کابل حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی

آج کی بات:

غیرملکی حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی طرف سے قیدیوں کے ساتھ جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بہت بڑھ گئی ہیں. وہ قیدیوں پر مسلسل تشدد کرتے ہیں. قیدیوں کے حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں. انہیں تمام مسلمہ حقوق سے محروم کر رکھا ہے. قیدی بغیر مقدمے کے سالہا سال سے جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

بدقسمتی سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری نے بھی قیدیوں کے حقوق کی بجا آوری کے حوالے سے مناسب طریقے سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کی ہیں. قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں. ان کی طرف سے شاذ و نادر ہی ردعمل کا اظہار سامنے آتا ہے.

افغانستان کے مختلف حصوں میں کابل انتظامیہ کی سرکاری جیلوں کے علاوہ خفیہ قید خانے بھی موجود ہیں. بدنام زمانہ تین جیلوں "بگرام، پل چرخی اور قندھار” میں حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے کسی بھی قانون اور انسانی اصولوں کا احترام نہیں کیا جا رہا. قیدیوں کو تشدد سمیت نفسیاتی طور ہراساں کرنے، کرپشن، نامناسب خوراک، پراگندہ ماحول، ڈاکٹروں اور ادویات کی کمی سمیت دیگر کئی مسائل کا شکار کر رکھا ہے.

خاص طور پر بگرام جیل کی صورت حال نہایت گمبھیر اور پریشان کن ہے. قیدیوں کو افغان روایات اور شریعت کے خلاف لباس پہنا کر ذہنی تشدد کیا جاتا ہے. قیدیوں کے اہل خانہ کو مہینوں بعد ایک بار ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے. خوراک کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے، جس کے باعث قیدی مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ہیں. ڈاکٹروں اور ادویات کی کمی، ورزش پر عدم توجہ، جیل میں مامور سکیورٹی اہل کاروں کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنا رکھا ہے. انہیں عبادت، تلاوت اور آرام کرنے کے وقت شور مچا کر تکلیف دی جاتی ہے.

حال ہی میں امارت اسلامیہ کے ترجمان محترم ذبیح اللہ مجاہد نے قابض افواج اور کابل حکومت کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کی اور قیدیوں کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو دعوت دی کہ وہ قیدیوں کی صورت حال قریب سے دیکھیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں. "امارت اسلامیہ قابضین اور ان کی کٹھ پتلیوں کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس حوالے سے تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کی توجہ افغانستان کی مختلف جیلوں کی طرف مبذول کراتی ہے، جہاں قیدیوں پر روا رکھی گئی اذیت ناک صورت حال کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے. خاص طور پر بدنام زمانہ جیل بگرام کے قیدیوں کی صورت حال نہایت تشویش ناک ہے. انسانی حقوق کی تنظمیں جنیوا کنونشن کے قوانین کے مطابق قیدیوں کے علاج کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں. وہ ان انسانیت سوز مظالم کا راستہ روکیں یا اس بارے میں غیرجانب دارانہ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر کے اس کے نتائج میڈیا کو فراہم کریں.

حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی قید میں اکثریت مجاہدین کی ہے. بدنام زمانہ جیلوں میں موجود قیدیوں کو مقدمے کی سماعت کی سہولت نہیں دی جا رہی. غیرملکی حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کی جیلوں میں ہزاروں افغان شہری قید ہیں، جن کی اکثریت قیدی مجاہدین سے تعلق کے شبہ اور ان سے رشتہ داری کے جرم کی پاداش میں گرفتار کیے گئے ہیں. وہ لمبے عرصے تک بغیر کسی مقدمے کے جیلوں میں قید و بند کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*