امریکا کے تازہ ترین اعترافات ،کٹھ پتلیوں کی حقیقت کیا رہ گئی؟

حسن زوی

ہر کسی کے علم میں ہے کہ امارت اسلامیہ امریکی جارحیت تک ملک کے اندر شمالی اتحاد نامی ایسے گروہ سے جنگ میں مصروف رہا جو جنگی وسائل کے اعتبار سے زیادہ مضبوط یا تعداد کے اعتبار سے زیادہ نہیں تھا۔ یہ گروہ ملک کے 10 فیصد سے کم حصے پر حاکم رہا۔ اکثر اوقات دفاعی حالت میں رہا۔ اور اسی مخصوص علاقے کے علاوہ پورے ملک میں ان کی بو بھی محسوس کرنے کو نہیں ملتی تھی۔ نقصان پہنچانے کی بات تو بہت دور کی ہے۔ پھر بھی امارت اسلامیہ نے اس جنگ سے خود کو چھڑانے کے لیے بہت سی کوششیں کیں۔ کیوں کہ جنگ اگرچہ کمزور دشمن کے ساتھ ہو مگر جنگ پھر بھی جنگ ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے نوجوانوں کی زندگیاں خاک ہوجاتی ہیں۔ تباہی ہوتی ہے ۔ ملکی بجٹ کا اکثر حصہ اس کے لیے مخصوص کیا جاتاہے ۔ حکومت اور عوام کی توجہ اسی جانب ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سےمیں ترقی کا عمل بالکل رک جاتاہے۔

ایک نسبتا چھوٹے گروہ کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں جو جو نقصانات امارت اسلامیہ کے سامنے تھے اور اس کی وجہ سے جن مسائل کا سامنا تھا تو یہی وجہ تھی کہ جنگ سے خود کو چھڑانے کے لیے حقیقی کوششیں کیں ۔ امارت اسلامیہ اپنے کسی بھی پڑوسی یا خطے کے دیگرممالک میں سے کسی کے ساتھ بھی لڑائی جھگڑا نہیں چاہتی تھی ۔ چہ جائیکہ امریکہ جیسے طاقت ورملک کے ساتھ لڑائی مول لے۔ امارت لڑائی جھگڑے کو  اپنے آپ ، ملک اور عوام کے لیے سراسر نقصان سمجھتی تھی۔اس لئے امارت اسلامیہ اپنے تمام معاملات بہت احتیاط سے آگے بڑھا رہی تھی ۔ اوریہی وجہ تھی کہ امارت اسلامیہ نے گیارہ ستمبر کے بعد امریکا کو بار بار مذاکرات کی دعوت دی اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ مگر امریکا نے امارت اسلامیہ کی کسی ایک بات کو بھی قابل اعتناء نہیں سمجھا۔ افغانستان پر جارحیت کرکے یہاں اسلامی نظام کے خاتمے کے علاوہ اس کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ امارت اسلامیہ نے اسی وقت کہاتھا کہ 11 ستمبر کا واقعہ محض ایک بہانہ ہے ۔ امریکا اور دیگر مغربی قوتیں جن کے لیے اسلامی نظام دنیا کے کسی ایک کونے میں قابل برداشت نہیں ہے ، تو ان کا اصل ہدف ایک خالص اور اسلامی حکومت کا خاتمہ تھا اور خطے کی سطح پر اپنے مذموم مقاصد کا پورا کرنا تھا۔

مگر امریکی کٹھ پتلی افغان عوام کو مسلسل اس بات سے دھوکہ دینے کی کوشش کررہے تھے کہ امریکا یہاں جمہوریت ، امن کا قیام ، انسانی حقوق کا تحفظ اور افغانستان کی تعمیر نو چاہتا ہے اور اس کے علاوہ یہاں ان کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

اگرچہ یہ بات کسی بھی ذی شعور شخص کے لیے قابل تسلیم نہیں تھی کہ امریکا افغانستان جیسے ایک لاتعلق اور دور دراز میں واقع ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیے اپنے لاڈلے فوجیوں کی جان خطرے میں ڈالے گا۔ یا یہاں کروڑوں ڈالر خرچ کرے گا۔ مگر افغانستان اور باہر کی دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی جو خود کو مسلمان کہنے کے باوجود اس بات سے انکار کرتے تھے کہ امریکا نے افغانستان پر جارحیت کی ہے یا امریکا اس خطے میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دائمی حضور چاہتا ہے۔

