امت مسلمہ کو مبارک باد

ماہنامہ شریعت کا اداریہ

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے گزشتہ دنوں کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ : امریکہ موجودہ حکمت  کے ساتھ افغانستان میں جاری جنگ نہیں جیت سکتا۔

ہمارے ہاں پشتومیں ایک محاورہ بولاجاتاہے کہ ”کہ دشمن دے گیدڑ ھم وی خوتہ ورتہ دزمری پہ نظرگورہ”یعنی اگرچہ تیرادشمن گیدڑ کی طرح ڈرپوک کیوں نہ ہو لیکن تم نے اسے شیرہی سمجھنا ہےاوراسی طرح کی تیاری کرنی ہے  ۔سچی بات ہے کہ بزرگوں کایہ قول آب زر سے لکھنے کاقابل ہے ۔تیاری کے بغیر دشمن  کے مقابل میدان جنگ میں اترنا واقعی حماقت ہی ہے ۔دشمن کی طاقت کا اندازہ لگاکرمقابلے کی تیاری کرنا  شکست سے بچاتاہے اور دشمن کی طاقت سے زیادہ تیاری کرنا دشمن پر غلبہ اورکامیابی دلاتاہے ۔

اس میں شک نہیں کہ اس  مادی دنیا میں امریکہ دنیا کے تمام ممالک میں سے ایک بڑی مادی قوت اور دیگرممالک کے مقابلے میں زیادہ طویل  جنگی تاریخ کاحامل ملک ہے ۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہرجگہ شکست وریخت سے دوچارہے ۔کیوں ؟ دیگر وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنے دشمن کوحقیر اورکم ترسمجھا ہے ۔اورجنگ سے قبل کبھی سوچتاہی نہیں کہ وسائل اورقوت کے لحاظ سے ہم سے کم تردشمن ہمیں نقصان بھی پہنچاسکتاہے ۔اس لئے یہ ہرجگہ اپنی طاقت  اوروسائل کے نشے میں چورہوکر حملہ آورہوا اورپھر ہوش میں تب آیاہے جب شکست وفرارکے سارے دروازے ان کے لیے کھلے اورکامیابی وکامرانی کے سارے خواب چکنا چورہوچکے ہوتے ہیں ۔

افغانستان جسے دنیا میں بیرونی غاصبین کاقبرستان کہا جاتاہے ،یہی وہ جگہ ہے جہاں سکندررومی،گورگین، چنگیز خان ،برطانوی سامراج اورروس  جیسی سپر طاقت  ذلت آمیزشکست کا شکارہوچکے ہیں ، پرحملے کے وقت امریکیوں کے سروں پر طاقت اورغرورکا اتنا نشہ سوار تھا کہ سرزمین افغانستان کی پوری تاریخ ان کے دماغ سے نکل چکی تھی اوریہاں کے شیردل جوان انہیں چیونٹیوں سے بھی کم دکھنے لگے تھے ،ان کے خواب وخیال میں یہ بات تھی ہی نہیں کہ یہاں  کوئی ایسا شخص  بھی ہوگا جو امریکی فوجی پر فائر نگ کرسکے گا۔

حملے کے وقت امریکی رہنماوں کی باتوں کو پیش نظر رکھاجائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ افغانستان میں شکست یا کسی کی جانب سے انہیں نقصان پہنچنے کا توامریکی ذہنوں میں خیال تک بھی نہیں تھا۔ان کے دماغ میں بس یہی ایک بات رچ بس گئی تھی کہ ہمارا افغانستان  میں جاناہی افغانستان پر قبضہ کرلینا ہے ۔مجاہدین پہلے سے سرینڈر ہوچکے ہیں  ،انہوں  نے غاروں،جنگلوں اورپہاروں میں  پناہ لی ہوگی  لیکن کہیں بھی بچ کر نہیں جاسکیں گے ۔عنقریب ہم ان سب کو قتل یازندہ گرفتارکرلیں گے ۔

روس جو افغان کلچر سے خوب واقف تھا ،افغانستان کے ساتھ  طویل مشترک بارڈر کاحامل تھا ،سخت جان ، جنگجو اور بلاتنخواہ فوج  کے ساتھ ساتھ اپنے کیمونیسٹ غلاموں کے ذریعے  یہاں کے نظام پر بھی قابض تھا لیکن  اس سب کے باوجود وہ یہاں شکست سے دوچارہوکر ٹکڑوں میں بٹ گیا اورآج تک اپنے زخم چاٹ رہاہے۔امریکہ نے روس کی یہ حالت  اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی یہ سب کچھ بھلادیا ۔اورباوجود اس کے کہ امریکہ اورافغانستان کےبیچ فاصلہ بہت زیادہ تھا ،امریکی افغان کلچر اورثقافت سے بھی بے خبر تھے ،فوج تنخواخور اورسہولت پسند تھی ،افغانستان میں ان کا کوئی حامی بھی نہیں تھا ،بس ڈالروں کے عوض بدنام زمانہ شمالی اتحاد کے چند کمانڈرز کوخریدا، امریکہ اوریورپ میں مقیم چند سو ایسے افراد جوکئی برسوں سے افغانستان سے باہر تھے اوریہاں کےحالات وواقعات کا انہیں علم نہیں تھا گویا کہ صرف نام کے افغانی تھے، کو طیاروں میں بٹھاکر افغانستان لایااوریقین کر بیٹھا کہ بس ان کو استعمال کرکے یہاں ایک کٹھ پتلی نظام وضع کرلیاجائے گا جو ہمیشہ امریکی مفادات کے لیے کام کرتارہے گا اوربس۔یہ تھے ان کے عسکری ماہرین اور پلانرز ؟   لعنت   ایسے ماہرین اورپلانرز پر جودوسروں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی تباہ وبربادکربیٹھتے ہیں ۔

