس حکام کے دعوؤں اور قیدیوں کی پھانسی کے متعلق ترجمان کا بیان

بدھ کےر وز ۰۵/ رمضان المبارک کابل میں ہونے والے دھماکہ کے بعد امارت اسلامیہ نے فی الفور ملوث ہونے کی تردید کی اور واقعہ کو مسترد کی،کابل انتظامیہ کی اینٹلی جنس مشینری نے اپنی ناکامی،  اپنے آقاؤں کی سازشوں کو چھپانے اور عام اذہان کو مغشوش کرنے کی خاطر کچھ دیر بعد دعوہ کیا کہ اس واقعہ میں امارت اسلامیہ اور باالخصوص حقانی صاحب کے مجاہدین ملوث ہیں  !!؟

ہم ایک بار پھر کابل واقعہ میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی  مداخلت کو مسترد کرتے ہیں، بشمول حقانی صاحب کے مجاہدین  ہمارے کسی مجاہد    کا اس واقعہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی شہریوں کی قتل سے امارت اسلامیہ کو فائدہ پہنچتی ہے۔

کابل انتظامیہ کوشش کرتی ہے کہ اس سانحے کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کریں۔اپنی نااہلی، ناتوانی اور واقعات کے خلاف تذبذت کو بےبنیاد الزامات سے جواز بخشے ۔

دوسری جانب رپورٹیں موصول ہوئیں کہ  آج جمعرات کےروز کابل انتطامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے 11 مظلوم قیدیوں کو پھانسی دینے کا حکم دیا۔ہم ایک بار پھر خبردار کرتے ہیں کہ اگر کوئی مظلوم قیدی کو نقصان پہنچا، تو کابل انتظامیہ کے تمام مربوطہ  ادارے، اسٹیک ہولڈر اور عدالتی نظام مجاہدین کے تابڑتوڑ حملوں کے زد میں آئینگے اور مستقبل میں ہونے والے واقعات اور ہر قسم کی نقصانات کی ذمہ داری صرف کابل انتظامیہ پر عائد ہوگی، یہ کہ کابل انتظامیہ بے اختیار ہے اور اس کے تمام فیصلے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر عملی کیے جاتے ہیں، تو امارت اسلامیہ کے پاس بیرونی قیدیوں کو کابل انتظامیہ کے اس جرم کے انتقام میں نقصان پہنچا، تو اس کی ذمہ داری بھی  انہی شہریوں کے ممالک  پر ہوگی۔

قیدیوں کو پھانسی کے متعلق ہم بین الاقوامی، انسانی تنظیموں اور قانونی اداروں کو متوجہ کرتے ہیں، کہ قیدیوں کو پھانسی دینے او ر اس جرم میں قربان کرنا ، جس میں درحقیقت ان کا کوئی کردار اور مداخلت نہیں ہے، یہ غیر انسانی اور عالمی قوانین کے خلاف ہے۔انہیں چاہیے کہ  اس کے روک تھام میں اہم کردار اور اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ افغانستان

۰۶ / رمضان المبارک  ۱۴۳۸  ھ  بمطابق یکم جون ۲۰۱۷ ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*