جنگی جرائم (اگست 2017)

 سید سعید

افغانستان میں امریکا کی جانب سے ظلم کی تاریخ طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا کے حوالے سے یہ بات تاریخی حیثیت کو پہنچی ہوئی ہے کہ اس ملک کی بنیاد ہی  ظلم و ستم اور درندگی پر رکھی گئی ہے۔ ریڈانڈینز کے قتل سے شروع ہونے والا سلسلہ آج افغانستان میں پہنچا ہوا ہے۔ جو کہ ہر نئے دن کے ساتھ نت نئے مظالم اور جبر و ستم کی کہانیاں لیے غروب ہو جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں پانچ اگست کو صوبہ پکتیکا کے ضلع سرحوضی میں امریکا کی کٹھ پتلی پولیس کے اہل کاروں نے فائرنگ کر کے پانچ پُرامن شہریوں کو شہید اور زخمی کر دیا۔ جب کہ دو دن بعد صوبہ ہرات کے ضلع شین ڈنڈ میں افغان اہل کاروں کی فائرنگ سے دو شہری شہید ہوگئے۔

8 اگست کو ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے مملی میں حملہ آوروں اور ملکی فورسز کی مشترکہ کارروائی میں ایک شخص شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے۔

10 اگست کو ننگرہار کے ضلع ہسکہ مینہ کے علاقے پاپین پر قابض فوج نے بمباری کر دی، جس کے نتیجے میں 16 شہری شہید ہوگئے۔ ضلعی گورنر سازولی شینواری نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی طیاروں نے ایک گاڑی پر بمباری کی تھی، جس میں سوار 8 افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے اور ان کے قریب 8 افراد پیدل جا رہے تھے، اُنہیں بھی نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ اس کے اگلے دن صوبہ فاریاب کے ضلع دولت آباد کے علاقے تورتہ عطا میں سرکاری فورسز کے راکٹ حملے سے دو خواتین سمیت 14 افراد شہید اور تین زخمی ہوگئے۔ جب کہ صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب کے علاقے مؤمن آباد میں افغان فورسز نے مقامی آبادی پر بمباری کر کے چار افراد کو شہید اور زخمی کر دیا۔

18 اگست کو صوبہ کنڑ کے ضلع سرکاڑ کے علاقے گنج گل میں فورسز کی فائرنگ سے دو بچے شہید اور ان کی والدہ زخمی ہوگئیں۔

20 اگست کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے بازار میں فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کر کے خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد کو شہید کر دیا۔ جب کہ صوبہ ننگرہار کے ضلع بٹی کوٹ کے علاقے نواقل میں قابض افواج اور افغان فورسز نے مشترکہ چھاپے کے دوران تین شہریوں کو شہید کر دیا۔ اس سے اگلے روز فارباب کے ضلع شرین تگاب کے علاقے گوراغلی میں پولیس نے ایک شخص ’محمد ولد علی‘ کو شہید کر دیا۔ جب کہ قندوز کے صوبائی دارالحکومت گورتیپہ چہار درچیان میں امریکی فوجیوں نے افغان فورسز کے ہمراہ چھاپہ مار کر گھروں کے دروازے توڑ دیے۔ لوگوں پر تشدد کیا اور چار افراد کو حراست میں لے لیا۔

23 اگست کو صوبہ میدان وردک کے ضلع سیدآباد کے علاقے جنجائی میں حملہ آوروں کے ڈرون حملے میں تین شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

26 اگست کو قندوز کے ضلع چہاردرہ کے علاقے نہر صوفی میں امریکا نے ڈرون حملہ کر کے ایک درجن شہری شہید اور زخمی کر دیے۔ اس سے اگلے دن چہاردرہ ہی کے علاقے سجان میں امریکی اور افغان فورسز نے مشترکہ کارروائی کے دوران گھروں کے دروازے بموں سے اڑانے کے بعد اندر گھس کر شہریوں پر تشدد کیا اور قیمتی اشیاء لوٹ لیں۔ اس کے بعد علاقے پر بمباری کر کے متعدد گھروں کو تباہ کر دیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت پانچ افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔

28 اگست کو صوبہ تخار کے ضلع اشکمش کے علاقے ’کوکہ بلاق‘ میں افغان فوجیوں نے ایک شخص ’حاجی حسن‘ کو گولی مار دی، جس سے وہ موقع پر شہید ہو گیا۔ جب کہ صوبہ ہرات کے ضلع شین ڈنڈ کے علاقے بخت آباد کے گاؤں معروف پر امریکی طیاروں نے شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت چالیس عام شہری شہید ہوگئے۔ ہرات کے گورنر کے ترجمان جیلانی فرہاد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ’اس واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت چالیس افراد شہید ہوئے ہیں۔‘ اس سے اگلے دن مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع خوگیانو میں مقامی فورسز نے ایک عالم دین ’مولوی عبدالحکیم‘ کو نمازِ مغرب کے بعد مسجد میں ہی شہید کر دیا۔ جب کہ صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے علاقے دشت باری میں امریکی فوج کی بمباری سے تیرہ عام شہری شہید اور سات زخمی ہوگئے۔

ذرائع: بی بی سی، آزادی ریڈیو ، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لر اوبر، نن ڈاٹ ایشیاء، مختلف ویب سائٹس۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*