اپنی قوم کے ساتھ امارت اسلامیہ کی ہمدری اور اخلاص

آج کی بات:

 

امارت اسلامیہ کے گزشتہ دور حکومت کی بات نہیں کریں گے ، وطن عزیز پر امریکہ کی قیادت میں استعماری قوتوں کی یلغار کے بعد گزشتہ 17 برس سے امارت اسلامیہ کے بہادر مجاہدین اگر ایک جانب امریکہ، نیٹو، کٹھ پتلی حکومت کی اجرتی فورسز اور داعش کے فساد کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ملک کی آزادی اور مذہبی اقدار کے تحفظ کے لئے منظم انداز میں جرات اور بہادری کے ساتھ میدان کارزار میں کھڑے ہیں تو دوسری جانب اپنی مجاہد قوم کی حفاظت ، لوگوں کی سلامتی، اور خوشحالی کے فرائض بھی پورے خلوص کے ساتھ انجام دے رہے ہیں ۔

امارت اسلامیہ نے صرف عسکری انتظامات پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ شہریوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کے حل اور بر وقت رسیدگی کے لئے ہر صوبے کی سطح پر عدالتی، تعلیمی، صحت، ترقیاتی ، ثقافتی اور دیگر امور کے حوالے سے منظم ڈھانچہ قائم اور ادارے تشکیل دیئے ہیں جن کی نگرانی امارت کی قیادت اور مرکزی کمیشن کی طرف سے کی جاتی ہے ۔

امارت اسلامیہ کی قیادت نے مشکل اور حساس حالات میں لوگوں کو یہ سہولت فراہم کی ہے اگر خدا نخواستہ امارت کے کسی ذمہ دار شخص یا مجاہد نے عام شہری پر تشدد کیا یا اس کے حقوق غصب کئے تو وہ بلا خوف اپنی شکایت درج کر سکتا ہے اور امارت اسلامیہ کی عدالتوں سے رجوع کر کے اس کو انصاف ملے گا ، عدالت کے قاضی اس شخص کی شکایت کی سماعت کریں گے اور تحقیقات کرنے کے بعد جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزا دی جائے گی ۔

امارت سلامیہ تنظیمی اداروں میں غیر شرعی اور غیر قانونی اقدامات کی تحقیقات اور عوام کی مشکلات اور مسائل کے حل کے لئے ہر سال خصوصی اور باصلاحیت وفود مقرر کرتی ہے وہ ہر صوبے کی سول اور فوجی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے ، مجاہدین کی سرگرمیوں اور کارروائیوں کی دیکھ بھال کریں گے ، لوگوں کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اطمنان بخش ماحول میں ان سے ملیں اور دل کی باتیں انہیں بتائیں ، یہ وفود پھر ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ اقدامات کریں گے ، تمام مسائل موقع پر حل کرتے ہیں اور پیچیدہ مسائل امارت اسلامیہ کی اعلی عدالتوں میں پیش کریں گے جن پر قاضی احکامات صادر کریں گے ۔

اعلی قیادت بھی ان بھیجے گئے وفود کی سفارشات پر گورنروں ، زونوں کے رہنماؤں اور تمام ذمہ داران کی موجودگی میں معاملات کی جانچ پڑتال کرتی ہے ۔

امریکیوں اور کابل انٹیلی جنس اداروں نے اغواکاروں کے مخصوص گروپوں کے ذریعے جو اب داعش کے نام سے رسوا ہو گئے ، نے گزشتہ 17 سالوں سے کوشش کی کہ وہ مجاہدین کی صفوں میں داخل ہو کر ایسی بزدلانہ کارروائیاں کریں کہ جن کے باعث عوام اور مجاہدین کے درمیان نفرت اور فاصلے جنم لیں ، اغواء کاروں نے مجاہدین کے روپ میں لوگوں سے زبردستی پیسے لینے ، ترقیاتی کاموں کی مخالفت ، اسکولوں کو جلانے اور دیگر عوام دشمن اقدامات کرنے کی کوشش کی لیکن امارت اسلامیہ کی قیادت نے بروقت ان چیزوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری طور دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنایا ، ان کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں ، مجرمین کو گرفتار کر کے شرعی قانون کے حوالے کر دیا ۔

جب ان گروہوں اور افراد کی شناخت ہو گئی اور ان کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا تو انہوں نے داعش کے نام سے فعالیت کا اعلان کر دیا اور براہ راست امریکی فوجی اڈوں سے ان کے تانے بانے ظاہر ہو گئے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ گھمبیر حالات میں امارت اسلامیہ کی قیادت کا عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کا مناسب ثبوت ہے کہ پانچ لاکھ قابض اور اجرتی قاتلوں اور داعش کے خلاف برسرپیکار بھی ہیں اور اپنی صفوں کی صفائی اور عوام کی مشکلات کے حل کے لئے بھی پر عزم ہیں ۔ الحمدللہ

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*