جنگی جرائم جولائی2017

سید سعید

افغانستان میں امریکی فوجی  کی جا نب سے مظالم کا سلسلہ آئے روز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے اپنی موجودگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ حالیہ دنوں امریکی کانگریس کے اعلی سطحی اجلاس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ’ہمیں یہ جنگ طویل کرنی ہے، تاکہ ہم افغانستان کی معدنیات نکال کر امریکا لے آ سکیں۔‘ یہی وجہ سے ہے کہ وہ معدنیات تک رسائی کا راستہ افغان عوام کے قتلِ عام اور افغانستان میں بدامنی میں تلاش کرتے ہیں۔ اسی سلسلے میں قتل غارت گری اور دہشت گردی کا بازار گرم رکھا جا رہا ہے۔ جولائی میں بھی یہی کچھ ہوا ہے۔

چار جولائی 2017 کو صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے علاقے قلعہ دادو میں مقامی اہل کاروں کی فائرنگ سے ایک شہری شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ دس جولائی کو صوبہ اروزگان کے صوبائی دارالحکومت ترین کوٹ کے مضافات میں حملہ آوروں کے فضائی حملے میں چار خواتین سمیت سات افراد شہید اور ان کے گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ اس سے اگلے دن ذرائع ابلاغ میں ایک رپورٹ شایع ہوئی، جس کے مطابق صوبہ جوزجان کے ضلع درزاب کے علاقے ’بتو‘نامی گاؤں میں اجرتی اہل کاروں نے آٹھ شہریوں کو شہید اور تیرہ افراد کو زخمی کر دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق اہل کاروں کے سامنےجو بھی آتا، وہ اسے گولیاں مار کر قتل کر رہے تھے۔ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔اسی دن  صوبہ خوست کے ضلع صبریو کے علاقے میچی اور سریی میں مقامی ملیشیا کے اہل کاروں نے فائرنگ کر کے دو شہریوں کو شہید اور 6 کو زخمی کر دیا۔

بارہ جولائی کو صوبہ ارزگان کے صوبائی دارالحکومت ترین کوٹ کے قریب مہرآباد میں حملہ آوروں نے ایک گھر پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار خواتین شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔ اس سے اگلے روز صوبہ ترین کوٹ کے علاقے ’لوڑ درویشان‘ میں مقامی آبادی پر جارحیت پسندوں نے افغان فورسز کے ہمراہ چھاپہ مارا۔ اس دوران شہریوں پر بدترین تشدد کیا گیا ۔ جس میں  9 افراد کو شہید اور 25 کو زخمی کر دیا گیا۔

چودہ جولائی کو مشرقی صوبے کنڑ کے ضلع سرکانو کے گاؤں ’باروگی‘ میں مقامی اہل کاروں نے ایک خاندان کے تین افراد کو شہید اور دو معصوم بچوں کو زخمی کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک خاتون اور دو بچے بھی زخمی کیے گئے تھے۔ اس سے اگلے دن قندوز کے صوبائی دارالحکومت میں پامیر ہوٹل کے قریب حملہ آوروں کی بمباری سے گرلز اسکول تباہ ہوگیا۔ علاوہ ازیں ’اورتبلاقیو‘ اور ’دوبلولہ‘نامی علاقوں میں بھی شہری آبادی پر بمباری کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی کیے گئے۔

سولہ جولائی کو صوبہ دائی کنڈی کے ضلع اجرستان کے علاقے ’خوژہ خیل‘ میں فورسز کے مارٹر حملے میں ایک شخص شہید اور ایک خاتون سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ بادغیس کے علاقے خوجہ میں فورسز نے شہری آبادی پر راکٹ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو افراد شہید اور 5 زخمی ہو گئے۔ اسی دن صوبہ غزنی کے ضلع گیرو کے علاقے موتان خان میں فورسز کے مارٹر حملے میں تین خواتین شہید ہوگئیں۔

تئیس جولائی کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے علاقے شہاب الدین ابدری میں مقامی آبادی پر حملہ آوروں کے چھاپے کے دوران 8 شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ ننگرہار کے علاقے ہسکہ مینہ میں حملہ آوروں نے فاتحہ خوانی کے تعزیتی اجتماع پر وحشیانہ بمباری کر کے چالیس شہریوں کو شہید اور زخمی کر دیا۔ اس سے اگلے دن صوبہ پکتیا کے ضلع سید کرم کے علاقے ’کوہ سین‘ میں سرکاری فورسز نے ایک شخص کو ٹینک سے باندھ کر روڈ پر گھسیٹا، جس سے وہ شہید ہوگیا۔ اسی دن قندوز کے ضلع خان آباد کے مضافات میں فورسز کی بمباری اور مارٹر حملوں میں 6 افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔ جب کہ صوبہ میدان وردگ کے ضلع ’جل ریز‘ کے علاقے زیمنیو میں مقامی اہل کاروں نے فائرنگ کر کے ایک کسان کو شہید اور دوسرے کو زخمی کر دیا۔ اگلے دن صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے سربند اور بندبرق میں فورسز کے بھاری ہتھیاروں کے حملوں میں ایک شخص شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئے۔

ستائیس جولائی کو صوبہ پکتیا کے ضلع سید کرم کے مضافات میں مقامی اہل کاروں کی فائرنگ سے ایک شہری شہید اور ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔

اُنتیس جولائی کو صوبہ فراہ کے ضلع فراہ رود میں اجرتی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ سے تین شہری شہید اور تین زخمی ہوگئ۔ جب کہ صوبہ فاریاب کے ضلع غورماچ میں سرکاری فورسز کے مارٹر حملے سے 6 شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

جولائی میں لندن پرنٹ آن لائن اور میل سنڈی اخبارات نے ایک سابق برطانوی فوجی افسر کے حوالے سے لکھا کہ ’افغانستان کے مختلف حصوں میں غیرملکی افواج عام شہریوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے سینوں پر اسلحہ رکھ کر میڈیا کو دکھاتی ہیں کہ یہ جنگجو کی لاشیں ہیں۔‘

ذرائع: بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور بینوا ویب سائٹس۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*