جارج ڈبلیو بش انتظامیہ میں وزارت خارجہ سنبھالنے والی افریقی نژاد خاتون جو جنگوں کی شہزادی کے نام سے مشہور ہے انہوں نے چند دن قبل لیکچر کے دوران اور پھر ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا :” ہم پر کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ ہم نے عراق اور افغانستان میں جمہوریت کیوں نافذ نہیں کی ہے کیوں کہ ہماری لڑائی کا مقصد یہ نہیں تھا کہ عراق اور افغانستان میں جمہوریت قائم کی جائے بلکہ ہمارا مقصد صرف طالبان اور صدام حسین کا خاتمہ کرنا تھا۔ ان کی حکومت کا خاتمہ ہمارا مقصد تھا۔ ہماری جارحیت کا مقصد یہ تھا کہ وہاں اپنے دشمنوں کا خاتمہ کردیں جو امریکا اور خطے کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے تھے۔”

ان کے بقول انہوں نے ان خطرات کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رہا یہ سوال کہ وہاں ان حکومتوں کے خاتمے کے بعد جمہوریت کیوں قائم نہیں ہوئی ، انصاف پر مبنی عدالتی نظام کیوں سامنے نہیں آیا۔ یہ الگ مسئلہ ہے ۔ کیوں کہ یہ موضوع ہمارے ایجنڈے  میں شامل نہیں تھا۔

آپ دیکھیں ، وزیر خارجہ سطح کی ایک شخصیت کتنے واضح الفاظ میں امریکی جارحیت کے مقاصد بیان کررہی ہے۔

سچ یہ ہے کہ انہوں نے صلیبی جنگ کی حقیقت اسی طرح واضح کردی جس طرح کہ واقعہ تھا۔ اور جس طرح مجاہدین ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ یہ صلیبی جارحیت کے اہداف وہ نہیں ہے جو ان کے کٹھ پتلی بیان کررہے ہیں بلکہ ان کا ہدف یہاں اسلامی نظام کا خاتمہ ہے۔ اسلام اورمسلمانوں کا خاتمہ اور خطے کی سطح پر خطرناک مقاصد کے حصول کے لیے ان کا یہاں دائمی حضور ہے۔

کونڈالیزا رائس نے جہاں امریکا کی صلیبی جارحیت کا مقصد واضح کردیا وہاں امریکا کا اصل چہرہ بھی دنیا کو دکھا دیا کہ آبادی اور تعمیر امریکی ڈکشنری میں نہیں ہے بلکہ اس کا کام صرف اور صرف تباہی اور بربادی ہے وہ بہت ہٹ دھرمی سے کہہ رہے ہیں کہ ” جہاں تک یہ بات ہے کہ ان ممالک میں جمہوریت قائم نہیں ہوئی اور انصاف پر مبنی نظام قائم نہیں ہوسکا تو یہ الگ مسئلہ ہے ۔ یہ موضوع ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔

دیکھیے کتنے واضح الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ بربادی اور تباہی ان کے ایجنڈے میں تھی تعمیر اور آبادکاری ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا۔

اب امریکا سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے کہ کیا تمہاری مادی قوت اس لیے ہے کہ اس سے دنیا تباہ کردو اور نظاموں کاتختہ الٹاؤ۔ تم دنیا سے اتنا سفید جھوٹ کیوں بولتے ہو ۔ آپ کی انسانیت دوستی، انسانی ہمدری ، دنیا میں عدل وانصاف پر قائم جمہوری نظام کے قیام کے لیے آپ کی تیاری اور ہر ملک میں وہاں کے عوام کے مطابق حکومتیں بنانے کا حق دینے کے دعوے کہاں چلے گئے؟

اور سب سے اہم بات یہ کہ افغانستان اور عراق پر جارحیت کا مقصد طالبان اور صدام حسین کے خاتمے اور یہاں پر نافذ نظاموں کے گرانے کے بعد جو خود آپ کے بقول آپ کا ہدف تھا تو ہدف کے حصول کے بعد کیوں ان دونوں ممالک میں اپنی جارحیت کو دوام بخشا جارہا ہے۔

