امارت اسلامیہ کے نائب امیر کے صوتی پیغام کے اہم نکات

وطن عزیز میں شہری نقصانات کے حالیہ المناک حادثات کے متعلق امارت اسلامیہ کے نائب جناب ملا سراج الدین حقانی صاحب نے صوتی پیغام نشر کی،جس میں ایک جانب ان حادثات کے قربانیوں کیساتھ امارت اسلامیہ کی ماتمی ظاہر کرتی ہے اور دوسری طرف شہری نقصانات کے روک تھام کے بارے میں امارت اسلامیہ کی پالیسی کو واضح کرتی ہے۔ جناب حقانی صاحب نے ظاہر کردی، کہ امارت اسلامیہ کبھی بھی ایسا عمل انجام نہیں دیتی،جس میں سویلین کو نقصان پہنچے، بلکہ ماضی میں ایسے مواقع میسر ہوئے ہیں، کہ کابل انتظامیہ کے اعلی حکام اور استعماری اہلکار عوام کے مجمع میں موجود تھے، لیکن مجاہدین نے شہری نقصانات کے سدباب کی خاطر حملے سے گریز کیا ہے۔

شہری نقصانات کا سدباب امارت اسلامیہ کی پالیسی کا اہم جزو ہے، جو ماضی سے جاری ہے۔ اس بارے میں مرحوم امیرالمؤمنین عالی قدر ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ، شہید امیرالمؤمنین ملااختر محمد منصور رحمہ اللہ اور امارت اسلامیہ کے موجودہ قائد امیرالمؤمنین شیخ الحدیث ھبۃ اللہ اخندزادہ صاحب حفظہ اللہ نے اپنے اپنے عید کے پیغامات میں مجاہدین کو عوام سے نرم برتاؤ  اور اچھے سلوک کے متعلق متعدد بار وصیت اور ہدایت دی ہیں، کہ جن مقامات میں سویلین نقصانات کا امکان موجود ہوں، وہاں حملوں سے گریز کریں۔ امارت اسلامیہ کے تشکیل کے دائرے میں سویلین نقصانات کے سدباب کے ادارے کا قیام بھی اسی غرض سے ہوا ہے، تاکہ اس بارے میں امارت اسلامیہ کی پالیسی اور امارت کے قائدین کی رہنمائی عملی طور پر  لاگو ہوجائے۔لیکن بدقسمتی سے کٹھ پتلی انتظامیہ کے حکام ہمیشہ ایسے واقعات کا الزام امارت اسلامیہ کے مجاہدین پر عائد کرتی ہے، ایسے اعمال سے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ مجاہدین کو بدنام اور عوام و مجاہدین کے درمیان خلیج کی فضاء قائم کریں۔ مگر عوام دھوکہ میں نہیں پڑتے، یہ غلام بھول چکے ہیں کہ استعمار اور اس کے کٹھ پتلیوں کے خلاف 16 سالہ جدوجہد عوام کے تعاون کے بغیر آگے بڑھی اور نہ ہی بڑھ سکتی ہے۔یہ امارت اسلامیہ سے افغان مجاہد عوام کے تعاون کا نتیجہ ہے،کہ آج استعمار اور اس کے کٹھ پتلی شکست کے دہلیز پر کھڑے ہیں۔ ہمارے خیال میں شہری مقامات پر دھماکوں کا یہ منحوس اور ظالمانہ اعمال استعمار ی عناصر کے خفیہ  منصوبے ہیں،جنہیں وقتاوفوقتا عملی کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ کابل کٹھ پتلی انتظامیہ آقاؤں کے اشارے پر ایک منحوس منصوبے کی رو سے ظاہری طور پر کوشش کررہی ہے کہ افغان مؤمن عوام کے درمیان مذہبی، قومی، لسانی اور علاقائی اختلافات کو پروان چڑھائے اور ان کے درمیان موجودہ وحدت کو ختم کردیں، تاکہ استعمار کے خلاف یک آواز اور واحد قوت کے طور پر باقی نہ رہے۔ مگر امارت اسلامیہ ان شاءاللہ اپنی عوام کی قوت سے دیگر سازشوں کی طرح کابل انتظامیہ کے اس مذموم ہدف کو  بھی ناکامی  سےروبرو کریگی۔

امارت اسلامیہ اپنی عوام کی مذہبی اور قومی اقدار سے  دفاع کے سربکف ہے، اسے ایک مذہبی فریضہ اور ذمہ داری سمجھتی ہے۔ ایک وقت جب مجاہدین کی جدوجہد اور قربانیوں کے ثمرات سب تک پہنچ چکے ہونگے، اس وقت تمام افغان عوام مجاہدین کی قربانی اور جدوجہد کی جشن منائیں گے اور خوشی کا احساس کرینگے۔

ان شاءاللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*