منصوری کارروائیوں کے کامیاب نتائج

آج کی بات:

 

منصوری آپریشن کے آغاز سے قابض افواج اور ان کی کٹھ پتلی فورسز بہت خوف زدہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ کئی علاقے ان کے کنٹرول سے یکے بعد دیگرے نکل رہے ہیں۔ ان کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔ فوج کے اہل کار میدان چھوڑ کر صوبائی دارالحکومتوں میں سمٹ رہے ہیں۔ مجاہدین نے جارحیت پسندوں پر حملے بڑھا دیے ہیں۔ دشمن کے مقابلے میں مجاہدین کی قوت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دشمن کے فضائی حملوں، توپ خانے اور رات کے چھاپوں میں ہر روز شہریوں کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے، لیکن مجاہدین نے بھی اپنی بھرپور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ غیرملکی حملہ آوروں اور کابل حکومت کے مسلح اہل کاروں کو ہر روز ہلاک کیا جاتا ہے۔ ان کا ساز و سامان تباہ کیا جاتا ہے۔ انہیں بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالی کی مدد سے حال ہی میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں امن کا سفید پرچم لہرایا گیا ہے۔صوبہ فاریاب کے ضلع غورماچ مکمل طور پر فتح ہو گیا ہے۔ دشمن کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ مجاہدین کو بہت سے وسائل اور مال غنیمت کے ذخائر ہاتھ لگے ہیں۔ دشمن نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ضلع پر قبضہ کرنے کے لیے متعدد بار آپریشن کیا، لیکن اُسے ہر بار ناکامی ہوئی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مجاہدین نے صوبہ پکتیا میں بھی منصوری آپریشن کے تحت کامیاب کارروائی کے نتیجے میں ضلع جانی خیل کو تمام متعلقہ علاقوں سمیت فتح کر لیا ہے۔ دشمن نے اس علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کئی بار کوشش کی، لیکن اُسے ہر بار ہزیمت اٹھانا پڑی۔ کٹھ پتلی قابض افواج کی بھرپور فضائی قوت کی موجودگی کے باجود اب تک اس اہم ضلع پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ علاوہ ازیں مجاہدین نے قندوز، قندھار، ہلمند، پکتیا، لغمان، نورستان، بغلان، بادغیس، فراہ، غزنی اور دیگر صوبوں میں بھی وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر کے دشمن کو پسپا کر دیا ہے۔مفتوحہ علاقوں کے عوام کو کابل حکومت کے مسلح اہل کاروں کے ظلم اور شر سے نجات ملی ہے۔ ڈاکو بھاگ گئے ہیں۔ اغوا کار غائب ہو گئے اور عوام نے شریعت کے قانون کی فضا میں امن و خوشی کی ایک نئی زندگی شروع کر دی ہے۔

منصوری کارروائیاں اندازے سے بڑھ کر کامیابی کی طرف جا رہی ہیں۔ ان مقدس کارروائیوں کے نتیجے میں جارحیت پسندوں اور کابل انتظامیہ کو بہت زیادہ نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ دس سے زائد اضلاع مکمل طور فتح ہو چکے ہیں۔ بہت سے علاقوں پر امارت اسلامیہ کی حکمرانی قائم ہو گئی ہے۔ مفتوحہ علاقوں میں لوگوں کے مسائل  بہت حد تک حل ہوگئے ہیں۔ زراعت بہتر ہوئی ہے۔ تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ سکیورٹی خطرات سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ تعلیمی ادارے فعال ہو گئے اور ترقیاتی منصوبے شروع ہو گئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*