عید الفطر کی مناسبت سے عالی قدر امیرالمؤمنین شیخ الحدیث ہبۃ اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ کا پیغام

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

إن الحمد لله! نحمده ونستعينه ونستغفره ونتوب إليه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد:

قال الله تعالی: "أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِير”ٌ (۳۹) الحج

افغان مؤمن عوام اور مسلم امہ کو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سب سے پہلے آپ حضرات کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالی رمضان المبارک میں آپ کی عبادات، صیام، قیام اللیل، صدقات اور تمام نیک اعمال کو اپنے دربار میں قبول و منظور فرمائیں۔

افغان مجاہد ملت!

ہم رواں سال عید ایسی حالت میں منا رہے ہیں کہ وطن عزیز پر غاصبوں کا قبضہ ہے، جس سے مکمل آزادی اور اسلامی نظام  کے قیام کی خاطر عوام کے غیور فرزندان توحید مجاہدین میدان جہاد میں موجود ہیں۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موجودہ جنگ کا آغاز غاصبوں کی جانب سے ہوا ہے۔ وہ دنیا کے دور افتادہ علاقوں سے افغانستان پر قبضہ جمانے اور اسلامی نظام کے خاتمے کی نیت سے آئے ہیں۔ امارت اسلامیہ شعائر اسلام، اپنے عوام اور ملک کے دفاع کی خاطر دفاعی جنگ کے نکتہ نظر سے مقدس جہاد جاری رکھے ہوئے ہے۔ لہذا مذکورہ جنگ کو ختم یا طول دینا بیرونی غاصبوں پر منحصر ہے، جنہوں نے امن و سلامتی کے بہانے افغانستان پر حملہ کیاہ ہے۔ اب بدامنی کی وجہ سے تمام خطہ بے چین ہے۔ استعمار یہاں اپنی افواج کے قیام اور اضافے پر جتنا اصرار کرتا ہے، اتنا ہی علاقائی حساسیت بڑھے گی۔ جس کے نتیجے میں افغانستان سمیت تمام خطہ مزید غیرمستحکم ہوگا۔

امریکا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ افغانستان میں جنگ کا دوام، بمباری میں اضافہ، نہتے افغانوں کا قتل عام، ان کی سرزمین میں اپنے سیاسی حریفوں کو  ڈرانا اور جدید اسلحہ آزمانے کی غرض سے بموں کی ماں کا استعمال کرنا، جہادی مزاحمت کو بدنام اور کمزور کرنے کی خاطر ان کے خلاف مختلف ناموں سے مسلح گروہوں کا سامنے لانا، ان کی فنڈنگ اور تشہیر کرنا، افغانوں کے درمیان قومی، علاقائی اور لسانی نفرتوں کو ابھارنا جیسے فتنوں کو بھڑکانے سے کبھی بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ افغان وہ قوم نہیں ہے، جو کسی  قوت کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔ ہماری تاریخ سے غافل مت ہو جاؤ۔ آپ کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ کے گزشتہ 16 برس فالتو اور بے مقصد جنگ میں گزر گئے ہیں۔ بے فائدہ اخراجات کیے اور اپنی سیاسی و فوجی حیثیت بھی خراب کر ڈالی ہے۔ کثیر تعداد میں فوجی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ افغانوں کو شہید اور معذور کیا گیا۔ گھروں اور دیگر بنیادی  ڈھانچوں کو تباہ کر کے افغانستان کو کھنڈرات میں تبدل کر دیا ہے۔

اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ اپنی فوجی موجودگی اور تعداد میں اضافے سے ہمارے حوصلوں کو شکست دے دیں گے تو یہ بڑی غلط فہمی ہے۔ مسئلے کا یہ حل نہیں ہے کہ کابل نااہل انتظامیہ کے مطالبے پر جارحیت کو جاری رکھی جائے، بلکہ ہوشیاری یہ ہے کہ حقائق سمجھ کر اپنی جنگی پالیسی تبدیل کی جائے۔ افغانستان کی قسمت اور یہاں کے تمام مسائل افغانوں سے وابستہ ہیں۔ افغان غیور عوام کسی کے دباؤ کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے ملک کے معاملات میں کسی کی خواہشات کو مانتے ہیں۔ انہیں اپنے ملک کا استقلال اور اسلامی نظام اپنی جان سے بھی عزیز تر ہے۔ افغان سرزمین میں ڈیڑھ عشرے تک اپنی موجودگی سے آپ نے عبرت حاصل کی ہوگی۔ لہذا یہ بات اچھی ہے کہ جارحیت کو مزید طول دینے کی غلطی کو ختم کر دیں۔ جب بھی افغانستان سے آپ کا ناجائز قبضہ ختم ہو جائے گا، تب امارت اسلامیہ کی طرف سے امریکا سمیت تمام پڑوسیوں اور عالمی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات اور معاملات اصول کے دائرے میں نبھانا امارت اسلامیہ کی جامع پالیسی ہے۔ یہاں امارت اسلامیہ کی پالیسی کی یادآوری ضروری سمجھتا ہوں۔ امارت اسلامیہ کسی کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی چاہتی ہے اور نہ ہی کسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دیتی ہے۔ اسی طرح کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کر سکے۔

مسلمان مجاہد ملت!

غاصبوں کے خلاف جہاد ایک الہی فریضہ ہے، جو کسی کے ذاتی مفادات سے وابستہ ہے اور نہ ہی اس میں کسی کی ذاتی رائے سے تبدیلی آتی ہے۔ شرعی احکام اور اسلامی تاریخ میں جہاد کوئی ایسا نامعلوم باب نہیں ہے، جسے ہر شخص ذاتی اجتہاد سے کرنے اور اسے منع کرنے کا حکم صادر کر سکے۔ اسلامی تاریخ میں مقدس جہاد کا ثمرہ کافروں کے زیرکمان اور تسلط سے حاصل ہوا ہے اور نہ کبھی نااہل حکمرانوں نے اللہ تعالی کا دین نافذ کیا ہے۔ اسی طرح نہ ہی استعماری فضائی قوت کے زیرسایہ اسلامی نظام کا قیام ممکن ہے۔

ہماری ملت پر امریکا نے ان تمام افراد کو  مسلط کیا ہے، جو اپنے دین اور عوامی مفادات کے وفادار نہیں ہیں۔ وہ صرف امریکی مفادات کے نگہبان اور محافظ ہیں۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ غیروں کی نوکری کرنے والوں نے امریکی حکم کی وجہ سے اس لیے بھی آمادگی ظاہر کی کہ افغانستان کو اپنے پڑوسیوں اور خطے کے خلاف حالت جنگ میں لاکھڑا کریں۔ اسے صرف امریکی مفادات کے لیے قربان کریں۔ اگر موجودہ حالت جاری رہی تو وہ اس کے لیے بھی کمربستہ ہیں کہ متحد ملت کے درمیان قومی، علاقائی اور لسانی تعصبات کو ابھار کر ایک بار پھر نوے کی دہائی کی طرح باہمی جنگوں کا آغاز کر کے تاریخی ملک کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ کابل کے موجودہ حالات غیروں کی نوکری کرنے والوں کی بری کوششوں کی زندہ مثال ہیں۔

امارت اسلامیہ ملک کی شرعی اور قومی مصلحتوں کے دفاع و قیام کے لیے افغانستان میں موجود برادر اقوام کے درمیان قومی، علاقائی، لسانی، مذہبی اور تنطیم کے نام سے ہر قسم کی تخریبی سرگرمیوں کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ اسے افغانستان میں شکست خوردہ دشمن کے منصوبہ ساز سازشوں کی ایک تخریبی کوشش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ امارت بھرپور قوت سے اس کا سدباب کرتی ہے۔

افغان مجاہد عوام!

