دشمن کے ہاتھوں مجاہدین ہی شہید ہوتے ہیں؟

آج کی بات:

غاصبین اور ان کے داخلی سہولت کاروں کی جانب سے افغانستان کے طول وعرض میں روزانہ ہزاروں افغانوں کی ڈھیروں خوشیوں کو غموں سے آلودہ کت دیا جاتا ہے۔ غاصبین اور کابل انتظامیہ کے ڈرون اور فضائی حملوں، چھاپوں، میزائل حملوں اور فائرنگ سے بچے، بوڑھے، مرد اور عورتیں زخمی اور شہید ہو رہے ہیں۔ انہیں ہتھکڑیاں ڈال کر جیل میں قید کر دیا جاتا ہے۔ دشمن کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے جرائم کو چھپا لیا جائے۔ جرائم چھپانے میں میڈیا گروپس بھی ان کے ساتھ شریک جرم ہیں۔ بسا اوقات میڈیا کے ذریعے وہ اپنے جرائم کو مجاہدین کی طرف منسوب کر کے مجاہدین کے خلاف منفی پروپگنڈے بھی کرتے ہیں۔ بہت ہی کم تعداد میں دشمن کی طرف سے کیے گئے جرائم کو افغان میڈیا پر نشر کیا جاتا ہے، لیکن حد تو یہ ہے کہ بیسیوں انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کے باوجود یہی کم تعداد جو میڈیا پر نشر ہو رہی ہے،  کسی میں ہمت نہیں کہ انہیں سزا دے سکے۔

حال ہی میں مغربی میڈیا نے افغانستان میں غاصبین کی وحشت و سربریت کی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ سنڈے میگزین اور میگزین آن لائن نے لکھا ہے کہ نیٹو کی سربراہی مین بیرونی افواج افغان عوام کو مار کر ان کے ہاتھ میں اسلحہ تھما دیتی ہے،  جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلح کارروائی کے دوران مجاہدین کو قتل کیا گخا ہے۔ گذشتہ ہفتے کو کابل انتظامیہ نے ایک مقابلے کے دوران دو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پھر ان کی جانب سے ایسی تصویریں جاری کی گئیں کہ مرنے والوں کے ہاتھ میں اسلحہ تھا،  جس سے یہ ثابت کیا جا رہا تھا کہ عوام کو نہیں،  بلکہ مجاہدین کو مارا گیا ہے۔

دوسری طرف عوام نے ان کا یہ دعویٰ یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عوام بتاتے ہیں کہ مرنے والوں کو جنرل عبدالرازق کے دہشت گردوں نے پکڑ کر شہید کیا تھا۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے قریب اسلحہ رکھ دیتے ہیں، جس سے یہ ثابت کیا جا تہا ہوتا ہے کہ دوران مقابلہ مجاہدین ہی کو شہید کیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

مختلف مقامات اور اوقات میں غاصبین اور کابل انتظامیہ نے مجاہدین کے نام پر افغان عوام کو شہید کر کے ان کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر رپورٹس جاری کیں کہ اتنی تعداد میں مجاہدین شہید کیے گئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*