اقوام متحدہ سے کٹھ پتلی حکومت کا نامعقول مطالبہ

آج کی بات:

ایک سال قبل انہی دنوں 5 نومبر 2016 کو اقوام متحدہ کا ایک وفد افغانستان کے دورے پر آیا تھا، جس نے کابل میں کٹھ پتلی حکومت کے آدھے حصے کے سربراہ اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔ اشرف غنی نے وفد سے مطالبہ کیا کہ طالبان (مجاہدین) رہنماؤں، خاص طور پر امارت اسلامیہ کے امیر شیخ ہبۃ اللہ صاحب کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔ رواں سال بھی اقوام متحدہ کا وفد کابل آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کے دوسرے حصے کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ نے بھی ملاقات میں اشرف غنی کا پرانا مطالبہ دہرایا تھا۔

امریکا یا اقوام متحدہ کی جانب سے تیار کردہ بے وقعت نام نہاد بلیک لسٹ میں ان کے ناپسند لوگوں اور تنظیموں کو شامل کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امارت اسلامیہ کے دشمنوں نے ماضی میں بھی اپنی دشمنی اور نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ کا ناکارہ ذریعہ استعمال کیا ہے، جو اقوام متحدہ کی غیر جانب داری کا پول کھولتا ہے۔ اقوام متحدہ نے دنیا کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے سیاسی اور مذہبی معاملات میں واضح جانب داری سے ناجائز مداخلت کی ہے، جس کی وجہ سے مزید مسائل جنم لے رہی ہے۔ جب کہ دوسری طرف اس مداخلت کے باعث اقوامِ متحدہ کی ساکھ شدید متأثر ہوئی ہے۔

کابل انتظامیہ کے سربراہان ان گمبھیر حالات میں یہ مطالبہ اس حالت میں کر رہے ہیں کہ وہ خود تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ عوام نے انہیں مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عالمی برادری کا اعتماد بھی ختم ہوچکا ہے۔ حکومت کے درمیان باہمی تنازعات، افراتفری، جنگ، نسلی اور قومی تعصب کی بنیاد پر ابھرتے ہوئے اختلافات، کرپشن کی انتہا، علاقائی سطح پر بداعتمادی اور مختلف قسم کے بحران جنم لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ امارت اسلامیہ کے خلاف اس قسم کا غیرمعقول مطالبہ مسترد کرے۔ کیوں کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری ایک جانب امارت اسلامیہ کو امن مذاکرات شروع کرنے کی دعوت دے رہی ہیں اور دوسری جانب کابل کی نااہل انتظامیہ کے ایسے غیرقانونی مطالبے پر غور کرنے کا یقین دلا رہی ہے، جو ان کے مؤقف میں واضح تضاد ہے۔

بہتر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کو پرامن ذرائع تلاش کرنے پر غور کرنا چاہیے، تاکہ افغانستان میں دشمنی کے بجائے افغانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ غیرملکی حملہ آور موجودہ تمام مسائل کی جڑ ہیں۔ اقوامِ متحدہ ان کے انخلاء کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ افغانستان میں ایک غیرمقبول انتظامیہ کے نامعقول مطالبے پر غور کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر پہلے ہی متأثر ہے۔ اس اقدام سے اس کی ساکھ مزید داغ دار ہوگی۔ جب کہ اس عمل کے منفی نتائج بے حد خطرناک ہوں گے۔

اس حقیقت تسلیم کو کرنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ آج افغانستان میں واحد طاقت ہے، جو ملک میں بہترین حکومتی نظام قائم کر سکتی ہے۔ وہ افغانستان سے متعلق علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر خدشات کو دفع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*