جنگی جرائم دسمبر 2016

سیدسعید                   

2 دسمبر کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع سیدآباد کے علاقے ’اوتڑیو‘ میں اُجرتی فورسز نے ایک ملکی شہری ’ملنگ آکا‘ کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔

7 دسمبر کو صوبہ لوگر کے  علاقے خواجہ انگور کے علاقے بنوخیل میں افغان فورسز کے مارٹر گولے کے حملے میں ایک بچہ اور ایک خاتون شہید ہو گئیں۔

9 دسمبر کو صوبہ دائی کنڈی کے ضلع گیزاب کے علاقے نیکوزو اور جلیزو میں اجرتی فورسز نے مجاہدین کے ساتھ جھڑپ کے بعد مقامی لوگوں کو لوٹنے کے بعد گھروں کو آگ لگا دی۔  عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے پہلے سیدان اور جلیزو نامی گاؤں سے 53 گھروں کو لوٹنے کے بعد انہیں جلا دیا۔ اس کے علاوہ نیکوزو کے بازار میں 48 دکانوں کو بھی لوٹ مار کے بعد جلا دیا۔

11 دسمبر کو صوبہ نورستان کے ضلع برگمٹال کے علاقے بدین شاہ میں افغان فورسز نے مقامی لوگوں کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی لینے کے دوران کئی لوگوں کو مارا پیٹا گیا اور پانچ شہریوں کو شہید کر دیا۔ اسی دن نورستان کے ضلع دوآب کے علاقے ’پیار کلی‘ میں داخلی فوج کے مارٹر گولے کے حملے میں ایک شہری شہید اور تین بچے زخمی ہو گئے۔ جب کہ  صوبہ زابل میں اجرتی فورسز نے شاہ جوئی کے علاقے ہوتکزو، ملا اکرم اور اشغی میں چھاپے کے دوران ایک شہری ’بشیراحمد ولد صابر‘ کو شہید اور دیگر تین شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

12 دسمبر کو صوبہ ہرات کے ضلع شین ڈنڈ کے علاقے چہاردرہ میں اربکی ملیشیا کے اہل کاروں نے اپنے کمانڈر عبدل کے قتل کے الزام میں چار شہریوں کو ان کے گھروں سے حراست میں لے کر شہید کر دیا۔ جب کہ پکتیا کے ضلع زرمت کے علاقے ترکو میں مقامی فورسز نے گولی مار کر ایک شخص کو شہید اور دو افراد کو زخمی کر دیا۔

15 دسمبر کو ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے وزیر میں مقامی ملیشیا کے اہل کاروں کی فائرنگ سے تین شہری زخمی ہو گئے۔ جب کہ پکتیا کے ضلع احمدخیل کے علاقے سکندر خیل میں فورسز نے فائرنگ کر کے ٹرک ڈرائیور کو شہید کر دیا۔ اسی دن لوگر کے ضلع محمدآغا کے علاقے کتب خیل میں اربکی ملیشیا کے اہل کاروں نے ایک پرائمری اسکول کو جلا دیا، جس میں ساڑھے پانچ سو طلبا زیرتعلیم تھے۔

20 دسمبر کو صوبہ ہرات کے ضلع شین ڈنڈ کے علاقے بارتخت میں فورسز کی فائرنگ سے ایک خاندان کے چار افراد زخمی اور ایک بچہ شہید ہو گیا۔

22 دسمبر کو فاریاب کے ضلع قیصار کے علاقے شاخ بازار میں مقامی اہل کاروں نے 15 سالہ نوجوان کو گاڑی سے اتار کر شہید کر دیا۔ اس سے اگلے دن صوبہ میدان وردگ کے ضلع جلریز میں قابض فوج نے اجرتی فورسز سے مل کر مقامی لوگوں کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ گھروں کے دروازے توڑ دیے۔ لوگوں کو مارا پیٹا گیا اور ایک بزرگ ’حاجی لعل جان‘ کو شہید کر دیا۔ جب کہ فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے گورآغلی میں فورسز نے فائرنگ کر کے عبدالحق نامی شخص مسجد سے گھر جا رہا تھا کہ اُسے بلاوجہ فائرنگ کر کے شہید کر دیا ۔

24 دسمبر کو صوبہ پکتیا کے ضلع جانی خیل کے مضافات میں مقامی اہل کاروں کی فائرنگ سے ایک شخص شہید ہو گیا۔ اگلے دن صوبہ ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ کے علاقے ڈاگہ میں جارحیت پسندوں نے مقامی فورسز کے ہمراہ مقامی لوگوں کے گھروں پر چھاپے کے دوران دو افراد کو شہید اور 7 کو حراست میں لے لیا۔ جب کہ اسی ضلع کے علاقے دوہم فارم میں فورسز کے راکٹ حملے میں ایک شخص شہید اور چھ دیگر افراد، جن میں خواتین اور بچے شامل تھے، زخمی کر دیے گئے۔ 28 دسمبر کو اسی ضلع بتی کوٹ کے علاقے تورغر میں فورسز نے مقامی آبادی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے وہاں مقیم خانہ بدوشوں کے 13 افراد زخمی ہو گئے۔ اسی دن صوبہ پکتیکا کے ضلع مٹھاخان کے علاقے مردیان میں مقامی اہل کاروں نے دو شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد شہید کر دیا۔

ذرائع: بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال ، لر اوبر، نن ڈاٹ ایشیا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*