ظلم و سربریت سے امن قائم نہیں ہوسکتا

آج کی بات:

نیٹو کمانڈر جنرل نکلسن نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان میں قندوز سمیت مختلف علاقوں میں امنِ عامہ کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ امید ہے آئندہ انتخابات تک مزید بہتر ہو جائے گی۔‘ جنرل نکلسن کے ہمراہ کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ کے چند وزراء اور دیگر حکام بھی قندوز گئے تھے۔ انہو نے عوام پر زور دیا ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے تیاری شروع کر دیں تو وہ قیام امن کے لیے کردار ادا کریں گے۔

انتخابات جیسے قومی مسائل غیرملکی حملہ آوروں کی فرمائش پر حل ہو رہے ہیں، جب کہ کٹھ پتلی حکمران صرف تماشائی کا کر دار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے، جس سے عوام کو اس بات کا ادراک ہو رہا ہے کہ افغانستان آزاد نہیں ہے۔ یہاں حقیقی حکومت مغربی حملہ آوروں کی ہے۔

جنرل نکلسن نے ان خیالات کا اظہار تب کیا، جب وسیع پیمانے پر ان کی جانب سے شہریوں کا قتل عام اور مجرمانہ کارروائیاں جاری ہیں۔

ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد تین ماہ ہونے کو ہیں کہ امریکا اور افغان کٹھ پتلیوں نے افغانستان بھر میں ظلم اور سربریت کا نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پورے پورے دیہات بمباری میں تباہ کر دیے جاتے ہیں۔ رات کے چھاپوں اور تلاشی کے ذریعے شہریوں کی جان، مال اور عزت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ منشیات کے خاتمے کی آڑ میں مارکیٹوں اور بازاروں پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔ دکانوں کو جلا دیا جاتا ہے۔ مجاہدین کے شبہے میں مدارس اور مساجد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ معصوم طالب علموں کو شہید کیا گیا ہے۔ امریکی حملہ آور اور کٹھ پتلی حکمران کسی بھی طرح کے ظلم سے گریز نہیں کر رہے۔

ان تمام انسانیت سوز سنگین جرائم اور سربریت کے باوجود امریکی جنرل نکلسن قندوز میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران ’افغان قوم کو قیام امن کا یقین دلا رہے ہیں۔ وہ قوم پر زور دیتے ہیں کہ وہ انتخابات کے لیے تیاری شروع کریں۔ وہ سکیورٹی صورت حال بہتر کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

کیا ایسے نامعقول خیالات کا اظہار اس قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف نہیں ہے؟ کیا ان مظالم سے امن قائم ہو سکتا ہے؟ ایسے انسانیت سوز مظالم اور سنگین جرائم کا ارتکاب افغانستان کی تباہی کا باعث ہے گا یا قیام امن کے لیے مدد گار ثابت ہوگا؟ کیا ظلم اور سربریت کے ذریعے قیام امن کو یقینی بنانا ممکن ہے؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*