کیا بدعنوانی میں ڈوبی ہوئی کابل انتظامیہ اصلاح ہوگی ؟

اجنبی قوت کے بل بوتے افغان مظلوم ملت پر مسلط ہونے والی کابل انتظامیہ  نہ صرف بدعنوانی کے پہلے مقام پر موجودہ ہے، بلکہ استعمار کے ظالمانہ معیار سے  بھی موافقت نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر ہمیشہ اور ہر میٹنگ میں مذکورہ  انتظامیہ سے فی الفور اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں۔  (09/نومبر 2017ء) کو بلجیم کے دارالحکومت بروکسل شہر میں نیٹو وزراء دفاع نے کرپشن کے روک تھام کے مطالبے کو شدت سے دہرایا۔

سب کو معلوم ہے کہ عدالتی  اور فوجی ادارے ہر نظام کی ریڑھ کی ہڈیاں ہوتی ہیں ، اقوام اور  حکومتوں کی بقا کی ضمانت کرتی ہے، بلکہ اقوام کے وقار اور حیثیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر حکومت کے دیگر اداروں میں کوتاہی اور انارشی آجاتی ہے، تو عوام کی آنکھیں عدالتی نظام کی جانب پھیرجاتی ہے اور اگر ملک بدامنی کے مسائل یا بیرونی خطرے سے  روبرو ہوجاتا ہے، تو پھر عوام کی توجہ کا مرکز فوج ہی رہتی ہے اور اسے نجات دہندہ سمجھتی ہے۔

عدالتی نظام میں بدعنوانی ماضی میں عروج کو  پہنچی تھی، اپنے اور پرائے سب ہی کو علم ہے کہ عدالتوں کے فیصلوں میں سالہاسال لگتے ہیں اور  مظلوم افغانوں کے مقدمے رشوت اور قوت کے بدنام دلیل کے بنیاد پر نمٹے جاتے ہیں، حتی اکثر افراد مجبور ہوتے ہیں، کہ شہروں سے باہر امارت اسلامیہ کی عدالتی مراکز میں اپنے فیصلے وغیرہ منتقل کریں، تاکہ آسانی سے اپنے جائز حقوق حاصل کرلیں۔

البتہ فوجی اداروں کے اندر بدعنوانی اور کرپشن  کے الزامات محض الزامات کے تک محدود  ہوتے۔رشوت اور چوری، فوجیوں کے ورثاء سے ناروا سلوک اور خیالی فوجیوں کی خبریں کبھی کبھی نشر ہوتیں،بعد میں ان کی تردید کی جاتی اور یا انہیں پروپیگنڈے تصور کیے جاتے۔

مگر اس اصل کے بنا پر (وشھد شاھد من اھلھا) 14/ نومبر 2017ء کو نام نہاد نیشنل آرمی کے ترجمان نے واضح کردی کہ یہ فوجی ادارہ بھی سر سے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ان کے اعتراف کے مطابق رواں سال کے تقریبا سات مہینوں میں 1700 مقدمات کی چھان بین ہوئی ہیں اور ان میں سے تقریبا ایک ہزار کو فوجی عدالتوں میں بھجوائے جاچکے  ہیں اور بعض کے لیے سالوں کی قید اور حتی سزائے موت کا اعلان بھی ہوا ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ ہمہ پہلو بدعنوان اور غیر مشروع انتظامیہ جس کا کوئی عوامی حمایت نہیں ہے۔ ہماری مظلوم عوام پر مسلط کی گئی ہے۔ افغان عوام کی خدمت کی قابلیت اور نہ ہی ارادہ رکھتی ہے، بلکہ استعمار اسے اپنی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔

استعمار کو چاہیے کہ افغان عوام کی تاریخ کا مطالعہ کریں، اس زور اور زر کی پالیسی کو بدل دیں اور عقل، منطق اور انصاف کے معیار کے مطابق اپنی افواج کو ہماری سرزمین سے نکالیں۔ افغانوں کے قتل عام کو ختم کردیں، کیونکہ جارحیت، عوام کو ستانا اور دیگر اقوام کے ممالک پر قبضے اکیسویں صدی کے عملی، ثقافتی اور تہذیبی دنیا کے اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*