مجاہدین کے حملے شکست کی دلیل ہے یا کامیابی کی ؟

آج کی بات:

 

گزشتہ دو روز کے دوران مجاہدین نے افغانستان بھر میں دشمن پر جان لیوا حملے کیے ہیں، جن میں سب سے نمایاں قندھار میں غیرملکیوں پر ایک فدائی حملہ تھا، جس کے نتیجے میں 14 غیرملکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد قندھار کے ضلع میوند میں مجاہدین نے پندرہ چوکیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار کمانڈروں سمیت 46 اہل کار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ جب کہ زندہ بچ جانے والے فوجی اپنی مردہ ساتھیوں کی لاشیں میدان میں ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔دوسری طرف  صوبہ فراہ میں بھی مجاہدین نے ایک کارروائی میں 22 فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے، جب کہ شمالی صوبے نورستان میں مجاہدین نے دشمن کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا، جس میں متعدد فوجی ہلاک ہو گئے۔

علاوہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں چھوٹے اور بڑے حملے ہوئے ہیں۔ مجاہدین کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران کی گئی کارروائیوں میں 167 افغان اہل کار ہوئے ہیں۔

رواں سال کے ابتداء سے مجاہدین نے کتنےکئی کامیاب حملے کیے ہیں۔ دشمن کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ہے۔ کئی علاقوں کو فتح کر لیا ہے۔ بہت سے وسائل، ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو اپنی  تحویل میں لے لیا ہے۔ جب کہ دشمن نے بھی اپنی شکست کا اعتراف کیا ہے۔ یہ سب کچھ میڈیا کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

عسکری نقطۂ نگاہ سے فوجی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ جب دو فریق جنگ میں آمنے سامنے ہوں، ان میں ایک کمزور اور دوسرا طاقت کے لحاظ سے مضبوط ہو، لیکن کمزور فریق مدمقابل فریق پر غلبہ حاصل کر لے۔ مضبوط فریق کے اہل کاروں کو قتل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ خود کو دشمن کے جان لیوا حملوں سے محفوظ رکھ پاتا ہو۔ مخالف کے زیرکنٹرول علاقوں پر قبضہ کرنے، وسائل اور ہتھیار اپنی تحویل میں لینے، ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کرنے اور ظاہری طاقت و وسائل کی کمی کے باوجود مخالف کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ یہی عسکری نقطہ نگاہ سے کامیابی قرار دی جاتی ہے۔

نیٹو کے ایک اعلی کمانڈر نے گزشتہ دنوں ایک امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

’طالبان (مجاہدین) کی شکست کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ وہ اب چاہتے ہیں کہ کسی طرح اپنی شکست چھپائی جا سکے۔‘

دنیا بھر نے نیٹو کمانڈر کی اس بے ہودہ گفتگو پر حیرت کا اظہار کیا کہ صرف گزشتہ روز مجاہدین نے کامیاب کاروائیاں کر کے کئی نیٹو فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ کیا یہ کارروائی مجاہدین کی کامیابی کی دلیل ہے یا نیٹو قابض فوج کی شکست کی علامت ہے؟

فوجی ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ سب سے بڑی شکست اور ناکامی ہے کہ نیٹو جیسی سپرپاور نے افغانستان جیسے کمزور اور غریب ملک میں سولہ برس سے مؤثر انداز میں طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور سولہ برس بعد نیٹو کے جرنیلوں کو یہ تک پتا نہیں ہے کہ وہ کس سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ ایک تباہی اور ذلت آمیز شکست کی طرف گامزن ہیں یا غیرمتوقع کامیابی کی طرف؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*