۰۶/ میزان: فتحِ کابل کی مناسبت سے امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

06؍میزان ،21 سال قبل اسی دن افغانستان کا دارالحکومت ’کابل‘ باہمی جھگڑوں میں اُلجھے ہوئے جنگ جوُؤں کے چنگل سے آزاد ہوا، جس سے وہاں صلح و امن کا سفید پرچم لہرا دیا گيا۔ افغانستان کی تاریخ میں یہ ناقابل فراموش دن ہے کہ امارت اسلامیہ نے کابل فتح کیا، جس سے یہ خطہ سے شروفساد، انارکی، بدامنی اور ہر قسم کے مصائب کا خاتمہ ہوا۔ اُن دنوں کابل جن دہشت ناک حالات اور خطرناک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کابل کو ایسےناگفتہ بہ حالات سے نجات ملنا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ امارت اسلامیہ اس امن آفریں فتح کو جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا۔

امارت اسلامیہ آج ایک بار پھر اُس تاریخی دن کی یاد میں اپنے مؤمن عوام کو مبارکباد پیش کرتی ہے۔ امارت اسلامیہ مسلمانوں کو پُرامید رہنے کی تلقین کرتی ہے کہ وہ دن دور نہیں، جب ایک بار پھر دارالحکومت کابل پر خودمختاری اور آزادی کا سفید پرچم لہرا رہا ہوگا۔ مسلمان انتظار کریں کہ وحشی استعمار سے نجات کے دن قریب ہیں۔  امارت اسلامیہ کی جانب سے کابل کی فتح نہ صرف افغانستان کی قسمت بدلنے کا ایک تاریخی واقعہ تھا، بلکہ اس واقعے کی ساخت اور منصوبہ بندی بھی بےمثال تھی۔امارت اسلامیہ کے مجاہدین اندھیری رات میں کئی اطراف سے کابل میں داخل ہوئے۔اس کارروائی میں کسی عام مسلمان کا گھر برباد ہوا،کسی کا سرمایہ چوری ہوا اور نہ ہی عوام الناس کو کچھ نقصان پہنچا۔ اسی طرح سرکاری ادارے، بینک، دکانیں وغیرہ لوٹی گئیں اور نہ ہی کوئی ایسا سانحہ رونما ہوا، جو عموماً ایسے جنگی حالات میں پیش آتے رہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین عام بندوق برداروں کی طرح کابل میں لوٹ مار اور فساد پھیلانے کے لیے داخل نہیں ہوئے تھے۔وہ تو نظم و ضبط، صلح اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے کابل کو فتح کرنا چاہتے تھے، جسے دنیا بھر نے ملاحظہ بھی کیا تھا۔

امریکی قبضے اور کٹھ پتلی پنجوں میں پھنسے ہوئے کابل شہر کی صورتحال ایک بار پھر ویسی ہی ہو گئی ہے۔ آج کابل جیساتاریخی شہر 06؍میزان کا دن یاد کرتا ہے۔ پہلے اہلیانِ کابل کی زندگی جنگوں کی وجہ سے مصائب سے دوچار تھی۔جب کہ آج استعمار کی سکیورٹی باڑوں اورحفاظت کی خاطر کھڑی کی گئی مختلف رکاوٹوں سے ان کے مذہب اور ثقافت خطرات کا شکا رہے۔ انسانیت کی خدمت کا دعوی کرنے والی قوتیں استعمار اور اس کے کٹھ پتلیوں کی وحشت سے متعلق کوئی کچھ کہتا ہے اور  نہ ہی اہل کابل کے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس چھوٹے قصبے کے راستے اور سڑکیں شہریوں کے لیے بند کردی گئی ہیں۔ تنگ گلیوں اور راستوں کے ذریعے آمدورفت عوام کے لیے ایک عظیم مسئلہ بن چکا ہے۔دوسری طرف استعمار کی جانب سے مسلط کرپٹ انتظامیہ کی لوٹ مار، غبن، رشوت ستانی اور بے پناہ کرپشن کی وجہ سے کابل کے مصیبت زدہ شہریوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔افغان مسلمان ایک مرتبہ ایسی طاقت کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں، جو افغانستان کے ’دل‘(کابل) کو ایک بار پھر امریکی غلاموں اور شروفساد کے عناصر سے نجات دلادے۔ یہ حقیقت ہے کہ ظلم اور فساد کی حکمرانی ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔ان شاء اللہ وہ دن قریب ہے کہ کابل ایک بار پھر کرپٹ نظام سے آزاد ہو کر امن و امان اور اسلامی نظام کے زیرسایہ زندگی گزار سکے گا۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز

امارت اسلامیہ افغانستان

۰۸/ محرم الحرام ۱۴۳۹ ھ ق

۰۷/ میزان ۱۳۹۶  ھ ش

۲۸ / ستمبر ۲۰۱۷ ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*