منصوری آپریشن کی کامیابی پر دشمن کا اعتراف

آج کی بات:

 

کابل انتظامیہ کی وزارتِ دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں روساں سال امارت اسلامیہ کی نقل و حرکت اور فوجی کارروائیوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال موسم بہار میں مجاہدین نے افغانستان بھرمیں منصوری آپریشن کے نام سے جہادی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ کابل حکومت نے تب منصوری آپریشن کو صرف ایک پروپیگنڈا قرار دیا تھا، لیکن اب اس نے منصوری آپریشن کی مضبوطی اور کامیابی کا اعتراف کر لیا ہے۔

منصوری آپریشن کے آغاز سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں قابض فوج اور کابل انتظامیہ کے اجرتی اہل کاروں پر وسیع جارحانہ، فدائی اور گوریلا حملے کیے جا رہے ہیں۔ دشمن کے مراکز کو میزائل حملوں سے بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان حملوں میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ متعدد اضلاع، وسیع علاقوں اور پہاڑوں سے دشمن کو پسپا کر کے مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ بڑے پیمانے پر فوجی وسائل بھی ضبط کر لیے ہیں۔

مشترکہ دشمن نے کئی بار کوشش کی کہ وہ ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول قائم کر لے، لیکن اللہ کے فضل سے دشمن ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول قائم نہیں کر سکا، بلکہ اس کے برعکس بہت سے علاقوں، اضلاع اور چوکیوں پر مجاہدین نے پیش رفت کرتے ہوئے مزید علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق نئی جنگی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا، جس میں زیادہ بمباریوں، رات کے چھاپوں اور ڈرون حملوں پر زور دیا گیا تھا۔ کٹھ پتلی حکمرانوں نے نئی پالیسی کا پُرجوش انداز میں خیرمقدم کیا اور متعددبار اس پر خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔ نئی حکمت عملی کے بعد فضائی حملوں اور سربریت میں بہت اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث شہریوں ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

قابض قوتوں کی نئی حکمت عملی نے مجاہدین کی سرگرمیوں پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا۔ دشمن کے ’مزید فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کیے جانے‘  کے اعلان کے بعد مجاہدین کے جذبات اور حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ مجاہدین نے افغانستان کے مختلف حصوں میں جارحیت پسندوں اور زرخرید فوجیوں کے قافلوں، اڈوں اور پناہ گاہوں پر خوف ناک حملے کیے ہیں۔ مثلا قندھار اور کابل میں حملہ آوروں پر فدائی حملے، جیمز میٹس کی آمد کے موقع پر کابل انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر راکٹوں سے حملہ، گردیز میں پولیس ہیڈکوارٹر اور ٹریننگ سینٹر پر جارحانہ حملہ، شلگر اور دیگر اضلاع میں سیکڑوں اہل کاروں کی ہلاکت قابل ذکر ہے۔

دشمن نے منصوری آپریشن کی ابتداء میں اس کو صرف جاری جنگ کا ایک غیراہم حصہ قرار دیا تھا۔ وہ آج اس آپریشن کی مضبوطی اور کامیابی کا اعتراف کر رہا ہے۔ مجاہدین نے اللہ کی نصرت اور قوم کی حمایت پر اعتماد کیا ہے۔ مجاہدین نے عزم کیا ہے کہ منصوری آپریشن کو مزید مضبوط بنا کر کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔ مجاہدین نے قابض قوتوں اور کٹھ پتلی اہل کاروں پر جہادی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*