کینیڈین قیدی کی جانب سےمجاہدین پر الزامات لگانا بےبنیاد ہے!

چند روز قبل رہائی پانے والے کینیڈین قیدی نے دعوی کیا ہے کہ ’مجاہدین نے ان کی بچی کو قتل اور بیوی پر خدانخواستہ جنسی تشدد کیا ہے۔

ہم دشمن کی جانب سے قیدیوں کے اس جعلی منصوبے اور دعوے کی پُرزور الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔ قیدی فی الحال دشمن کی تحویل میں ہے۔ قیدی کو ہرقسم کی نامناسب بات کہہ کر اُسے بیان کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ایسی حالت میں کہ قیدی حراست میں لیے جانے اور رہا ہونے تک میاں بیوی ایک لمحے کے لیے بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے گئے تھے۔ اس عمل سے مجاہدین کا مقصد یہ تھاکہ خوانخواستہ کوئی بدگمانی نہ پیدا کی جا سکے۔

اسی طرح بچی کے قتل کا دعوی بےبنیاد اور من گھڑت ہے۔ البتہ حراست کے دوران ایک ایسا حادثہ رونما ہوا کہ ’قیدی کی بیوی بیمار ہو گئیں۔ علاقہ بہت دشوار تھا اور ڈاکٹر تک رسائی ناممکن تھی۔ اس نامناسب حالت میں ایک بچی حادثاتی طور پر ضائع ہو گئی تھی۔ کسی نے جان بوجھ کر اس جوڑے کی بچی کو قتل کیا اور نہ ہی ان پر ظلم و زیادتی ہوئی ہے۔

اگر خدانخواستہ اس طرح قتل کا کوئی منصوبہ ہوتا تو کینیڈین خاندان تین بچوں کے ہمراہ اپنے گھر واپس نہ لوٹ پاتا۔

دشمن مجاہدین کو ایسا مت سوچے، جیسا وہ خود ہے۔جس طرح گوانتانامو اور بگرام عقوبت خانوں میں قیدیوں کے ساتھ امریکا کی غیرانسانی وحشتوں نے انسانیت کو شرما دیا ہے۔

جو کچھ دشمن کی جانب سے ذرائع ابلاغ میں شائع ہو رہا ہے، وہ من گھڑت اور بےبنیاد ہے۔ کیوں کہ مذکورہ خاندان فی الحال ہمارے دشمن کی تحویل میں ہے۔ ہمارا دشمن مجاہدین پر ہر قسم کی بدنام بات کا الزام لگا سکتا ہے، مگر کسی مسلمان اور وہ افراد، جو مجاہدین کو قریب سے جانتے ہیں، ان کے لیے یہ پروپیگنڈا کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور نہ ہی قابل قبول ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ
25/
محرم الحرام 1439 ھ بمطابق 15 / اکتوبر 2017 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*