جارحیت کے خلاف استقامت اور بہادری کے سولہ برس

رواں  سال 2017ء اکتوبر کے سات تاریخ  کو افغانستان پر امریکی جارح قبضے کے سولہ برس بیت گئے۔ اس دوران امریکی غاصبوں اور ان کے بیرونی اور داخلی حواریوں نے نام نہاد دہشت گردی  کے  تحت کے جدوجہد کے نام سے وہ انسانی جرائم انجام دیے،جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال کم ہی ملتی ہے۔ ایسا جرم نہ ہوگا، جسے غاصبوں نے انجام نہ دی ہو۔ شادی، جنازے، اسکول، ہسپتال، دیہات، خانہ بدوشوں کے خیموں وغیرہ پر بار بار بمباری کی۔ جیلوں کو نہتے افغانوں سے بھر وادیے گئے۔ مسلح ملیشا فورس کا قیام عمل میں لایاگیا، جو براہ راست استعمار کے زیر کمان تھا۔ اربکی کے نام سے  افغان عوام کی قومی روایات کی توہین کی گئی۔ متعدد بار افغان عوام کی مقدسات کی اہانت کی گئی۔ سرکش حکمرانوں کی تربیت کرکےہر ایک کی حکمرانی کا الگ جزیرہ ہے۔ آئین کی مغربی آئین سے کاپی  اور ترجمہ کی گئی، پھر افغانوں پر  اسے لاگو کیاگیا،مگر اس کے باوجود خود ہی نقض کی۔ دوہری حکومت، غیرقانونی ایکسپائر پارلیمینٹ اور غیر قانونی وزراء بذات خود نقض کی اعلی مثالیں ہیں۔ مزید یہ کہ رواں سال کے 21/ اگست کی نئی پالیسی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارا مقصد افغانستان میں قتل عام ہے، آبادی نہیں ہے۔ مگر یہ عملی طور پران کے مطابق  دہشت  گردی نہیں ہے، بلکہ جمہوریت ہے اور چند اجبنی پرور افغان شرمندگی کی صورت میں ان کے سامنے تالیاں بجارہے ہیں۔

گزشتہ سولہ برسوں کے دوران استعمار اور اس کے حواریوں نے افغان عوام کو اپنی شکل اسی صورت میں ظاہر کردی ہے۔ مستقبل میں اپنی مفادات کی خاطر افغانستان اور افغان عوام کو بارود کے شعلے میں جلانا چاہتے ہیں۔

کابل انتظامیہ کے حکام کو جن میں اکثریت مغرب کے شہری ہیں، انہیں یرغمل بنائے گئے ہیں۔ اپنی مفادات اور بقاء کو استعمار کی مفادات اور موجودگی میں دیکھ رہے ہیں، مگر افغان مجاہد عوام کی مفادات اور راستہ ان سے علیحدہ ہے۔

اب وہ وقت آں پہنچا ہے کہ افغان عوام متحد ہوجائے۔ دشمن اپنی بقاء کے لیے آخری کوشش کررہی ہے، مگر اپنی ہی گھر میں شکست خوردہ ہے۔ اگر ہم دین اور ملک کی مشترکات پر اکھٹے ہوجائے، دشمن کا قدم مزید اس ملک میں جمنے کو نہیں ہے اور ان شاءاللہ ایک بار پھر افغان عوام حریت پسند  اقوام کے سالار کے طور پر تاریخ میں ثبت ہوگی  اور اس افتحار کو حاصل کریگی۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*