پھر جب امریکی حملے کے بعد ایک سال کے اندراندر مجاہدین نے تیار ی کرلی اورایک منظم  طریقے سے بیرونی غاصبین کے مقابلے کے لیے میدان میں کھودپڑے تب بھی امریکہ  نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ کہتا تھا کہ یہ گنتی کے چندشرپسند افراد ہیں جن کا جلد قلع قمع کیا جائے گا ۔لیکن آہستہ آہستہ جب مجاہدین کے حملے مختلف شہروں میں قائم امریکی مراکز تک پہنچنے لگے  ،مجاہدین کی صفوں میں مزید مضبوطی اورتنظیم آگئی ،بیرونی غاصبوں کو بڑے بڑے جانی ومالی نقصانات کا سامناہوا،  تب امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے تسلیم کرلیا کہ واقعی طالبان منظم ہوکر میدان میں آئے ہیں اورایک طویل جنگ کا عزم رکھتے ہیں۔

اگرامریکہ میں  زمینی حقائق کو حقائق کی نگاہ سے دیکھنے کاحوصلہ ہوتا تواسے یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے تھی کہ ہمارے مقابلے میں نکلنے والے گنتی کے چندافرادنہیں بلکہ بیرونی غاصبین کے خلاف تمام افغانوں کی ملی تحریک ہے اورافغان قوم جب بھی متحدہوکر کسی غاصب کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے تواسے  ذلت آمیز شکست سے دوچارکرکے ہی چھوڑا ہے ۔تب اگرامریکہ نے اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہوتا اورافغانستان سے نکلنے کے لیے معقول اقدامات کرلیے ہوتے توآج نہ توان کے کھربوں ڈالرضائع ہوتے ،نہ ہزاروں فوجی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے اورنہ ہی  انہیں دنیابھرمیں اتنی ذلت ورسوائی کاسامناکرناپڑتا۔آج حالت یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کا کمانڈرجنرل نکولسن امریکی حکومت سے مزید افرادی قوت اوروسائل کا مطالبہ کررہاہے اوردہائی دے رہاہے کہ موجودہ وسائل  اورافرادی قوت کے ساتھ  طالبان کامقابلہ  جاری رکھنا  ہمارے بس کی  بات نہیں لیکن ٹرمپ انتطامیہ اس بارے میں فیصلہ کرنے سے تاحال قاصرہے ۔گزشتہ ماہ بیلجیم کے دارالخلافہ بروکسل  میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیٹومیں شامل تمام ممالک سے مطالبہ کیاکہ ہرملک مزید فوجی افغانستان بھیجےلیکن ایک بھی ملک نے مثبت جواب نہیں دیا اورٹرمپ انتہائی ناامیدی کی حالت میں واپس لوٹا۔ناامیدی کے انہی لمحات میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس  نے 13جون کو ہونے والے امریکی کانگریس کے اجلاس میں کہا کہ ہم  موجودہ حکمت عملی کے ساتھ افغانستان میں جاری  جنگ نہیں جیت سکتے ۔

گزشتہ 16 برسوں سے تمام تر عینی حقائق  امریکیو ں کے شکست پردلالت کرتے آرہے ہیں لیکن  ایک مغرور غاصب کے طورپر امریکی اس بات پر امادہ نہیں تھے کہ وسائل کے لحاظ سے اپنے سے کئی درجہ کمزور افغانوں کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم کرلیں اورایسا واضح اعتراف کریں جیساکہ وزیردفاع جیمز میٹس نے کیا ۔

پنٹاگون کی جانب سے افغان قوم کے ہاتھوں شکست کا یہ واضح اوربڑااعترف پوری مسلم ملت کو مبارک ہو  ۔ پوری مسلمان ملت  مطمئن رہے کہ بیرونی غاصبوں میں  مزید افغانستان میں رہنے کی سکت نہیں رہی  ،بہت جلد یہ لوگ ذلت ورسوائی کے عالم میں افغانستان سے نکلنے کا اعلان کریں گے ۔جس سے تمام مسلمانوں کے دل ٹھنڈے ہوجائیں گے  ۔ان شاءاللہ  تعالیٰ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*