امریکا سازشوں اور جنگوں کی ماں ہے!

آج کی بات:

 

ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو یروشلیم منتقل کرنے کا اعلان کر کے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ جس سے وہاں مزید خون خرابہ ہوگا۔ مظلوم فلسطینیوں کو اپنے علاقے سے بے دخل کیا جائے گا اور مسجد اقصی پر صہیونیوں کا کنٹرول مزید مضبوط ہوگا۔

اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک نے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اس کو جنگ کے تسلسل کا سبب قرار دیا ہے۔

اگرچہ امریکی فیصلے پر مذمت کی جا رہی ہے،  لیکن کفار کے رویّے سے یہ واضح ہے کہ یہ معاملہ چند دن بعد خاموشی کی نذر ہو جائے گا۔ جس سے غاصب صہیونی امریکی صلیبیوں کی حمایت سے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا خون چوسنے لگیں گے۔ اب یہ حقیقت بہت واضح ہو گئی ہے کہ دنیا میں تمام شرارتوں، سازشوں اور جرائم کی ماں امریکا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا کے خلاف مزاحمت شروع کی جائے اور جہاں پہلے سے مزاحمت شروع ہے، اس کی حمایت کرتے ہوئے اسے مضبوط کیا جائے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد اس غاصب اور ظالم کے خلاف جو مزاحمت جاری ہے، بہت سی قربانیوں کے بعد اب یہ مزاحمتی تحریک کامیابی کی منزل کے قریب ہے۔ تمام مظلوم دنیا اور خصوصا عالمِ اسلام کو امارت اسلامیہ کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے امریکا کے خلاف جنگ اور جہاد میں شریک ہونا چاہیے۔

اگر امریکا کے ہتھیار اور ڈالر نہ ہوں تو اسرائیل کیا کر سکتا ہے؟ وہ اپنے شہریوں کو خوراک تک فراہم نہیں کر سکتا۔ امریکا کی مکمل اور بھرپور حمایت کی وجہ سے وہ دنیا کی بڑی طاقتوں سے بھی نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہے۔ حتی کہ اقوام متحدہ کے معاہدوں اور قراردادوں کو بھی بہت لاپرواہی سے مسترد کرتا ہے۔

بیت المقدس اور دیگر غصب شدہ علاقوں کی آزادی اتنا آسان مسئلہ نہیں ہے کہ صرف چند نعروں، مظاہروں یا سیاسی کوششوں سے ان مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے، بلکہ امارت اسلامیہ نے اس حقیقت کا ادراک کیا ہے اور دشمن کی شرارت اور دوغلی پالیسی سے خوب واقف ہے۔ اس لیے قابض استعماری قوتوں کے خلاف مسلح جدوجہد کو ترجیح دی گئی ہے۔ مجاہدین کی بے تحاشا قربانیوں کی بدولت حملہ آوروں کی تمام سازشیں دم توڑ گئی ہیں۔ ان کے تمام منصوبے اور عزائم ناکام بنا دیے گئے ہیں۔ امریکا نوآبادیاتی نظام کے تحت افغانستان پر قبضہ مضبوط کرنے کے بعد افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی اپنے مقبوضات قائم کرنا چاہتا ہے۔

اگر بیت المقدس پر قبضہ کرنے والے صہیونیوں تک رسائی حاصل نہیں ہے تو ان کے حامی استعماری فوجیوں کو تو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے پندرہ سال قبل اس مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مزاحمت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اخلاقی اور مادی لحاظ سے اس کی حمایت کی جائے۔ امید ہے کہ اللہ تعالی صہیونیوں کے حامیوں کو افغانوں کے ہاتھوں شکست دے کر دنیا کو ان کے شر سے نجات دلائیں۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*