عوام کے قاتلوں کا خیر مقدم

آج کی بات:

 

نیٹو میں شامل رکن ممالک کے وزرائے دفاع کے آخری اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں مزید 3 ہزار فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ اجلاس سے نیٹو کے سیکرٹری جنرل Stoltenberg نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان تین ہزار فوجیوں کی تعیناتی سے جنگ کے میدان میں افغان فورسز کو حوصلہ ملے گا۔

کابل حکومت نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو مزید فوجی بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے قابض قوتوں کو اپنا اہم اسٹریٹجک اتحادی قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اتحادی قوتوں کے ساتھ مل کر مجاہدین کے خلاف لڑیں گے۔

یہ امر بہت واضح ہے کہ قابض قوتوں کی موجودگی اور ناجائز قبضے کو طول دینا افغانستان اور افغان عوام کے لیے ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ کیوں کہ گزشتہ سولہ برسوں کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ قابض کفار نے کتنے ہی مظلوم افغانوں کو شہید اور زخمی کر دیا ہے۔ کتنے ہی شہریوں کو بلاوجہ جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ کتنے ہی مکانات اور جھونپڑیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ کتنی مساجد، مدارس، اسکولز، ہسپتالوں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

کئی نوجوانوں کو اپنے مذہب اور ثقافت سے متنفر کیا گیا ہے۔ غیراخلاقی سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا ہے۔ منشیات اور شراب کی خرید و فروخت کے لیے ماحول سازگار بنایا گیا ہے۔ سود کا لین دین، غبن، اخلاقی اور مالی کرپشن عروج پر ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ لاکھوں شہداء کے ملک ’’افغانستان‘‘ میں منسوخ مذاہب اور الحاد کی ترویج کے لیے کمیونٹیاں قائم کی گئیں اور کئی بار اسلامی اقدار کی توہین کی گئی ہے۔

آزادی کو سلب کیا گیا ہے۔ خودمختاری کو پاؤں تلے روندا گیا ہے۔ ملکی سالمیت داؤ پر لگا دی گئی۔ نسلی، مذہبی اور لسانی تعصب کو پروان چڑھایا گیا۔ برادر اقوام کے درمیان نفرت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ قاتلوں، لٹیروں اور ضمیرفروش غلاموں کو قوم پر مسلط کیا گیا۔

کوئی باضمیر اور بااحساس شخص مذکورہ بالا جرائم کے مرتکب افراد کا خیرمقدم نہیں کرے گا، لیکن کابل کی کٹھ پتلی حکومت نے واضح طور پر جارحیت کا خیرمقدم کیا اور ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم آپ (کفار) کے ساتھ ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے اگر فوجیوں کی تعداد بڑھانے سے جہاد پر منفی اثرات مرتب ہوتے تو ڈیڑھ لاکھ قابض افواج کی موجودگی میں امارت اسلامیہ کی قیادت میں مقدس جہاد کا نام و نشان مٹ چکا ہوتا، لیکن اگر اس حقیقت کا ادراک کیا جائے کہ حملہ آوروں نے ہر قسم کی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور لوگوں کے ضمیر خریدنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے۔ تاہم مجاہدین نہ صرف کمزور نہیں ہوئے، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ امریکی ادارے سیگار نے حالیہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے پچاس فیصد رقبے پر مجاہدین کا کنٹرول قائم ہے۔

نیٹو کو گزشتہ سالوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ افغانستان کی تاریخ اور جغرافیے کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اپنی طاقت اور حیثیت کو ناکام سیاست کے لیے داؤ پر نہ لگایا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*