افغانستان میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی کامیابیاں !!!

استعمار اور اس کے داخلی حواری ہمیشہ افغانستان میں جمہوریت  اور کامیابیوں  کا ڈھونگ رچا کر اہل وطن کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ سامنے آتا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ عشرے میں کونسی کامیابی سامنے آئی ہے،جس پر استعمار کیساتھ ساتھ اس کے حواری فخر کریں۔ کیا سرکاری زمینوں پر قبضہ، معدنیات کی چوری اور سرکاری گاڑیوں میں سمگلنگ کامیابیاں ہیں ؟ کیا کاغذ ی نام نہاد اسکول، کلینک، فوجی اور ملیشیا کی موجودگی حقائق نہیں ہیں ؟ کیا فوج میں جنرل کا عہدہ رقم کے بدلے نہیں دی جاتی؟ پارلیمنٹ کے چیئرمین پر ڈپٹی چیئرمین کرپشن کا الزام نہیں لگارہا ہے؟  کیا بداخلاقی اور اجنبی ثقافت پھیلانے اور مقدسات کا توہین نہیں ہورہا ہے ؟ یہ وہ حقائق ہیں،جن سے کابل انتظامیہ کے حکام بذات خود انکار نہیں کرسکتے۔ ملک میں چالیس لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں اوران کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کسی کو  دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے، مگر بعض امارات اور یورپ میں عیش و عشرت کررہا ہے۔

کابل انتظامیہ کے سفارت کار اور اعلی حکام قومی مفادات کے بجائے گروہی اور اجنبی مفادات کو وفادار ہے  اور ان کے منشور کو آگے بڑھا رہا ہے !یہ ملک کو کس طرف لے جارہا ہے؟ ہر افغان کو سوچنا چاہیے۔

دوسری جانب ملک کی جیلیں مختلف ناموں سے افغانوں سے بھروادیے چکے ہیں، تشدد اور جبری اعتراف ایک معمول بن چکا ہے، حتی جن قیدیوں کی مدت پوری ہوئی ہے،  انہیں رہائی نہیں مل رہی ہے۔ برسوں قید میں پڑے ہوئے ہیں، مگر جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا خیال ہے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔

شرم کی بات تو یہ ہے کہ صدر اور چیف ایگزیکٹیو  ایک امریکی وزیر کے فون کے سلسلے میں ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہوئے بگرام ایئربیس پہنچ جاتے ہیں۔ ملک کے فضا اور زمین پر بیرونی کنٹرول ہے اور  ویزے کے بغیر آمدورفت کرتے رہتے ہیں۔

کون افغان ہوگا  جو اسے کامیابی کہے  اور اسے جاری رکھنے کا مطالبہ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ جارحیت کے نتیجے میں افغانستان کو  فوجی، سیاسی، معاشی اور  سماجی لحاظ سے ایک تباہی کا سامنا ہے۔وہ اعمال جنہیں استعمار اور اس کے داخلی حواری ترقی اور پیشرفت کے نام سے یاد کرتے ہیں، وہ درحقیقت ملک اور عوام کی تباہی اور انحطاط ہے۔

ملک  اور عوام کو موجودہ بحران سے نکالنے کی خاطر امارت اسلامیہ ہر قسم کی جدوجہد کررہی ہے،مگر  تمام افغانوں کی ذمہ داری ہے کہ اس عظیم اور مایہ ناز کام کے لیے کمربستہ ہوجائے  اور اپنے تاریخی کردار کو ادا کریں، کیونکہ نقصان بھی سب کا ہے اور اس کا سدباب بھی سبھی کا کام ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*