آخر اس قوم کو کیا کرنا چاہیے؟

آج کی بات:

 

گزشتہ روز کٹھ پتلی حکومت کے دونوں سربراہان نے امریکی وائسرائے ’’ہوگو لارنس‘‘ کو افغان غازی میر مسجدی خان کے مساوی اعزاز کے تمغے سے نوازا، جب کہ اسی وائسرائے کے امریکی طیاروں نے حال ہی میں ضلع تگاب میں درجنوں بے گناہ شہریوں کو بمباری میں شہید کیا تھا۔ اس سے پہلے صوبہ فراہ میں بھی ایک گاؤں پر وحشیانہ بمباری کی گئی، جس میں متعدد افراد شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے سے قبل قندوز کے ضلع چہاردرہ میں تین دیہاتوں پر بمباری کر کے درجنوں افراد کو شہید کر دیا گیا۔ جس میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی واقع ہوا ہے۔ ان دل خراش واقعات سے چند روز قبل قندھار اور لوگر میں بھی درجنوں شہری امریکی بمباری میں شہید ہو گئے تھے۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ ویسے روزانہ کی بنیاد پر نہتے اور بے بس لوگوں کو بے رحم اور ظالم دشمن کی وحشیانہ بمباری، رات کی کارروائیوں، زمینی آپریشن اور مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان کی قیمتی زندگیوں سے کھیلا جاتا ہے۔

طالبان اور مجاہدین کے نام پر عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب کہ افغانستان بھر میں سابقہ جیل خانہ جات کے علاوہ حملہ آوروں اور ان کی کٹھ پتلی حکومت نے مزید سیکڑوں غیرقانونی عقوبت خانے قائم کر رکھے ہیں، جن میں مجاہدین، دہشت گرد اور مخالفین کے نام سے ہزاروں افغانوں کو قید کیا گیا ہے۔

جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ’شفافیت نگران‘ نامی ادارے نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ جیلوں میں بے ضابطگیوں اور قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی رویے کو لمحۂ فکریہ قرار دیا تھا۔اس رپورٹ میں صرف تین جیلوں میں ایک ہزار انسانیت سوز اور غیرقانونی اقدامات قلم بند کیے گئے تھے۔

اسی طرح اس سے قبل اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں قندھار کے مشہور ظالم کمانڈر عبدالرازق کے نجی جیلوں میں ہونے والے ہول ناک مظالم کو ریکارڈ کر کے طشت ازبام کیا تھا۔ قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کو ایک بڑا انسانی بحران قرار دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی قوتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اسلامی ادارے، سول سوسائٹی اور اسی طرح کے دیگر طبقے سب خاموش ہیں۔ کسی میں بھی آواز اٹھانے کی جرأت نہیں ہے۔ خود کو مہذب اور انسان دوست کہلانے والے کیوں اتنے گِر چکے ہیں؟

افغانستان پر مسلط امریکا کی جانب سے چند بے ضمیر اور کٹھ پتلی حکمرانوں سے نہ تو قوم کو کوئی امید ہے اور نہ ہی حکمران افغان عوام کو انسان سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ وہ عوام کی حفاظت کے بجائے ڈالر دینے والے امریکیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا ایمان اور زندگی داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی غلامی پر شرم بھی نہیں محسوس کرتے۔ عوام کو اشرافیہ سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ جب کہ وہ افغان حکومت کو اپنا حکمران بھی نہیں سمجھتے۔

حملہ آوروں کی جانب سے عوام پر جتنا بھی ظلم یا اُن کا قتل عام ہوتا ہے، اس سب پر اشرف غنی کا ادارہ امریکا کی حمایت کرتا ہے۔ جب کہ مزید ستم ظریفی یہ کہ وہ ہر حملے کے بعد امریکا کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حملوں پر ظالم فوجیوں افسروں کو انعامات دیے جاتے ہیں۔

ظلم اور سربریت کی ایسی حالت میں عوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کے جہادی قافلے کے شانہ بشانہ قابض قوتوں اور کٹھ پتلی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ وہ اللہ تعالی کا حکم ’جہاد‘ کا فریضہ مکمل تنددہی سے ادا کرے۔ اگرچہ ہمارے افغانستان میں بہت کم لوگ ایسے ہیں، جو جہاد میں حصہ نہیں لیتے، لیکن کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں، جو مصلحت کا شکار ہیں اور افغانستان کا بحران ختم کرنے کے لیے عملی جہاد کے بجائے دوسرے طریقے ناکارہ راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ جہاد مسلمانوں کی آزادی کے لیے اللہ تعالی نے اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ اپنی جان، مال، عزت، دین، بچوں اور ملک کی حفاظت کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ اب عوام کو ظالموں کی طرف سے ظلم سہنا بند کر دینا چاہیے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ جہاد کا علم تھام کر اللہ کے دین کی نصرت کریں، تاکہ اللہ تعالی بدلے میں انہیں آزادی کی نعمت عطا فرمائے۔ کیوں کہ ایسی ناگفتہ بہ صورت حال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*