امن منصوبے سے متعلق سیاسی دفتر کی کوششوں کی مخالفت سے متعلق اعلامیہ

دنیا کو معلوم ہے کہ گزشتہ 16 سالوں سے افغانستان میں امریکااور اس کےحواریوں کی جارحیت کے خلاف امارت اسلامیہ جائز جہادی جدوجہد کررہی ہے، مگر استعماری ممالک امارت اسلامیہ پر الزام لگا رہےہیں کہ ’امارت پُرامن حل کے لیے کسی پروگرام کا ارادہ نہیں رکھتی، بلکہ اُس صرف جنگ پر اصرار ہے۔اسی وجہ سے ہم مجبور ہیں کہ جنگ کو طول دیں۔‘

یہ امارت اسلامیہ کے خلاف ایک بےبنیاد الزام ہے۔افغان مسئلے کا پُرامن حل امارت اسلامیہ کی پالیسی تھی اور ہے۔ امارت اسلامیہ نے اپنی پالیسی کی وضاحت کی خاطر 2011ء میں مذاکرات سے متعلق مختلف پہلوؤں پر موافقت کے بعد مملکت قطر کے دارالحکومت کو تجربہ کار اور اعتماد یافتہ سیاسی نمائندے بھیجےگئے تھے، تاکہ وہ جگہ امارت اسلامیہ کی جانب سے صلح کے منصوبے کی جدوجہد کے لیے رابطے کے مرکز کی حیثیت اختیار کرے۔ امارت اسلامیہ کی قیادت نے نمائندوں کو ذمہ داری سونپ رکھی ہے کہ وہ افغان مسئلے کے پُرامن کے لیے کوششیں کریں۔

اگر دیگر ممالک کے نمائندے اُن سے  ملاقاتیں کریں تو ایجنڈے، صلح اور اس سے متعلق امارت اسلامیہ کے مؤقف کی وضاحت کی جائے۔ سیاسی دفتر امارت اسلامیہ کا ایک بااختیارادارہ ہے۔ اس کے علاوہ امارت اسلامیہ کا کوئی اور ادارہ یا شخص اس بارے میں فی الحال یا مستقبل میں خفیہ یا اعلانیہ سرگرمی دکھا سکتا ہے اور نہ ہی اسی کی اجازت دی گئی ہے۔

سیاسی دفتر نے اپنا کام انجام دیا ہے،لیکن مخالف فریق نے بار بار امن منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکائے ہیں۔ جب کہ حالیہ دنوں وہ امارت کے سیاسی دفتر کو بند کرنے کی افواہیں پھیلارہا ہے۔ یہ پروپیگنڈا مہم ہمارے خلاف ناکام جنگ میں مصروف دشمن کی امن مخالف سرگرمیوں کو واضح کرتی ہے۔

مثال کے طور پر 2011ء کو دوسری بون کانفرنس میں امارت اسلامیہ کے سیاسی وفد کی شرکت کا فیصلہ ہوا تھا، تاکہ مسئلے کا حقیقی اور پُرامن حل سامنے لایا جا سکے، لیکن افغان انتظامیہ نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور امریکا نے اُس کی تائیدکر دی۔ اُسی سال جب امارت اسلامیہ کے نمائندے قطر پہنچنے، کابل انتظامیہ نے مخالفت کا اظہار کیا اور احتجاج کے طور پر قطر سے اپنے سفیر کو واپس بُلا لیا۔

فرانس کے ’شانٹیلی‘ شہر میں 2012ء  میں صلح کانفرنس کے بعد  2013ء  کے آغاز میں ترکمانستان میں ایک اَور کانفرنس منعقد ہونے کا سلسلہ قائم ہوا، تاکہ صلح کی راہ ہموار ہو سکے، مگر کابل انتظامیہ نے مخالفت کر دی۔2013ء میں امریکاکے نمائندے سے ملاقاتوں کے بعد دوحا شہر میں مذاکرات کے لیے رسمی طور پر دفتر کا افتتاح کیا گیا، مگر مذاکرات کے آغاز سے قبل کابل انتظامیہ نے فی الفور نام اور پرچم کے بہانے مخالفت کر دی کہ اِن مذاکرات میں جمہوری افغانستان کے بجائے امارت اسلامیہ کا جھنڈاکیوں لہرایا جا رہا ہے، جس پر امریکا نے بھی کابل انتظامیہ کی بے جا مخالفت کی تائید کر دی۔

جب جنوری 2016ء میں دوحا میں دوسری پگواش کانفرنس  میں شرکت کے لیے کابل سے مہمان آرہے تھے تو کابل ائیرپورٹ میں اُن کا سفر روکنے کی کوشش کی گئی۔اسی طرح رواں سال اگست میں پگواش ادارے کی جانب سے قازقستان میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں باور کرایا جارہا تھا کہ اس کانفرنس میں سیاسی دفتر کا وفد بھی شرکت کرے گا، مگر کابل انتظامیہ نے مخالفت کا اظہار کیا اور  امریکا نے ایک بار پھر تائید کر دی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ افغان مسئلے کا پُرامن حل امریکی استعمار اور اس کے ملکی و بیرونی حواریوں کی پالیسی میں موجود ہی نہیں ہے۔  افغانستان پر قبضے کو جاری رکھنا، افغانوں کو شہید کرنا، افغانستان کو تباہ کرنا اور افغانستان کو اپنے استعماری مقاصد کے لیے ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرنا ان کا اصل ہداف ہے۔افغان مسئلے کا حقیقی پُرامن حل اب بھی امارت اسلامیہ کی پالیسی ہے، لیکن یہ یاد رہنا چاہے کہ امن کا یہ باب امریکا ہی کی جانب سے بند کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں جنگ اور اس کے نتائج کی ہرقسم کی ذمہ داری استعمار اور اس کے حواریوں کے سَر ہوگی۔

سیاسی دفتر: امارت اسلامیہ افغانستان

09؍ محرم الحرام 1439 ھ بمطابق 29؍ ستمبر 2017 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*