امریکا کابل میں امن قائم کرے، پھر مزید دعوے کرے

آج کی بات:

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جان نکلسن نے گزشتہ روز اشرف غنی کے ہمراہ کابل میں ایک فوجی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ”ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی نے طالبان کو کمزور کیا ہے۔“ جب کہ  طالبان کے خلاف تب تک آپریشن جاری رہے گا، جب تک وہ امن عمل میں شمولیت اختیار نہ کر لیں۔

امریکی جرنیلوں کے پاس ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا مذاق اڑانے اور پروپیگنڈا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ جنرل نکلسن یہ وضاحت کریں کہ انہوں نے ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد مظلوم شہریوں کو نشانہ بنانے، عوامی مقامات پر بمباری کرنے، سیکڑوں نہتے افغانوں کو کشت و خون میں نہلانے اور مارکیٹوں، بازاروں اور گھروں کو تباہ کرنے کے علاوہ اور کون سی کامیابی حاصل کی ہے؟

کیا کوئی امریکی جرنیل یا کابل کی کٹھ پتلی حکومت کے حکام پورے افغانستان میں کسی ایک ایسے علاقے کا نام بتا سکتے ہیں، جس پر ٹرمپ کی پالیسی کے بعد اس پر دوبارہ قبضہ کیا گیا ہو اور مجاہدین کو پسپا ہوئے ہوں؟

جب امریکی فوجی عسکری میدان میں مکمل طور پر شکست سے دوچار ہو گئے اور ان کی نئی حکمت عملی کو چیلنج کیا گیا تو انہوں نے اپنے مخصوص جنگجو گروپ داعش کو ہتھیار اور وسائل فراہم کیے، جنہوں نے مشرقی صوبے ننگرہار کے عوام کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔

اگر امریکی کمانڈر جنرل نکلسن اس کو کامیابی سمجھتے ہیں تو بلا شبہ امریکی فوج نے اپنی خصوصی ملیشیا داعش کے ذریعے ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے عوام کو یہ ہولناک تکلیف دے کر یہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ہم امریکا اور کابل کٹھ پتلی حکومت کو یاد دلاتے ہیں کہ پورے افغانستان کو رہنے دیں، کیا صرف وفاقی دارالحکومت میں اپنی بھرپور قوت اور سخت ترین سکیورٹی انتظامات کے باوجود امن قائم کیا ہے؟ کیا شہریوں کو تحفظ فراہم کیا ہے؟ گزشتہ روز کابل کے تاجروں نے روتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ ملک میں آزادانہ طور پر آمد و رفت کا تو تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کابل شہر میں اپنے گھروں سے نکل کر مسجد تک نہیں جا سکتے ہیں۔ ایک تاجر نے کہا کہ میرے ساتھ دس محافظین موجود ہیں۔ اس کے باوجود اغواء کاروں نے میرا معصوم بچہ اغواء کر لیا اور اب میرے بیٹے کی رہائی کے بدلے پانچ ملین ڈالر کا تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی جنرل کو چاہیے کہ وہ مجاہدین کو کمزور کرنے کا تصور ختم کریں۔ اگر وہ صرف کابل میں قیام امن یقینی بنائیں اور ایک ایسا مضبوط ادارہ قائم کریں، جس میں کرپٹ مافیا، قاتلوں اور لٹیروں کی گنجائش نہ ہو تو یہ ٹرمپ کی حکمت عملی کی اہم کامیابی ہوگی۔

اب وہ مرحلہ گزر گیا ہے کہ آپ مجاہدین کی کمزوری کے بلند و بانگ دعوے کریں۔ افغان قوم، علاقائی ممالک اور بین الاقوامی دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ امارت اسلامیہ ایک طاقت اور اس کی موجودگی سب کے لیے باعث خیر اور نجات ہے۔ جس کو اس طرح بھرپور حمایت حاصل ہو، اس کو کمزور کرنے کی سوچ امریکا اور کٹھ پتلی حکام اپنے دماغ اور حکمت عملی سے نکال دیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*