افغان جہاد مسلمانوں کے تعاون کا نمونہ

آج کی بات:

امارت اسلامیہ کے ساتھ عوام کے تعاون اور ان کی وسیع حمایت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت کے بغیر سولہ سال سے مسلسل جارحیت پسندوں اور کابل حکومت کا مقابلہ بہت مشکل ہے۔ جب کہ مقابلہ بھی ایسا ہے کہ دشمن ہر ظاہری سبب میں مجاہدین سے فوقیت رکھتا ہے۔

گزشتہ روز امارت اسلامیہ کے معاون سربراہ محترم ملا سراج الدین حقانی صاحب نے ایک آڈیو پیغام میں کابل کے حالیہ خونی واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور عوامی مقامات پر حملے کرنا امارت اسلامیہ کی پالیسی نہیں ہے۔ امارت کا ایسے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امارت اسلامیہ نے ہمیشہ ایسے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ امارت اسلامیہ نے ہمیشہ اپنے کارکنوں اور ذمہ داران کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔ جب کہ کوشش کی جائے کہ دوسرے لوگوں کے ظلم سے بھی عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

دشمن کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے واقعات کو امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی طرف منسوب کیا جائے۔ امارت اسلامیہ اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کی جائے، لیکن الحمدللہ عوام مجاہدین کو اچھی طرح جانتے ہیں اور دشمن کے پروپیگنڈے پر فیصلہ نہیں کرتے ہیں۔

دشمن مجاہد افغان عوام کے درمیان علاقائی، لسانی اور قومی تعصب کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتا ہے۔ عوام دشمن کے منصوبوں اور سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے آپس میں اتحاد و اتفاق قائم رکھیں۔

حقانی صاحب نے واضح کیا ہے کہ ہم نے عوام کی حمایت سے جہاد شروع کیا ہے۔ اس قوم کی حمایت میں یہ جہاد جاری ہے۔ ہمارے عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ جہاد کی راہ میں بہت تکالیف برداشت کی ہیں۔ اس راہ میں دکھ اٹھائے ہیں۔ حتی کہ ایک ماں کا ایک بیٹا شہید ہوا تو اس نے دوسرا بیٹا جہاد کی راہ میں وقف کر دیا۔ حقانی صاحب نے مزید کہا کہ "خدا نہ کرے کابل جیسے واقعات کی وجہ سے عوام اور ہمارے درمیان غلط فہمیوں کے باعث دوریاں پیدا ہو جائیں۔ ہم قوم کی ہر تکلیف اور قربانی کے شکر گزار ہیں۔ ہم ان کی گراں قدر قربانیاں نہیں بھول سکتے۔

محترم حقانی صاحب نے کہا کہ ہم نے عوام کی خوش حالی، امن اور ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مختلف کمیشنز قائم کیے ہیں۔ مثلا شہری ہلاکتوں کی روک تھام کی کمیٹی اور تعلیمی کمیشن جیسے ادارے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔

ہم جس طرح انگریز سامراج سے یوم آزادی کا جشن مناتے ہیں۔ سوویت یونین کی شکست کا دن یاد کرتے ہیں، اسی طرح ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ امریکی جارحیت پسندوں کی شکست کا دن بھی شان دار طریقے سے منائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔ امارت اسلامیہ عالم اسلام  کو یقین دلاتی ہے کہ ان امیدوں کو پورا کرنے کے لیے حتی الوسع کوشش کی جائے کہ شہداء، یتیموں اور مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے مطابق اسلامی نظام حکومت قائم کیا جائے۔ کیوں کہ اسلامی نظام میں مادی اور روحانی، دونوں خوش حالیاں ہیں۔ دنیا و آخرت دونوں جہانوں کی وسعتیں ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*