بس بات بہت واضح ہے ، بہت سے فلسفیانہ مباحثت کی ضرورت نہیں ہے ۔ امریکی قیادت میں مغرب کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کا اعلان کیا گیاہے۔ دشمن کو بہت زیادہ نقصان پہنچانا بھی جنگ کی ایک کامیابی سمجھی جاتی ہے۔آباد شہروں کی تباہی ، آباد شہروں کو کھنڈرات میں بدلنے اور شہریوں کو ہجرت اور دربدری پر مجبور کرنے کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف بہانوں سے ذلت سے بھرپور زندگی پر مجبور کرنا صلیبی اتحاد کے اعلان شدہ جنگ کا سب سے بڑا مقصد ہے اور یہ اتحاد اپنے اس ہدف میں بہت کامیاب جارہاہے۔

مسلمان یہ بات خوب سمجھ لیں کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک اسلامی دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی جمہوریت نہیں چاہتے جو مغرب میں رائج ہے ، یہ لوگ اسلامی ممالک پر ان ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کو مسلط دیکھنا چاہتے ہیں جو اپنے عوام پر خوب مظالم ڈھاتے رہیں۔ جہاں اسلام پسندوں کو وہاں سر اٹھانے نہیں دیا جائے، سب کی قانونی آزادی سلب کرکے رکھ دی گئی  ہو، امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے حلقہ بگوش غلام کی طرح لبیک کہیں۔

اگر کسی اسلامی ملک میں جارحیت کے بعد جمہوریت کے قیام کا اعلان کیا بھی گیا ہے تو وہاں برائے جمہوریت قائم کی گئی ہے ، جس میں خوشامدی ، ڈاکو ، چور ، سمگلراور وار لارڈز صاحب اقتدار ہیں۔ اس مسلط کردہ انارکی میں اس ملک کی کلچرل اقدار تباہی کا شکارہوں اور دینی ہدایات اور تعلیمات کی فضا گرد آلود رہے۔

اور اس طرح کی جمہوری حکومت کی حقیقت وہی ہوتی ہے جو افغانستان اور عراق میں ہے۔

جارحیت پسندوں کے خوشامدی دفاع کار جو کہتے تھے کہ بیرونی قوتیں یہاں اس لیےآئی ہیں کہ یہاں جمہوریت قائم کردی جائے ، انصاف قائم کی جائے ، تعمیر نو کرکے دیں ، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات فراہم کریں ، امن ، خوشحالی اور ترقی لائیں۔ کونڈو لیزا رائس کے واضح کردہ مغربی مقاصد کے بعد کٹھ پتلیوں کی یہ باتیں ان کے ماتھے پر سیاہ دھبہ ہیں ۔ کونڈو لیزا کے بیان کردہ حقائق کے بعد ان کا جھوٹ سورج کی طرح واضح ہوکر سامنے آتاہے۔

کٹھ پتلیوں اور کٹھ پتلیوں کے تعاون سے جارحیت پسندوں نے جن لاکھوں لوگوں کو شہید کیا ، گذشتہ 16 سالوں میں لاکھوں بے گناہ لوگوں کو جیلوں میں ڈالا، مظلوم افغانوں کے گھروں پر جارحیت کردی ، غریب افغان شہریوں کے ناموس اور عزتوں کو پامال کیا اب وہ وقت آگیا ہے کہ کابل انتظامیہ کے کٹھ پتلی اپنے ان ظالمانہ اقدامات اور اپنے آقاوں کے اس طرح بیانات کے حوالے سے شرم اور ندامت کا احساس کریں۔ درمیان سے نکل افغان عوام کو جارحیت کے خلاف اور جارحیت کے خاتمے کے لیے متحدہ ہونے دیں اور اپنے مستقبل کا عنوان خود مرتب کرسکیں۔

ہاں! اپنے غیور عوام سے ہمیں امید ہے کہ اب یہاں تمام تضادات کا خاتمہ ہوگا، سب جارحیت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان کے ناپاک وجود اور ان کے ابدی مظالم سے نجات حاصل کرلیں گے ۔ ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*