جنگی جرائم (فروری2017)

 

تحریر: سید سعید

 

یکم فروری 2017 کو صوبہ خوست کے ضلع صبریو کے بازار میں افغان اہلکاروں نے ایک دکانمیں دو چچازادبھائیوں میں ایک کو شہید اورایک کو زخمی کردیا ۔

2 فروری کو صوبہ ننگرہار ضلع سرخرود کے علاقہ چمتلی میں قابض افواج کے اہلکاروں اور افغان فورسز نے ملکر گھر گھر تلاشی کے دوران لوگوں کو مارا پیٹااورسات افراد کو گرفتار کیا گیا ۔

2 فروری کو شمشاد ٹی وی نے رپورٹ نشر کی کہ صوبہ پکتیکا ضلع برمل کے علاقہ ٹنڈی مرغی میں پولیس نے ایک 16 سالہ لڑکا شہید کردیا ۔

5 فروری کو صوبہ ننگرہار ضلع چپرہار کے علاقہ دولت زئی میں قابض افواج کے طیاروں نے بمباری کر کے ایک شہری کو شہید کردیا ۔

6 فروری کو صوبہ لغمان ضلع الینگار کے علاقہ میدانی میں کٹھ پتلی فورسز کے مارٹر حملے میں تین شہری شہید اور چار زخمی ہو گئے ۔

9 فروری کو صوبہ ہلمند ضلع سنگین کے بازار کے قریب شہری آبادی پر قابض افواج نے شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 26 شہری شہید ہوئے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی جبکہ 13عام شہری زخمی ہوئے ،اس کے علاوہ اس بمباری میں ایک مسجد اور دو مکانات بھی تباہ ہو گئے ، کٹھ پتلی حکومت اور غیر ملکی قوتوں نے پہلے اس حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تردید کی تھی لیکن بعد میں شہری ہلاکتوں کا اعتراف کیا ۔

11 فروری کو صوبہ ہلمند ضلع سنگین کے کلی حاجی امین پر غیر ملکی حملہ آوروں کی بمباری میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شہید اور 8 زخمی ہوئے ۔

12 فروری کو صوبہ ارزگان کے ضلع خاص روزگان کے علاقے شالی ناوہ میں قابض افواج کے فضائی حملے میں پانچ شہری زخمی ہو گئے ۔

16 فروری کو صوبہ فریاب ضلع شیرین تگاب کے علاقے گوردزاد میں سرکاری فورسز کی فائرنگ سے 75 سالہ بزرگ شہری شہید اور ایک شخص زخمی ہوا ۔

19 فروری کو مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقہ ہاشم خیل میں غیر ملکی حملہ آوروں اور ان کے کارندوں نے ملکر چھاپہ مارا، گھروں کے دروازوں کو توڑ دیا ،شہریوں کو مارا پیٹا، سید عارف نامی ایک شخص کو شہید اور مسجد میں موجود تبلیغی جماعت کے 6 ساتھیوں اور چار مقامی افراد کو حراست میں لیا گیا ۔

20 فروری کو صوبہ پکتیا ضلع زرمت کے علاقہ قلعہ نیکنام میں افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک معصوم بچی شہید اور چار بچے زخمی ہو گئے ۔

21 فروری کو صوبہ سرپل میں پولیس نے ایک شخص شہید اور ایک کو زخمی کردیا ۔

22 فروری کو قندوز کے ضلع دشت ارچی میں سیکورٹی فورسز کے راکٹ حملے میں دس شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔

22 فروری کو صوبہ زابل ضلع نوبہار کے علاقے بٹخیل میں غیر ملکی حملہ آوروں نے چھاپے کے دوران چار افراد کو حراست میں لیا ۔

22 فروری کو صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل کے مضافات میں جارحیت پسندوں نے افغان فورسز کے ساتھ ملکر چھاپہ مارا اس دوران دو افراد کو زخمی اور تین افراد کو گرفتار کیا ۔

22 فروری کو صوبہ کاپیسا ضلع الہ سای کے علاقے حسین خیل گاؤں پر حکومتی فورسز نے مارٹر گولہ داغا جو ایک مکان پرجا گرا جس میں ایک دلہن سمیت تین خواتین جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا ۔

23 فروری کو صوبہ فراہ ضلع فراہ رود کے بازار میں افغان فورسز نے چھ دکانوں اور دو باغوں کو تباہ کیا ۔

24 فروری کو صوبہ غزنی ضلع آب بند کے گاؤں خدوخیل میں مقامی فورسز نے ایک شخص (فیض اللہ ولد محمد سرور) کو شہید کردیا ۔

24 فروری کو قندوز کے صوبائی دارالحکومت کے نواح لوئی کنم میں قابض افواج نے افغان اہلکاروں کے ساتھ ملکر چھاپہ مارا اس دوران انہوں نے اندھادھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار خواتین زخمی ہوگئیں ۔

25 فروری کو قندوز کے صوبائی دارالحکومت کے مضافات چبرمہ اور امین آباد میں قابض افواج کے اہلکاروں اور افغان فورسز نے مشترکہ چھاپے کے دوران گھروں کے دروازوں کو بموں سے اڑایا ، مقامی لوگوں پر تشدد کیا گیا اور انہیں دھمکیاں دیں اور دو افراد کو حراست میں لیا  ۔

25 فروری کو صوبہ لغمان کے صوبائی دارالحکومت مہتر لام کے نواح بسرام کے علاقے میں مولوی حبیب الرحمن کے مدرسہ پر فورسز نے مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں دو طالب علم شہید اور ایک استاد سمیت سات طلبہ زخمی ہوگئے ، شہریوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور بطور احتجاج شہداء کی لاشوں کو گورنر ہاوس کے سامنے رکھ کر واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔

25 فروری کو صوبہ ننگرہار ضلع سرخ رود کے علاقہ کنکرک میں قابض افواج کے اہلکاروں اور افغان فورسز نے ملکر چھاپہ مارا، شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو مارا پیٹا کیا گیا اور دو افراد کو حراست میں لیا ۔

26 فروری کو صوبہ زابل ضلع خاک افغان کے بازار کے قریب پچک گاؤں میں افغان فورسز کے فضائی حملے میں دو شہری شہید ہوگئے ۔

26 فروری کو صوبہ قندوز کے صوبائی دارالحکومت نواح بز قندھاری کے علاقے پر قابض افواج کے اہلکاروں نے اپنے کٹھ پتلی کارندوں کے ساتھ مل کر چھاپہ مارا، اس دوران ایک پیش امام کو شہید اور متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ۔

ذرائع: "بی بی سی، آزادی ریڈیو ، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال ، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور بینوا ویب سائٹس”

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*