امریکا اپنی ہلاکتیں کیوں چھپاتا ہے؟

آج کی بات:

افغانستان اور عراق میں امریکا کو جو جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے، وہ خود اس کا اعتراف کرتا ہے اور نہ ہی میڈیا کو یہ حقائق اصل صورت میں شائع کرنے دیے جاتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق عراق میں دس سال کے دوران اوسطا ہر روز 15 سے 20 امریکی فوجی مارے جاتے تھے۔ اسی طرح افغانستان میں گزشتہ 16 سال کے دوران کوئی دن ایسا نہیں گزرا ہے، جس میں امریکی فوجیوں پر کم از کم 20 حملے نہ ہوتے ہوں۔  جب تک مجاہدین امریکی فوجیوں کی لاشوں اور ٹینکوں کے ٹکڑوں کی تصاویر اور ویڈیو مناظر نشر نہ کریں، تب تک امریکا کی کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کی خبر شائع نہ ہونے دے۔ نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے:

’امریکا نے عراق میں اپنی شکست اور ہلاکتوں کی تصاویر اور ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ کسی کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کے مناظر شائع کرے۔‘

ذرائع کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے عراق میں صرف 6 فوٹوگرافروں اور صحافیوں کو مقرر کیا گیا تھا، جو امریکی فوجیوں پر حملوں اور دیگر واقعات اور ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی ذمہ داریاں انجام دیتے تھے۔ نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ویت نام کی جنگ میں امریکا نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی، لیکن افغانستان اور عراق کی جنگ میں امریکا نے حقائق ظاہر کرنے پر سخت پابندی لگا رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق عراق اور افغانستان کی جنگ کے بارے میں امریکی عوام کی ذہنیت اور مطالبہ یہ ہے کہ اس جنگ کو جلد روک دیا جائے اور امریکی فوج کو فوری طور پر واپس بلا لیا جائے۔ اگر امریکی عوام ان فوجیوں کی تصاویر دیکھیں، جو عراق میں دس سال کے دوران ہلاک ہوئے یا گزشتہ 16 برس سے افغانستان میں ہر روز مارے جا رہے ہیں تو امریکا میں ایک بڑا ہنگامہ برپا ہوگا۔ وہ ایک دن کے لیے بھی اجازت نہیں دیں گے کہ امریکی فوجی افغانستان میں تعینات رہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ’زوریاہ میلر‘نامی ایک امریکی فوٹوگرافر نےعراق جنگ میں ہلاک ہونے والے چند امریکی فوجیوں کی تصاویر شائع کیں، جس پر اُس فوٹوگرافر کو سخت سزا دھمکی سنائی گئی، جس پر پینٹاگون نے فوری طور پر اسے عراق سے نکا ل دیا۔ علاوہ ازین پوری دنیا میں زوریاہ میلر پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ نامعلوم مدت تک سفر نہیں کرسکتا ہے، لیکن افغانستان میں امریکا اور کٹھ پتلی اتنے بے شرم ہو گئے ہیں کہ ان واقعات اور ہلاکتوں کو چھپانا چاہتے ہیں، جو روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔

گزشتہ دنوں صوبہ لغمان میں ایک سپاہی کے حملے میں 12 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد صوبہ لوگر کے ضلع خروار میں دو چنیوک ہیلی کاپٹروں کو مجاہدین نے مار گرایا، جن میں 43 امریکی اور افغان فوجی ہلاک ہوگئے۔ امریکا نے ان دونوں واقعات کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی اور خاموشی اختیار کیے رکھی، مگر امارت اسلامیہ کے فعال اور متحرک ترجمان اور پریس ٹیموں نے مستند رپورٹوں کو شائع کر کے دشمن کی سازش کو بے نقاب کر دیا اور افغان عوام پر ثابت کیا کہ امریکا اور کٹھ پتلی کس قدر مکار، بزدل اور حقائق کو تسلیم کرنے سے خوف زدہ ہیں۔

ہم اللہ تعالی کے ارشاد پر پختہ یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ مسلمان کافروں کی تمام خفیہ و ظاہر سازشوں اور چالوں کے سامنے سُرخ رُو رہیں گے اور کامیابی مجاہدین ہی کا مقدر ہے۔ اسلام کے دشمنوں کو شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ. هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾[الصف: 9]

ترجمہ: وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں، اور اللہ اپنا نور پورا کر کے رہے گا اگرچہ کافر برا مانیں۔ وہی تو ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا، تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے، اگرچہ مشرک نا پسند کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*