جنگی جرائم جنوری 2017

سید سعید

3جنوری 2017 کو صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے علاقے ارباب قلعہ میں فورسز نے ایک طالب علم ’سعیدالرحمن ولد عبدالرحمن‘ کو شہید کر دیا۔ شہید کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ان دِنوں اسکول سے چھٹی تھی اور وہ ہاسٹل سے گھر آیا ہوا تھا۔ چار روز قبل فورسز نے اس کو گرفتار کیا تھا اور اب اس کی لاش ملی ہے، جس پر تشدد کے نشانات ہیں۔ اسی دن صوبہ قندھار کے ضلع میوند کے علاقے بندتیمور میں قابض فوجیوں نے اجرتی فورسز سے مل کر مقامی آبادی پر چھاپہ مارا۔ جس میں دو بے گناہ شہریوں کو شہید اور دو کو زخمی کر دیا۔

ایک دن بعد 5 جنوری کو صوبہ زابل کے ضلع شاہ جوئی کے علاقے موسی زو پہاڑی میں پولیس نے ایک بزرگ شخص ’عبدالسلام کاکا‘ کو شہید کر دیا، جب کہ اس واقعے سے دو دن پہلے بھی پولیس نے شہری ’شیرمحمد‘ کا دس سالہ بچہ شہید کر دیا تھا۔ اسی دن صوبہ ننگرہار کے ضلع پچیر اگام میں صبر لنڈہ خیل کے علاقے میں مقامی فوجی اہل کاروں کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے کے حملے میں دو بچے شہید اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔

7 جنوری کو صوبہ لغمان کے دارالحکومت مہترلام کے علاقے بسرام میں مقامی اہل کاروں نے ایک شہری کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ اسی دن میڈیا نے رپورٹ شایع کی کہ صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب میں فورسز کے آپریشن کے باعث سیکڑوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ایک قبائلی رہنما نجیب اللہ رحیمی کے مطابق موسم سرما کی شدید سردی میں 450 خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر کھلے آسمان تلے دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

9 جنوری کو صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کے مضافات میں مقامی اہل کاروں نے فائرنگ کر کے ایک شہری کو شہید اور تین کو زخمی کر دیا ۔

11 جنوری کو صوبہ نیمروز کے ضلع خاشرود کے علاقے خیرآباد میں مقامی اہل کاروں نے آپریشن کے دوران دس عام شہریوں کو زخمی اور تین معصوم بچوں کو شہید کر دیا۔ لوگوں کے وسائل کو جلا دیا گیا اور گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کر دیا۔ اس سے اگلے دن غیرملکی حملہ آوروں نے مقامی اہل کاروں سے مل کر صوبہ ننگرہار کے ضلع ضنی خیل کے یونین کونسل 26 میں مقامی آبادی پر چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی لینے کے دوران ایک شخص ’حاجی حضرت آکا‘ کے گھر میں چار بچوں اور تین مہمانوں کو شہید کر دیا۔ جب کہ اسی گھر کے چھ افراد کو حراست میں لے کر چلے گئے۔ اسی دن صوبہ فراہ کے دارالحکومت کے گرد و نواح میں اُجرتی قاتل فورسز نے مجاہدین کے ساتھ تعاون کے شبہے میں 24 افراد کو گرفتار کر لیا۔ جب کہ صوبہ کاپیسا کے ضلع نجراب کے علاقے افغانیہ میں مقامی اہل کاروں نے فائرنگ کر کے دو شہریوں کو شہید اور تین کو زخمی کر دیا۔ اسی دن بدخشان صوبے کے دارالحکومت فیض آباد کے علاقے خمبیل میں دہشت گرد ملیشیا کے اہل کاروں نے ایک مدرسے کو آگ لگا دی۔ قرآن پاک، دینی کتب اور دیگر تدریسی سازو سامان جلا کر راکھ کر دیا گیا۔

15 جنوری کو صوبہ قندوز کے ضلع خانہ آباد میں مقامی اہل کاروں نے تین اساتذہ اور دو طلباء کو بلاوجہ گرفتار کر لیا۔ اس سے اگلے دن صوبہ ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ کے علاقے چہارم فارم میں مقامی اہل کاروں نے بلاوجہ مارٹر گولے داغے، جو ایک گھر پر لگے، جس سے ایک عورت شہید ہو گئی۔ جب کہ  17 جنوری کو صوبہ قندھار کے ضلع نیش میں ایک ظالم وحشی کمانڈر نیاز نے ایک اسکول کے دورے کے دوران ایک طالب علم کو باہر نکال کر شہید کر دیا۔

20 جنوری کو صوبہ فراہ کے دارالحکومت کے مضافات میں ’سرخ‘ نامی  گاؤں میں پولیس نے اپنی گاڑی کے قریب کھڑے بچوں پر بم پھینکا، جس کے نتیجے میں دو بچے جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ مرنے والے بچوں کے چچا عبدالرؤف نے بتایا کہ تینوں بچے بھیڑبکریاں چرانے گئے تھے، جو پولیس کی درندگی کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ انہوں نے اپنے بچوں کے قاتلوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس جرم کو ناقابل معافی قرار دیا ہے۔

22 جنوری کو صوبہ اروزگان میں پرائیویٹ ہسپتال کے ڈائریکٹر ’توخی‘ نے میڈیا کو بتایا کہ ضلع ’چوری‘ سے چودہ زخمیوں کو ان کے ہسپتال لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ زخمی عام شہری ہیں، جو گزشتہ روز غیرملکی حملہ آوروں کے فضائی حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم جاں بحق افراد کی تعداد معلوم نہیں ہے۔

26 جنوری کو جارحیت پسندوں نے صوبہ ہلمند کے ضلع نوزاد کے علاقے سلام بازار میں چھاپے کے دوران تین شہریوں کو شہید اور دو کو زخمی کر دیا۔

29 جنوری کو صوبہ کنڑ کے ضلع سرکاڑو میں مقامی اہل کاروں کی فائرنگ سے ’شائستہ گل‘ نامی شخص کے گھر کی ایک خاتون اور ایک بچہ زخمی اور ایک بچہ شہید ہوگیا۔

ذرائع: بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*