رمضان المبارک میں جہادی فتوحات

آج کی بات:

رمضان المبارک کے مقدس ماہ کے نصف کے دوران مجاہدین نے افغانستان بھر میں اہم فتوحات حاصل کی ہیں۔ بھاری مقدار میں فوجی وسائل اور ہتھیار بھی بطور غنیمت حاصل ہوئے ہیں۔ عوام کو قابض افواج اور کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے ظلم سے نجات دلا کر اسلام کا عادلانہ نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ عوام امن کے سفید پرچم تلے پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں ہلمند، اروزگان، غزنی، زابل، قندھار، قندوز، بغلان، بادغیس، پکتیا، لوگر، لغمان، بدخشان، جوزجان، میدان وردگ اور دیگر صوبوں میں ہونے والی مختلف جنگوں میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ جب کہ غیرملکی حملہ آوروں کے کئی ٹینک بھی تباہ ہوئے ہیں۔ پیدل فوج کے سپاہیوں پر جان لیوا حملے کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر قابض اور اجرتی فورسز کے اہل کاروں کو بھاری جانی و مال نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی طرح فورسز میں بھرتی ہونے والے مجاہدین کے حملوں نے بھی دشمن کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان سے دوچار کر رکھا ہے۔ مختلف صوبوں اور علاقوں میں اسے سرنگوں کر دیا گیا ہے۔ دشمن کا سازوسامان، گاڑیاں اور ہتھیار مال غنیمت بنا لیا گیا ہے۔ کابل حکومت کی کمزوری اور اس میں گڑبڑ کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات عروج پر پہنچ گئے ہیں۔ اہم وزراء اور اعلی حکام نے ایوان صدر کے خلاف صف بندی کر کے اشرف غنی کے خلاف اتحاد قائم کر رکھا ہے۔ ان کے سامنے مطالبات رکھ کر دھمکی دی ہے کہ اگر ہمارے مطالبات قبول نہیں کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے اس کے نتائج کو سنگین بنا دیں گے۔

حکومت کوشش کرتی ہے کہ خود کو پروپیگنڈے کی ہوائی دنیا میں مضبوط اور غالب دکھائے، تاہم حقیقی طور پر عوام دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی ناکامی اور نااہلی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ حکمرانوں کی نقل و حرکت اور اقدامات خود ان کے لیے سبکی اور عوام میں مذاق کے باعث بن رہے ہیں۔ کابل انتظامیہ اپنے اختلافات چھپانے کے لیے مجاہدین کو بدنام کرنے کے لیے ان کے درمیان جھوٹے اختلافات کی افواہیں پھیلا رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ اس طرح جعلی اور منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے خود کو خطرات سے بچا سکتی ہے، لیکن اگر ماضی کے تلخ تجربات کو دیکھا جائے تو کابل حکومت موجودہ سیاسی اور فوجی بحران سے نکلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے، بلکہ وہ اپنی نااہلی کے باعث مزید بحرانوں کے دلدل میں پھنس کر رہ جائے گی۔

امارت اسلامیہ کے مجاہدین افغانستان کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ملک دشمنوں کو ایک بار پھر یاد دلایا جا رہا ہے کہ یہاں غیرملکی فوج کی بقا کے امکانات نہیں ہیں۔ جتنا بھی طاقت کا استعمال سامنے لایا جائے، اللہ کی مدد سے شکست ہی اس کا مقدر ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*