دوسروں کے سیاسی فتوی پر کٹھ پتلیوں کا اظہار خوشی

آج کی بات:

کابل کی کٹھ پتلی حکومت نے گزشتہ روز اُس نام نہاد اور علمی بنیاد سے عاری فتوے پر نہایت خوشی کا اظہار کیا، جو سعودی عرب کے ایک سرکاری مولوی کے ذریعے جاری کروایا گیا تھا۔ اُس میں کہا گیا تھا کہ ’جہاد کا فتوی صرف ریاست کا کام ہے۔ عام لوگ جہاد کا فتوی جاری نہیں کرسکتے۔‘

کابل میں وزارت مذہبی امور کی طرف سے جاری ایک اعلامیے میں اس فتوے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ’افغانستان میں جاری جہاد کو بند کر کے کابل (کی کٹھ پتلی) انتظامیہ سے فتوی طلب کیا جائے۔‘

یہ الگ موضوع ہے کہ سعودی عرب کے ایسے اعلانات کی اشاعت کے پسِ پردہ کیا مقاصد اور ’مجبوریاں‘ ہیں، لیکن افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکومت اور حکام نے بھی اس فتوے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اشرف غنی کی سربراہی میں قائم افغان حکومت کے خلاف امارت اسلامیہ کا جہاد ناجائز ہے۔ اس لیے’حقیقی جہاد‘ کا فتوی اُس اشرف غنی کی حکومت سے طلب کیا جائے، جس کی بیوی عیسائی ہیں اور وہ افغانستان جیسے اسلامی خطے میں سرِعام عیسائیت کی ترویج کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔‘

سب سے پہلے  ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ جہاد کی دو اقسام ہیں۔ ایک دفاعی جہاد ہے اور دوسرا اقدامی جہاد ہے۔ ’اقدامی جہاد‘ کے بارے میں علمائے کرام کہتے ہیں کہ ’اسلامی حکومت کے خودمختار حکمران اپنے ملک سے باہر دوسرے علاقوں اور دیگر ممالک کو فتح کرنے اور وہاں اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے حکم اور فتوی جاری کریں‘ تو یہ اسلامی حکومت کا اختیار ہے کہ وہ فتوی جاری کر سکتی ہے، تاکہ اسلامی حکومت کی سرپرستی میں لوگ جہاد کے لیے نکلیں۔ عام لوگ اور افراد اپنی صوابدید پر یہ کام نہیں کر سکتے ہیں۔

’دفاعی جہاد‘ یہ ہے کہ کسی اسلامی ملک یا مسلمانوں پر عالم کفر کی جانب سے حملہ کیا جائے، جیسا کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال ہے۔ امریکا اور نیٹو نے افغانستان جیسے مسلم خطے پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ امریکا نے مسلمانوں کا فطری اسلامی نظام اور اسلامی حکومت ختم کر کے یہاں چند زرخرید اور بے ضمیر ایجنٹوں کو عوام پر زبردستی مسلط کر رکھا ہے۔ جب کہ حکومت کے تمام اختیارات حملہ آوروں کفار کے پاس ہیں۔ اس صورت میں ہر مسلمان پر اپنے مذہب، وطن اور عزت کا دفاع کرنا فرض عین ہے۔ یہاں اگر تین افراد میں سے ایک کو امیر مقرر کیا جائے اور دو اس کے ماتحت ہو کر جہاد کریں تو یہ مکمل شرعی جہاد ہوگا۔ یہ ایک مسئلہ ہے ۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں جہاد کا فتوی امارت اسلامیہ کے عظیم امیر مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد نے تب دیا تھا، جب امریکا نے افغانستان پر جارحیت کا آغاز کیا تھا۔ تب تین ہزار جید اور ماہر علمائے کرام نے کابل کے آخری اجلاس میں شرعی قانونی فتوی جاری کیا، اسی فتوی پر آج تک تمام امراء اور علمائے کرام اپنے مجاہد عوام کے فرض عین جہاد کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ جب کہ اس جہاد کی کامیابی کی منزل قریب ہے۔ ان شاء اللہ

تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر موجودہ دنیا کا جائزہ لیا جائے تو مسلمانوں کی بہت سی حکومتیں ایسی ہیں، جو مغرب اور امریکا کے دباؤ کی وجہ سے عوام پر زبردستی مسلط ہیں۔ وہ اپنے مسلمان عوام کی تمناؤں کے مطابق فیصلے نہیں کر سکتیں۔ ان ممالک میں مغرب کے سیکولر نظریات کے غلبے کی وجہ سے شرعی اور آزاد قوانین کا نفاذ مشکل ہے۔ جہاد کا فتوی صرف اُن مسلم حکمرانوں کا اختیار ہے، جو خود بھی مکمل طور پر اسلامی طرزِ حیات کے مطابق زندگی گزارتے ہوں اور انہیں شریعت کا بھی درست اور مکمل علم ہو۔ علاوہ ازیں وہ مکمل طور پر عالمِ کفر کے اثرات اور دباؤ سے آزاد ہوں۔  وہ تمام اسلامی اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہوں اور اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ جس کی ایک مثال امارت اسلامیہ اور اس کے امراء ہیں۔

رہی بات کابل کٹھ پتلی انتظامیہ کی، وہ بھی خود کو مضحکہ خیز طور پر یہ حق دیتی ہیں کہ وہ ایک مسلمان حکمران کے طور پر جہاد اور دیگر مسائل کے اختیارات اپنے پاس رکھیں۔ یہ بہت دور کی بات ہے۔ کیوں کہ موجودہ حکمرانوں کے گلے میں مکمل طور پر عالم کفر کی غلامی کا طوق ہے۔ انہیں جمہوری آزادی کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ ایک آزاد اور خودمختار اسلامی حکومت اور مذہبی آزادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اشرف غنی اس نعمت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*