دینی مدارس اور علماء پر حملے

آج کی بات:

 

افغانستان کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے اعلان کے بعد افغان شہریوں کے گھروں، دکانوں، فصلات، مساجد، مدارس، اسکولوں اور دیگر عوامی مقامات پر امریکی فوجیوں کے چھاپوں، بمباریوں اور حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں شہریوں کو وسیع پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ ان کے گھر تباہ کیے جا رہے ہیں۔

خاص طور پر دینی مدارس، مساجد اور علمائے کرام پر قابض امریکی اور کٹھ تپلی حکومت کے حملوں میں زیادہ شدت آئی ہے۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں دینی مدارس اور مساجد پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ان کو جلا دیا گیا۔ طلباء، علماء اور اساتذہ کو گرفتار یا شہید کیا جا رہا ہے۔

17 نومبر کو صوبہ لوگر کے ضلع چرخ کے علاقے ”ملا علیم“ گاؤں پر امریکی اور اجرتی فوجیوں نے چھاپہ مارا، جس میں دو مدارس اور گھروں کی تلاشی لی گئی اور مدرسے کے طلباء سمیت پانچ شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

20 نومبر کو مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے مرکی خیل پر قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے مل کر چھاپہ مارا۔ جس میں ایک عالمِ دین ’’مولوی شیریندل صاحب‘‘ کو شہید اور تین افراد کو گرفتار کیا گیا۔

22 نومبر کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے علاقے عمر خیل میں قائم ایک دینی مدرسے پر امریکی اور افغان فورسز نے چھاپہ مارا۔ امریکی فوجیوں نے آٹھ چھوٹے طالب علموں کو ایک دیوار کے نیچے بٹھانے کے بعد ان پر گولیاں برسا دیں۔

اسی دن صوبہ پکتیا کے ضلع احمد آباد کے علاقے کامران خیل میں پولیس نے ایک عالمِ دین مولوی حمداللہ کو شہید کر دیا۔

26 نومبر کو قابض افواج نے صوبہ لغمان کے ضلع قرغی کے علاقے چار باغ اور امبیڑ میں ایک عالمِ دین سمیت پانچ شہریوں کو شہید اور تین افراد کو گرفتار کر لیا۔

22 اکتوبر کو صوبہ غزنی کے ضلع ناوا کے علاقے تنگی میں حملہ آوروں نے چھاپہ مارا۔ جس میں دو شہریوں حمداللہ اور لطف اللہ اخوندزادہ کو شہید اور خواتین اور بچوں سمیت دس افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

22 اکتوبر کو صوبہ زابل کے ضلع شاجوئی اور ضلع نوبہار کے درمیان لوڑ مرغہ غٹ بٹ خیل کے علاقے میں ایک مسجد پر امریکی طیاروں نے بمباری کی، جس میں تین طالب علم شہید ہوئے۔ جب کہ پانچ شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔

22 اکتوبر کو امریکی اور کٹھ پتلی فورسز نے صوبہ غزنی کے ضلع ناوہ کے علاقے چادر ماندہ پر چھاپہ مارا اور علاقے کے معزز دینی رہنماء اور روحانی شخصیت قطب اللہ اخوندزادہ سمیت تین افراد کو شہید اور ایک خاتون سمیت اس کے خاندان کے تمام افراد کو حراست میں لے لیا۔

11 ستمبر کو صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے علاقے شیر میں پولیس نے فائرنگ کر کے دو طالب علموں کو شہید اور ایک زخمی کر دیا۔

15 ستمبر کو صوبہ بغلان کے ضلع برکی میں کٹھ پتلی فوجیوں نے مولوی کمال الدین کے مدرسے پر قبضہ کر کے اس میں مورچے قائم کیے۔ دیواروں کو گولیوں سے سوراخ زدہ کر دیا۔ جس سے مدرسے کی عمارت مخدوش ہو گئی ہے۔

17 سمتبر کو صوبہ غزنی کے ضلع دہ یک کے علاقے بالائی میں پولیس نے ایک عالمِ دین مولوی عبدالہادی اخوندزادہ کو شہید اور ان کے بیٹے اور اہلیہ کو زخمی کر دیا۔

27 ستمبر کو صوبہ بادغیس کے ضلع درہ بوم کے بازار میں فورسز کے راکٹ حملے میں مقامی مدرسے کے دو طالب علم شہید ہو گئے۔

دینی مراکز پر حملوں اور علمائے کرام اور طالب عملوں کی شہادت کے مذکورہ اعداد و شمار بطور نمونہ پیش کیے گئے ہیں۔ افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہر روز حملہ آوروں اور کابل حکومت کے چھاپوں، بمباریوں اور حملوں میں نہتے شہریوں کے مکانات تباہ، خواتین اور بچے شہید ہوتے ہیں۔ جب کہ مختلف بہانوں سے بے گناہ اور نہتے شہریوں کو گرفتار کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مجاہدین اپنے شہریوں کی جان، مال، عزت اور اقدار کے تحفظ اور بالخصوص دینی مراکز کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔ وہ کوشش کریں گے کہ ہر ممکن طریقے سے دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر ظالم دشمن کے حملوں کی روک تھام کی جائے۔ ان کے مذموم مقاصد اور عزائم کو خاک میں ملایا جائے اور اپنے مظلوم عوام کا بدلہ لیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*