کابل کی کٹھ پتلی حکومت انتشار کا شکار

آج کی بات:

 

گزشتہ دنوں صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں پولیس کے دو گروپوں کے درمیان جھڑپ میں دو درجن سے زائد اہل کار ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ”محقق“ نے ایران میں ان افغان نوجوانوں کی تعریف کی، جو شام میں داعش کے خلاف لڑتے ہیں۔ جب کہ مخلوط حکومت نے اس پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ غصے کیسوع وجہ کچھ بھی ہو، لیکن حامد کرزئی اور پارلیمنٹ کے دوسرے اراکین لالئی حمیدزئی، ظاہر قدیر اور دیگر نے داعش کو مخلوط حکومت کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی آشیرباد سے قومی حکومت داعش کی سرپرستی کر رہی ہے۔لحاظ لالئی حمیدزئی نے کہا کہ معصوم ستانکزئی داعش کو پروان چڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔

کچھ عرصہ قبل انہوں نے کمانڈر عطاءنور کی تقریب پر ہونے والے خونی حملے کو ایوان صدر اور اس کے حامیوں کی کارستانی قرار دیا تھا۔

اشرف غنی سے منسلک ایک حکم نامے میں لکھا گیا تھا کہ پولیس میں ایک نیا شعبہ قائم کیا جائے، لیکن اس میں تاجک رہنماؤں کو حصہ نہ دیا جائے۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر ہمایوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اشرف غنی اور قومی سلامتی کے حکام نے انہیں قتل کرنے کی دھمکی دی ہے، اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار اشرف غنی ہوں گے۔

مخلوط حکومت میں واضح دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ ہر روز اس طرح کے متنازعہ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ اگر امریکی سفیر اور امریکی کمانڈر نکلسن کا خوف نہ ہوتا تو شاہد یہ سب آپس میں کیڑے مکوڑوں کی طرح لڑ پڑتے۔

مخلوط حکومت کے درمیان اختلافات مزید کتنی شدت اختیار کریں گے، اس کا عملی مظاہرہ مستقبل میں دیکھے جانے کے قابل ہوگا۔

بدقسمتی سے اس طرح کے واقعات اور سازشوں کی وجہ سے کابل کے شہری اور افغان عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ ان نااہل کٹھ پتلی حکمرانوں کی وجہ سے بری صورت حال سے دوچار ہیں۔ مخلوط حکومت کی کرپشن، بدعنوانی، ظلم اور ناانصافی نے عوام کو کسمپرسی کی حالت سے دوچار کرد رکھا ہے۔ جس کے باعث 70 فیصد لوگ بے روزگار اور زندگی سے بیراز ہو چکے نظر آتے ہیں۔

علاوہ ازیں کابل کے نااہل اور کٹھ پتلی حکمرانوں نے ملکی تعمیرنو اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے اربوں روپے بین الاقوامی دنیا سے حاصل کیے، لیکن اس کے باوجود پڑھے لکھے نوجوان حکمرانوں کی کرپشن، اقربا پروری، نسلی اور لسانی تعصبات کی وجہ سے ملازمت حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ اس لیے بہت سے نوجوان ملک چھوڑنے اور بیرون ملک جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ دوران سفر مختلف مشکلات کے باعث موت، قید اور لاپتہ ہونے جیسے مسائل سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے ایسے دردناک واقعات آج کل افغان عوام کے لیے معمول بن چکے ہیں۔ ہر لمحہ اس طرح کے الم ناک واقعات ان کی زندگی کے لیے خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ امریکی جارحیت پسندوں کے چھاپے اور بمباری اور مجاہدین کے ساتھ تعاون کے شبہے میں عام لوگوں پر جبر اور تشدد وغیرہ ایسے سنگین مظالم ڈھائے جاتے ہیں، جو کٹھ پتلی حکومت کا شعار بن چکے ہیں۔ نااہل حکومت نہ صرف قوم کا درد محسوس نہیں کرتی، بلکہ حملہ آوروں کی خوشامد کے لیے عوام پر مظالم کا خیرمقدم کرتی ہے۔ لہذا یہ نااہل، کٹھ پتلی ،انتشار کا شکار، کرپٹ اور بوسیدہ نظام کی حامل حکومت کے دونوں سربراہ اور ان کے حامی آپس میں دست و گریبان ہیں۔ چور، لٹیرے اور بدعنوان حکمران چند ڈالروں کی خاطر اپنی عزت بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ عوام کو ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*