قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک

آج کی بات:

 

ایک تحقیقی ادارے نے رپورٹ شائع کی ہے کہ افغانستان کے جیلوں میں قدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ قیدی اپنے جائز حقوق سے بھی محروم ہیں۔

اس ادارے نے بطور مثال پل چرخی، میدان وردگ اور بغلان کے صوبوں کے جیلوں کو واضح کیا ہے، جن میں قیدیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ ان جیلوں میں قیدیوں کو پینے کا پانی، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری مواد اور آلات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ بہت سے قیدیوں نے سزا کی مدت پوری کی کر لی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں بغیر کسی مقدمے کے جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔ ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ قیدخانوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو بند کیا جاتا ہے۔ جیلوں کی تعمیرات میں غیرمعیاری اور ناقص میٹریل استعمال کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے جیل کے قیدخانوں کی عمارت کسی بھی وقت منہدم کو سکتی ہے یا ان میں آگ لگنے کا خدشہ موجود ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قیدیوں کے تمام حقوق پائے مال کیے جاتے ہیں۔

حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت کے تمام جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک جاری ہے۔ خاص طور پر سیاسی قیدیوں کے حوالے سے جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے معاہدوں سے انحراف کیا جاتا ہے۔ ایسے قیدی بھی ہیں، جنہوں نے ایک دہائی جیل میں گزار دی ہے، لیکن اب تک ان پر کوئی جرم ثابت نہیں کیا گیا ہے۔ اکثر قیدیوں کو صرف شک اور الزام کی بنیاد پر سالہا سال سے جیلوں میں بغیر کسی مقدمے کے رکھا گیا ہے۔ جن قیدیوں پر اب تک جرم ثابت نہیں ہوا ہے، وہ بھی کئی سالوں سے جیل کی کال کوٹھریوں میں دن رات گزارنے پر مخبور ہیں۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جیلوں میں بھی کابل انتظامیہ کے دیگر محکموں کی طرح بڑے پیمانے پر کرپشن کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ججوں اور وکلاء کی کرپشن مافیا سرگرم ہے۔

قاتلوں، چوروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو رشوت اور کرپشن کے بدلے رہا کر دیا جاتا ہے، لیکن مظلوم اور بے بس قیدی برسوں سے قید ہیں۔

سیاسی قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت، ترجمہ، مطالعہ اور تعلیم کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ ان کی موجودگی میں مقدس شعائر کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور مختلف طریقوں سے انہیں جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مذکورہ ادارے کی رپورٹ قابل ستائش ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اپنی ذمہ داری ادا کریں اور امریکی فوجیوں اور کٹھ پتلی حکومت کے جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*