ٹرمپ کی پالیسی اور ایک ہزار فوجی؟

آج کی بات:

 

جرمنی کے شہر برسلز میں میں نیٹو کے وزرائے دفاع کا تین روزہ اجلاس ختم ہوگیا ہے۔ اجلاس کا اہم موضوع افغانستان اور ایشیا کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی پر غور کرنا یا دوسرے لفظوں میں افغانستان میں ٹرمپ کی حکمت عملی کی روشنی میں جنگ کو دوام بخشنا تھا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کم از کم 1000 فوجیوں کو افغانستان بھیجا جائے گا۔ کٹھ پتلی حکومت نے بھی غیرملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا خیر مقدم کیا ہے۔

نیٹو اور امریکا نے اس سے قبل بھی ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کو تمام جدید ہتھیاروں سے لیس کر کے افغانستان میں تعینات کیا تھا اور یہاں پر انہوں نے ہر قسم کے ظلم، جارحیت اور سربریت کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ جب کہ نتائج ان کی تاریخی اور ذلت آمیز شکست کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔

امریکا اور نیٹو نے تمام فوجی، انٹیلی جنس، اقتصادی اور سیاسی طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود ایسی کامیابی حاصل نہیں کر سکا کہ وہ افغانستان کے ایک چھوٹے صوبے یا چند کلومیٹر کے علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر پائے یا مزاحمت کی گرمی کو ٹھنڈا کر سکے۔

البتہ امریکا کا اب ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ وہ نہتے اور مظلوم عوام کا قتل عام جاری رکھے۔ فضائی اور ڈرون حملوں یا رات کے چھاپوں میں نہتے لوگوں کو نشانہ بنائے۔ سفاکانہ طریقے سے انہیں بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار کرے۔ عوام کے لیے ہر قسم کی مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔

امریکا اور نیٹو کے فوجی حکام کو کٹھ پتلیوں سمیت  کسی علاقے میں بہادر مجاہدین کے خوف سے سکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہے۔ وہ کوئی رات سکون سے نہیں کاٹ سکتے۔

ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد امریکی جرنیلوں نے زرخرید میڈیا کے ذریعے بھرپور پروپیگنڈا کیا ہے، لیکن اللہ کی مدد سے مجاہدین اس سے متأثر نہیں ہوئے۔ بلکہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس کے برعکس مجاہدین نے بہترین حکمت عملی کے تحت امریکیوں کو حساس مراکز، فوجی بیسز، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کی محفوظ پناہ گاہوں میں بھی موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ ان پر خونریز حملے کیے گئے ہیں۔ متعدد اضلاع اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں کو مجاہدین نے فتح کیا ہے۔ امریکی انسٹی ٹیوٹ (SIGAR) کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی کے بعد امارت اسلامیہ نے مزید 12 فیصد رقبے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے اور امارت کے اقتدار کا دائرہ مزید وسیع ہوا ہے۔

ہم کابل حکومت، پارلیمنٹ کے ارکان اور امریکی اور نیٹو فوج کی تعداد بڑھانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے والے سن لیں کہ مجاہدین کو ایسا مت سمجھا جائے، جن پر قابض فوجیوں کی تعداد میں اضافے یا امریکی اور نیٹو اجلاسوں اور کانفرنسوں کی وجہ سے کوئی منفی اثر پڑے گا، بلکہ وہ تب تک مقدس جہاد کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے، جب تک افغانستان کی مقدس سرزمین پر ایک قابض فوجی بھی موجود ہوگا۔

اگر نیٹو کے اجلاس گزشتہ 17 سالوں میں مجاہدین کی طاقت پر اثرنداز ثابت ہوئے ہیں یا انہیں اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر پائے ہیں تو آپ برسلز کے اجلاس سے بھی امیدیں وابستہ رکھیں۔ جب کہ معروضی حقائق سب کے سامنے ہیں۔ اس لیے ہوش کے ناخن لیں اور اپنی امیدوں کا ہدف تبدیل کریں۔

امریکا یہاں اپنے غم اور مفادات کی وجہ سے ٹھہرنے پر مجبور ہے۔جس دن وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ اس کا قبضہ فضول اور دوطرفہ تباہی کا باعث بن رہا ہے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ وہ ایک گھنٹے کے لیے بھی یہاں نہیں ٹھہرے گا۔ وہ اپنے تمام بے ضمیر غلاموں کو خوار اور ذلیل چھوڑ جائے گا۔ جب کی وہ اپنی کٹھ پتلیوں کو امریکا میں بھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*