شاہین اڈے میں امریکیوں پر خوفناک حملہ

آج کی بات:

 

امریکی قابض افواج کے خلاف افغان نینشنل آرمی میں بھرتی ہونے والے مجاہدین اندر سے حملے کرتے ہیں۔ یہ تسلسل تیزی سے جاری ہے۔ گزشتہ دنوں مزارشریف کے شاہین کور بیس کے اندر صوبہ پکتیا کے ایک بااحساس افغان کمانڈو اہل کار "مسعود” نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کر کے 8 امریکی اہل کاروں کو ہلاک و زخمی کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق جانثار مسعود کی فائرنگ سے 4 امریکی فوجی موقع پر ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ افغانستان میں وحشی امریکی فوجی افغان نیشنل فوج کی مضبوط ترین سکیورٹی کے درمیان محفوظ ہیں۔ وہ ہر سمت سے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اتنے سارے حفاظتی اقدامات کے باوجود مجاہدین کس طرح ان پر حملہ آور ہو سکتے ہیں؟ امریکیوں کا خیال تھا کہ افغان اہل کار ان کے لیے ڈھال اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔ اگر مجاہدین ان پر حملے کرتے ہیں تو جانی نقصان صرف افغان اہل کاروں کا ہوگا، جنہیں امریکیوں نے اپنے دفاع اور حفاظت کے لیے تربیت دے رکھی ہے۔ تاہم امریکیوں کو تب یہ خیال نہیں تھا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کامیاب جہادی حکمت عملی وضع کی ہے۔ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا ہے۔ ایک بہترین منصوبہ بندی کے تحت دشمن پر براہ راست حملوں اور بم دھماکوں کے علاوہ بہادر نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کر کے اندر سے بھی ان پر حملے کیے جاتے ہیں۔

کابل انتظامیہ کے اندر مجاہدین کو گھسنے اور خوفناک حملوں کے بعد امریکی فوجیوں پر خوف کا بھوت سوار ہو گئے ہیں۔ ایسے حملوں کی وجہ سے امریکی فوجیوں اور افغان اہل کاروں کے درمیان بداعتمادی پیدا ہوگئی ہے۔ اب امریکی فوجی ہر افغان سپاہی سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ وہ ان پر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ نہ اتار دے۔

ایک امریکی محقق بزنس انسائیڈر نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے حالیہ جانی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ "پینٹاگون افغانستان سے اپنی فوج کی واپسی پر غور کرے۔ مزید فوجیوں کو بھیجنے کی پالیسی نہ اپنائی جائے۔ انہوں نے امریکی میڈیا "سی بی ایس” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں امریکی فوجی دو خونریز واقعات سے دوچار ہوئے ہیں۔  وہ بھی اپنے تربیت یافتہ افغان کمانڈوز کے ہاتھوں! انہوں نے کہا ہے کہ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان حکومت کتنی کمزور ہے یا افغان عوام امریکیوں کے ساتھ کتنی نفرت کرتے ہیں۔

بہرحال! ہمیں یقین ہے کہ اس طرح کے حملوں سے امریکا ضرور اس نتیجے پر پہنچے گا کہ وہ افغانستان سے واپسی کی راہ تلاش کرے۔ کیوں کہ شاہین کوربیس حملے کی طرح مزید حملے بھی ہوں گے۔ امریکیوں کی حالیہ ہلاکتوں کے بعد امریکی عوام اپنی حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ اپنے اہل کاروں کو افغانستان میں مزید ہلاکت سے بچانے کے لیے واپس بلائے۔ پچھلے ہفتے بھی صوبہ ننگرہار میں ایک افغان اہل کار نے فائرنگ کر کے 4 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا۔ مجاہد افغان عوام ان جیسے بہادر سپاہیوں پر فخر کرتے ہیں اور ان کے نام ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اللہ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور افغانستان کو قابض افواج کے قبضے سے آزاد کرے. آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*