ٹیکساس کے ہلاک شدہ قندوز شہداء سے زیادہ قیمتی ہیں؟

آج کی بات؛

گزشتہ دنوں امریکا کے ایک چرچ میں مسلح شخص نے فائرنگ کر کے متعدد امریکیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا۔ اس واقعے سے دو روز قبل امریکی طیاروں نے افغانستان کے صوبہ قندوز کے ضلع چہاردرہ کے تین دیہاتوں ”سید عظم، غرو قشلاق اور سر آسیاب” پر بمباری کر کے انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا، جس میں کم از کم 27 شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ مقامی باشندوں اور صوبائی کونسل کے رکن ‘خوش احمد نصرت’ کے مطابق 14 افراد شہید اور 13 زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق مزید تلاش اس لیے ناممکن ہے کہ اب بھی مذکورہ علاقوں میں طیارے محو پرواز ہیں اور جس کو دیکھتے ہیں نشانہ بنا دیتے ہیں، لیکن نیٹو جارحیت پسندوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے پہلے اس واقعے کی تحقیقات کا عندیہ دیا تھا، تاہم آج انہوں نے اس واقعہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور دلیل پیش کرتے ہوئے کہا اگر عام شہری اس واقعے میں شہید یا زخمی ہوتے تو انہیں قندوز ہسپتال منتقل کیا جاتا۔

کابل سے شائع ہونے والے روزنامہ ‘ویسا’ نے اس حوالے سے ایک خبر شائع کی ہے، جس کے مطابق صوبہ قندوز میں عینی شاہدین نے ‘ویسا’ کو بتایا کہ امریکی فوج نے اس صوبے میں سنگین جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے خود دیکھا کہ قندوز کے ہوائی اڈے کے قریب طیارے نے تقریبا پچاس کلومیٹر دور تین دیہاتوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق بمباری کا یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں تین دیہاتوں میں 63 شہری شہید ہو گئے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اردگرد کے دیہاتوں سے لوگ لاشیں اٹھانے کے لیے آئے تو ان پر بھی امریکی طیاروں نے بمباری کر دی، جس میں بھی بڑی تعداد میں عام شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔ انٹرنیشنل میڈیا اور غیرملکی افواج نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے، لیکن ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ واضح نہیں کیا۔ جب کہ قندوز کے مقامی حکام نے اس واقعے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ٍکٹھ پتلی حکام کو ایسے ظالمانہ واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا، جو خود کو افغانستان کے حکمران اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے علمبردار کہتے ہیں۔ اس دل خراش واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا ان کی انسانی، افغانی اور اصولی ذمہ داری تھی۔ تاہم انہوں نے نہ صرف اس قتل عام پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، بلکہ اس توقع کے برعکس قاتل حملہ آوروں کو اس سنگین جرم سے بری الذمہ  بی قرار دے دیا ہے۔

اس سے بھی زیادہ شرم ناک فعل یہ ہے کہ کابل حکومت کے دوسرے نصف کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ٹیکساس واقعے پر وقوعے کے تھوڑی ہی دیر بعد مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ لیکن قندوز کے غریب عوام کو نشانہ بنانے کے واقعے کی مذمت کرنے یا ان کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔

کیا ٹیکساس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں قندوز کے شہداء کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ اگر ان کی کوئی قدر نہیں ہے تو پھر کیوں زبردستی ان پر حکمرانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ پھر دنیا کو کیوں کہتے ہیں کہ ہم اس ملک کے حکمران ہیں اور یہ ہمارا ملک ہے؟! آپ کے نزدیک عوام کی کوئی قدر نہیں ہے۔

اگرچہ یہ کٹھ پتلی حکمرانوں کا پہلا شرم ناک فعل نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی انہوں نے کئی بار ایسے شرم ناک کارنامے انجام دیے ہیں۔ وہ نہ صرف شہریوں کے قتل عام پر جارحیت پسندوں کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں، بلکہ ان اہل کاروں کی ہلاکتوں پر بھی چپ سادھ لیتے ہیں، جو ان کے تحفظ کے لیے لڑتے اور امریکی طیاروں کی بمباری میں نشانہ بنتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغان عوام کو کٹھ تپلی حکام سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے اور انہیں یقین ہے کہ ان کے ناحق خون کا بدلہ مجاہدین ہی حملہ آوروں اور اجرتی قاتلوں سے لیں گے۔ ان شاء اللہ۔ لیکن ان بے شرم اور بے ضمیر حکمرانوں کو یہ یقین آنا چاہیے کہ ان کے کافر آقا عوام کے احتساب اور اللہ تعالی کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*