پروپیگنڈا؛ دشمن کی کمزوری اور بوکھلاہٹ ہے

آج کی بات:

بہادر مجاہدین کے حالیہ حملوں نے جارحیت پسندوں اور ان کی کٹھ پتلیوں کو بوکھلاہٹ سے دوچار کر رکھا ہے۔ دشمن اپنی ناکامیوں اور نقصانات کو چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔وہ اپنی  بوکھلاہٹ چھپانے کی کوشش میں ہے۔ لیکن ایوان صدر سے لے کر حکومت نواز میڈیا تک سب اس کوشش میں ناکام ہیں۔ وہ میدان جنگ سے فرار ہونے والے اہل کاروں کو حوصلہ نہیں دے پا رہے۔

ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد ایک مہینے میں افغانستان بھر میں مظلوم شہریوں پر 751 بم گرائے گئے۔ اشرف غنی اور دیگر کٹھ پتلی حکام نے اس بمباری پر اتنی خوشیاں منائیں، جیسا کہ افغانستان پر پھول برسائے گئے ہوں۔ ٹرمپ کی حکمت عملی کا اشرف غنی نے متعدد بار خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے ہر بار بمباری کے بعد ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جب کہ بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں اور افغان اہل کاروں کی ہلاکت پر بھی اظہار افسوس تک نہیں کیا۔

مجاہدین نے گزشتہ چند دنوں پکتیا، غزنی، قندھار، فاریاب، فراہ، ہلمند، سرپل اور لغمان میں قابض افواج اور کابل حکومت پر خون ریز حملے کیے۔ سیکڑوں قابض اور افغان فوجیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ضلع معروف،شلگر اور شیب کوہ کی فتوحات کے علاوہ وسیع علاقوں پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کیا اور بڑی مقدار میں ہتھیار،گولہ بارود اور فوجی گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں۔

ٹرمپ کی پالیسی کے بعد نہ صرف دشمن نے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے، بلکہ اس کے حوصلے مزید پست ہوگئے ہیں۔ باہمی بد اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ دوسری طرف حکومتی اہل کار مختلف علاقوں میں مجاہدین کے خوف سے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں یا سرنڈر ہو رہے ہیں۔ دشمن نے اپنی مسلسل شکست کو چھپانے کی خاطر مجاہدین کے خلاف ایک نیا پروپیگنڈا شروع کرتے ہوئے افغان عوام کے مقدس جہاد اور مزاحمت کو کبھی ہمسایہ ممالک کی ’کارستانی‘ باور کیا جاتا ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ مجاہدین کو افغانستان سے باہر سے ہتھیار موصول ہو رہے ہیں۔جب کہ امریکا کی نوکری کرنے والے اشرف غنی نے آج تک اپنے اس پروپیگنڈے کاکوئی ثبوت سامنے نہیں لایا۔

کابل حکومت اور ایوان صدر کے زرخرید غلام حکمران عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، لیکن قوم بخوبی جانتی ہے اور وہ حق کا ساتھ دے رہی ہے۔ دین اور وطن کے دفاع کے لیے مجاہدین کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مجاہدین کے حالیہ حملوں نے دشمن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔سیکڑوں اہل کاروں کی ہلاکت کے بعد دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ کٹھ پتلی حکومت اور اجرتی فورسز قابض و جابر قوتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کا قتل عام کر رہی ہیں۔ لوٹ مار کر کے شہریوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

اجرتی فوج اور پولیس غیرملکی فوجوں کی طرح ذلیل اور رسوا ہو جائیں گے۔ مجاہدین مزید بڑے حملوں کے لیے نئی تکنیک اور منصوبہ بندی ترتیب دے رہے ہیں۔ جس سے دشمن پر حملے بڑھا دیے جائیں گے۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*