بیرونی جارحیت کے خلاف افغان عوام کا جائز دفاعی جہاد اللہ تعالی کی نصرت، آپ کی حمایت، مجاہدین کے ناقابل فراموش اخلاص و فداکاری، امارت اسلامیہ کی کامیاب ڈپلومیسی اور نظم و ضبط سے روز بروز قوت پکڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام مخالف قوتیں بھی اس کے جواز اور کامیابی کا اعتراف کر رہی ہیں۔ اس عمل نے جارح دشمن کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ اسی لیے امارت اسلامیہ کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈا کر کے مجاہدین کی کامیابیوں کو غیروں کی جانب منسوب کر رہا ہے، مگر ہم اس بارے میں عالمی برادری اور اپنے عوام کو تسلی دیتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کبھی بھی ایک غاصب کو مار بھگانے کی خاطر کسی غیر کو افغانستان میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی۔ افغان عوام کی ملی حمایت تمام غاصبوں کے مقابلے میں ہماری کامیابی کا اصل سبب ہے۔

امارت اسلامیہ ہر اس پہلو پر عوام کی شکرگزار ہے، جس میں عوام نے امریکی جارحیت کے خلاف امارت اسلامیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ جب کہ عوام امارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنا عالمی اثر و رسوخ استعمال کر کے امریکا کو افغانستان کا قبضہ ختم کرنے پر مجبور کیا جائے۔

امریکا کو چاہیے حقائق کا ادراک کر کے جہادی مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے بجائے افغان مجاہد عوام کے قانونی مطالبات کو تسلیم کرے اور سفارت کاری کے ذریعے اپنے مسئلے کو حل کیا جائے۔ صلح کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ جارحیت ہے۔ جارحیت کے ختم ہونے سے پرامن طریقے سے افغان مسئلے کا حل امارت اسلامیہ کی پالیسی کا اہم جزو ہ’ اسی وجہ سے سیاسی دفتر کو پرامن حل تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اسلامی نظام کے زیر سایہ صلح، حقیقی امن و امان اور اہل وطن کا سکون ہمارے بنیادی مقاصد ہیں۔ ہم پرعزم طور پر اپنے عوام کی معاشی، تعلیمی اور ہمہ پہلو تعمیراتی ترقی کے پابند ہیں۔ امارت اسلامیہ تعمیرنو کے منصوبوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ اپنے مقررہ اصولوں کی روشنی میں اس مد میں ہر قسم کی سرگرمیوں کی حمایت اور ان کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ مجاہدین اپنے اپنے علاقوں میں دینی و عصری علوم اور عوامی مطالبات کے مطابق تعمیرنو اور دیگر امور میں راہ ہموار کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

عالمی برادری کو پیغام!

دنیا بھر سمیت خصوصا مشرق وسطی میں مظلوموں کو ظلم سے محفوظ کرنے کوشش کی جائے۔ نہتے اور بے یار و مددگار اقوام کو امریکی و اسرائیلی مظالم کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ اسی طرح مملکت قطر اور دیگر عربی ممالک کے درمیان حالیہ تنازعہ پر ہم شدید اداس ہیں۔ برادر ممالک سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر قسم کے باہمی تنازعات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے، تاکہ وہ ممالک اور اقوام اجنبی مداخلت کے نقصانات سے محفوظ رہ سکیں۔

جہاد اور فداکاری کے میدان میں مصروف مجاہد بھائیو!

