امریکا یہ موقع ضایع نہ کرے

آج کی بات:

نئی امریکی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی امریکا سمیت نیٹو رکن ممالک تقریبا سب ہی متفقہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ "ہم افغان جنگ میں مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔” گزشتہ روز امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کانگریس سیشن سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم اب تک افغانستان میں ناکام رہے ہیں۔ یہ جنگ ہم نہیں جیت سکتے۔ لہذا ہم مستقبل میں نئی حکمت عملی کا جائزہ لے کر نئی پالیسی مرتب کریں گے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اعلی امریکی حکام کھلے عام اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے دکھائی دے رہے ہیں، بلکہ اس سے قبل بھی کئی بار اہم امریکی حکام نے اپنی ناکامی اور شکست کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی میڈیا اور ماہرین مسلسل امریکی حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ جتنا جلد ممکن ہو، افغانستان سے اپنی تمام افواج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔ یہ ایک بہترین چانس ہے، ٹرمپ انتظامیہ کو اسے ضایع نہیں کرنا چاہیے۔

علاوہ ازیں یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی جنگی مشن کے تحت قتل و غارت گری، تشدد، بمباری اور قید و بند سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اگر اس کا کچھ نتیجہ برآمد ہوتا تو گزشتہ 16 سالوں کے دوران انہیں کچھ فائدہ مل جاتا۔ اس دوران نہ صرف امریکا، بلکہ نیٹو کے تمام ممالک کی افواج نے اپنی بھرپور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا ہے، لیکن اپنے ہزاروں فوجی ہلاک و زخمی کرانے کے سوا کچھ  حاصل نہیں ہوا۔ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ ہزاروں فوجی گاڑیوں، ٹینکوں اور فوجی ساز و سامان تباہ کروایا۔ افغان عوام کے دلوں میں امریکا اور مغربی دنیا سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں ایک بدعنوان اور غیرمؤثر نظام کو قائم کرنے سے اپنا امیج خراب کیا ہے۔ منشیات کی کاشت میں عالمی سطح پر ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کے بجائے انسانیت دشمن کا لقب پایا۔ آخرکار دوراندیش قائد ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی بات ثابت ہوئی کہ امریکا کو فہرست کے پہلے حصے سے نکال کر فہرست کے آخر میں اس کا نام درج کیا جائے گا۔ اامریکا کو اس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ حالانکہ امریکی تاریخ میں اس نے اتنی طاقت اور قوت کے ساتھ اتنی طویل جنگ نہیں کی ہے۔ اس کے باوجود اگر امریکا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ناکام پالیسی کو جاری رکھتا ہے تو اسے ایک تاریخی شکست اور ہلاکت خیز نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

افغانستان پر قبضہ اب تک ان کے لیے جانی و مالی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اگر مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ اوباما اور بش کے نقش قدم پر چل کر وہی پالیسیاں اپنائے رکھے اور افغانستان پر ناجائز قبضہ برقرار رکھے گی تو یہ بھی سابقہ رہنماؤں کی طرح ناکام ہی رہیں گے۔ اگر وہ موقع غنیمت سمجھ کر افغان جنگ سے جان چھڑائیں تو یہ ان کے لیے بہترین چانس اور سنہری موقع ہے۔ اسے ضایع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر جنگ کے خاتمے کے لیے کردار ادا نہ کیا گیا تو افغانستان کا بحران مزید طویل اور پیچدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ اور امریکا ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہو جائیں گے۔

افغانستان کے مظلوم عوام امریکا کے کی ناقص پالیسیوں کے باعث شدید مصائب میں مبتلا ہیں۔ نئی امریکی انتظامیہ اور کابینہ سے یہی امید ہے کہ قبضے کو دوام دینے کی پالیسی ترک کی جائے، تاکہ امریکا خود بھی محفوظ رہے اور افغانستان بھی حملہ آوروں کے شر سے محفوظ ہو جائے۔ عوام کے لیے زندگی گزارنا آسان ہو جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*