حکومت کے اندرونی اختلافات اور عوام

آج کی بات:

رمضان کے ابتدائی دنوں سے آج تک کابل میں جمعیت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے قومی شاہراہوں اور سڑکوں پر خیمے نصب کر کے احتجاج شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے تین اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ یہ کہ اشرف غنی، حنیف اتمر اور کچھ دیگر لوگوں کو منصب سے ہٹا کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کہ کابل دھماکوں میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ احتجاجی گروپ کا کہنا ہے کہ اسے افغانستان میں موجود غیرملکی سفارت خانوں میں سے آدھوں کی حمایت حاصل ہے۔

دل چسپ امر یہ ہے کہ اشرف غنی اور ان کے دوستوں کو بقیہ دوسرے آدھے سفارت خانوں کی مدد حاصل ہے۔ اس لیے وہ ہر گز مستعفی ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گزشتہ روز طاقت ور ترین امریکی سفیر نے کہا کہ مظاہرین پر تشدد کی تحقیقات کی جائیں۔ اس بیان سے حکومت مخالف قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور حکومت کو ایک دھچکہ لگا ہے۔ کیوں کہ ان کے درمیان انصاف کا ترازو اسی طاقت ور آدمی پاس ہے۔ امریکی سفیر جن کی مدد کریں، کامیابی بھی ان لوگوں کی ہے۔ حکومت کے درمیان موجود اختلافات میں شدت آ رہی ہے۔ مستقبل میں اس کے نتائج کیا ہوں گے، وہ دن وقت ثابت سامنے لائے گا۔ بدقسمتی سے ان سازشوں میں صرف کابل کے شہری اور عوام ہی قربانی کا شکار ہوتے ہیں۔ عوام پر نااہل اور تاریخ کی ناکام ترین حکومت مسلط ہے۔ جسے اپنے عوام سے زیادہ اپنی جیبوں کی فکر ہے۔

ایک طرف کٹھ پتلی حکومت کی نااہلی، مالی بدعنوانی، ظلم اور ناانصافی کے باعث 70 فیصد لوگ پسماندہ اور بے روزگار ہیں۔ وہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ جب کہ دوسری جانب نااہل حکومت لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے نام پر سالانہ اربوں ڈالر دنیا بھر سے وصول کرتی ہے۔ اس کے باوجود لکھا پڑھا نوجوان طبقہ کرپشن، اقربا پروری، نسلی و لسانی تعصب اور کرپشن کے باعث بے روزگار ہے۔ بہت سے نوجوان اس وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جس کے باعث انہیں موت، قید اور لاپتہ ہونے جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بد قسمتی سے اس طرح کے المناک واقعات آج کل افغان عوام کے لیے معمول بن چکے ہیں۔ ہر لمحہ اس طرح کے دردناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔ امریکی جارحیت پسندوں کی بمباریاں، چھاپے اور مجاہدین کے نام پر عوام پر مظالم اور دیگر جرائم کٹھ پتلی حکومت کے سیاہ کارنامے ہیں، مگر نااہل حکومت عوام کا درد اور دکھ محسوس کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ وہ قابض قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عوام پر مزید مظالم ڈھانے کی منت سماجت کررہی ہے۔ حکومت میں شامل اشرافیہ، نااہل، بدعنوان اور بوسیدہ  نظام کی حکومت کرنے والے سب ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ عوام کے وسائل کو لوٹنے والے عوام کی عزت اور وقار کے دشمن ہیں۔ ان بے ضمیروں کا خاتمہ ہی مظلوم عوام کی شدید خواہش ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*