آپ کو اس پر خوشی ہوتے ہوئے شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے اس کٹھن دور میں اپنے دین اور عوام کی حفاظت کے لیے آپ کا انتخاب کیا ہے۔ اپنے دین اور مسلمانوں کے دفاع کی راہ میں جہاد وہ افضل عمل ہے، جسے رسول اللہ ﷺ  نے "ذروة سنام الإسلام ” فرمایا ہے۔ یعنی اسلام کی سب سے بلند چوٹی! جاری جہاد سے متعلق دشمن کے پروپیگنڈوں، تعبیروں اور باتوں کو نظرانداز کر دیں۔ اس عمل کے بارے میں صرف کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو کافی سمجھیں۔ اس جانب بھی متوجہ ہونا چاہیے کہ جہاد جتنا افضل عمل ہے، اتنا ہی اس سے وابستہ خطرات بھی بھاری ہیں۔ خدانخواستہ اگر جہاد میں زیادتی سرزد ہو جائے، بے گناہ انسانوں کو تکلیف پہنچ جائے، عوام کے جان و مال اور عزت کو نقصان پہنچ جائے تو اس سے بےقدری اور عوامی نفرت میں اضافہ ہوگا۔ دنیا و آخرت میں مجرم سمجھے جاؤ گے۔ اپنے سلوک اور کردار پر توجہ دیں۔ اپنے ساتھیوں کو بھی ناجائز اعمال سے روکیں۔

جہادی کارروائیوں کے منصوبے اور عمل کے دوران شہری نقصانات کے معاملے کو سختی سے مدنظر رکھیں۔  جن حملوں میں شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچتا ہو، ہمیں کسی طور پر منظور نہیں ہیں۔ ان سے گریز کیا جائے۔ کیوں کہ عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانا شرعی اصول اور امارت اسلامیہ کی پالیسی کے خلاف عمل ہے۔ جہاد کی راہ میں اپنے حوصلے بلند رکھا کریں۔ اللہ تعالی کی نصرت، آپ کی مضبوط تدبیریں، عزم اور قربانی نے استعمار اور اس کی کٹھ پتلیوں کو گھبراہٹ سے دوچار کر رکھا ہے۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔ آپ کے خلاف پروپیگنڈے کی لہر بےاثر ہے۔ موجودہ حالت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر مجاہد اپنی نیت اور عمل کی درستی کی جانب مزید متوجہ رہے۔ اپنی صف کو متحد رکھیں۔ اپنے قائدین اور ذمہ داران کی اطاعت میں پختگی اختیار کریں۔ ہر لحظہ اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر اللہ سے ڈرتے رہیں۔ اللہ تعالی کے بندوں سے سلوک میں نرم برتاؤ کیا کریں۔ دشمن کا ظالمانہ سلوک آپ کو مؤمن عوام اور قیدیوں کے ساتھ غیرشرعی انتقام پر ہرگز مجبور نہ کرے، بلکہ دشمن کے قیدیوں سے نبوی اخلاق کے بنیاد پر حسن سلوک  کیا کریں۔

دشمن کی سازشوں اور اچانک حملوں پر جہادی لیڈر فوری توجہ دیں۔ اپنے زیراستعمال وسائل کے معاملے میں بہت احتیاط کریں۔ اپنی اور مجاہد کی زندگی کے بارے میں بےاحتیاطی جہادی صف کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ ہر فرد اپنی آخرت کا خود ذمہ دار ہے۔

اپنے تمام ہموطنوں، علمائے کرام، دانش وروں، بااثر عوامی و سیاسی شخصیات، لکھاریوں، پیشہ ور افراد، نئی نسل کو تربیت دینے والے اساتذہ اور اس غریب ملک کے ہمدرد افراد سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جنگ کے حقیقی عامل امریکا کے خلاف ایک آواز ہو کر اٹھ کھڑے ہوں۔

آخر میں تمام ہموطنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہر وقت، بالخصوص عید کے ان مبارک ایام میں تمام غریب بہن بھائیوں، یتیموں، قیدیوں کے خاندان اور دیگر غریب افراد کو خوشیوں میں اپنے ساتھ شریک کریں۔ حسب توفیق ان سے تعاون کریں۔

 والـســــــــــــلام

عالی قدر امیرالمؤمنین شیخ الحدیث مولوی ہبۃ اللہ اخندزادہ صاحب حفظہ اللہ

زعیم امارت اسلامیہ فغانستان

27 رمضان المبارک 1438ھ بمطابق 22 جون 2017ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*