مولوی احسان اللہ شہید؛ حالات و واقعات

عبدالرؤف حکمت    

اسلامی تحریکوں نے ہمیشہ ہر شعبۂ زندگی کے لیے مخصوص ہنرمند اور باصلاحیت افراد کو جنم دیا ہے۔ اگر تحریک کے کچھ لوگ تلوار اور میدان جنگ کے شہسوار ہوتے ہیں تو دوسرے افراد سیاست، دعوت، خطابت اور عوام کے دلوں کو فتح کرنے کے لیے ایسی مہارت اور صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کا ہر لفظ ہزاروں گولوں سے زیادہ نتیجہ خیز اور کامیابی کا باعث ہوتا ہے۔

اللہ تعالی نے انسان کو بہت زیادہ صلاحیتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک اہم صلاحیت خطابت اور تقریر کی ہے۔ جب یہ تقریر اور خطابت کی صلاحیت فصاحت و بلاغت کے سانچے میں ڈھل کر اخلاص کے زیور سے آراستہ ہو جائے تو مقرر کا خطاب لوگوں کے دلوں پر جادو کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنی تقرر کے جوہر سے متأثر کرنے کی خداد صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ افغانستان کی سطح پر مشہور خطباء اور مقررین میں سے ایک مولوی احسان اللہ احسان شہید تھے، جن کی سحر انگیز تقریروں کے اثرات کئی عرصے تک افغانوں پرقائم رہے ہیں۔ احسان شہید نے اس وقت سیاست کے میدان میں عملی قدم رکھا، جب ملک مختلف بحرانوں اور سنگین صورت حال سے دوچار تھا۔اس وقت افغانستان کو تقسیم کےچیلنج کا سامنا تھا۔ قوم باہمی تنازعات اور کرپشن کی آگ کے شعلوں میں جل رہی تھی۔ ہر طرف افراتفری اور لاقانونیت کا دور تھا۔ ان حالات میں احسان شہید دیگر علمائے کرام اور مجاہدین سمیت ملک سے لاقانونیت اور کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے جہاد کے میدان میں آگے بڑھتے ہوئے ’تحریکِ اسلامی طالبان‘ قائم کی۔ بعدازاں اسی تحریک کو ’امارت اسلامیہ افغانستان‘ کے نام سے اس تحریک کو آگے بڑھایا گیا۔ ملک کو بدعنوانی سے پاک اور افراتفری سے بچا کر جہاد کے ثمرات کو ضایع ہونے سے محفوظ کیا۔

مولوی احسان الله احسان شہید

مولوی احسان اللہ احسان شہید صاحب مولوی آغامحمد کے بیٹے اور مولوی میرزاد محمد کے پوتے تھے۔ وہ پوپلزئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا اصل علاقہ قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ کے علاقے ’بوری‘ میں ’لوئی کلی‘ ہے۔ آپ نے پانچ محرم الحرام 1381 ہجری قمری کو صوبہ زابل کے ضلع میزان کے گاؤں ’سلیم‘کے ایک ممتاز علمی خاندان میں آنکھ کھولی۔ مولوی احسان شہید کے دادا مولوی مرزا محمد کا شمار قندھار کے مشہور علمی اور جہادی شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے افغانستان میں برطانوی سامراج کی دوسری جنگ کے دوران انگریزوں کے خلاف جہاد میں صفِ اول کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ قندھار کے سرحدی ضلع اسپن بولدک میں انگریزوں کے ساتھ جھڑپ میں ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔ بعد ازاں اسی وجہ سے علاقے میں ’لنگڑا ملا مرزا‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔

حصولِ تعلیم

مولوی احسان اللہ احسان شہید بچپن سے ہی ذہین و فطین تھے۔ ان کی ولادت ایک علمی خاندان میں ہوئی تھی۔ والد کی طرح ان کی والدہ محترمہ بھی دیانت دار، نیک اور متقی خاتون تھیں۔ وہ بیان کیا کرتی تھیں کہ انہوں نے اپنے لختِ جگر احسان کو کبھی وضو کے بغیر دودھ نہیں پلایا۔ احسان شہید کی والدہ ان کی ذہانت کے بارے میں کہتی تھیں کہ ’وہ بچپن ہی سے بہت ذہین اور زکی ہیں۔ انہوں نے پانچ سال کی عمر میں آیت الکرسی یاد کر کے مجھے بھی یاد کرائی۔ ان کے والد نے بھی بچپن میں ان کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی۔ اپنے گھر میں ہی ابتدائی دینی کتابیں پڑھائیں۔ بعد ازاں انہیں مزید علم کے حصول کے لیے  پاکستان بھیجا گیا، انہوں نے وہاں مختلف دینی مدارس میں حصولِ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ خیبرپختونخواہ کے سوات سے لے کر بلوچستان کے مختلف علاقوں،پشین، میزی اڈہ، کچلاک، لورالائی اور کوئٹہ میں اپنے وقت کے جید علمائے کرام؛ مولوی سعدالدین اخندزادہ، مولوی عبدالغفور صاحب، مولوی شراف الدین صاحب، مولوی عنایت اللہ عرف غبرگی اخوندزادہ،مولوی عبید اللہ قندھاری، مولوی ابوالفضل معین الدین صاحب و دیگر سے فیض یاب ہوئے۔ درسِ نظامی کے آخری سے پہلے درجہ موقوف علیہ کوئٹہ کی معروف دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ میں شیخ الحدیث مولوی عبدالباری اور مولوی عبدالحی سے پڑھا۔ دورۂ حدیث بھی اسی مدرسے میں شیخ الحدیث مولوی عبدالغفور صاحب سے پڑھنا شروع کیا، لیکن وہ درمیان میں انتقال کر گئے۔ اس لیے دورۂ حدیث کی ادھوری تعلیم کوئٹہ کے مدرسے ’شالدرہ‘ میں شیخ الحدیث حافظ عبدالواحد سے مکمل کر کے علومِ نبوت کے فاضل کی سند حاصل کی تھی۔

کمیونزم کے خلاف جہاد

مولوی احسان شہید حصول تعلیم کے دوران ابتدائی مرحلے میں تھے کہ افغانستان میں کمیونسٹوں نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا، جس کے خلاف افغان عوام جہاد کے میدان میں کود پڑے۔ اس جہاد میں پوری قوم نے بہت دلیری اور شجاعت سے حصہ لیا، جس کی قیادت علمائے کرام اور دینی رہنماؤں کے پاس تھی۔ مولوی احسان شہید کا تعلق علاقے کی سطح پر ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ اس لیے انہوں نے روسی افواج اور کمیونسٹ طبقے کے خلاف جہاد کو مذہبی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے صوبہ زابل کے ضلع میزان میں ’شہید مقیم‘ کی قیادت میں روسی جارحیت پسندوں کے خلاف جہاد میں عملا حصہ لیا۔ وہ اس کے بعد صوبہ ہلمند گئے، جہاں دو سال تک مختلف محاذوں میں کمیونسٹوں کے خلاف جہاد میں مصروف رہے۔ ہلمند میں دو سال کے دوران مختلف جہادی اور عسکری منصوبہ بندی کے بعد واپس زابل آگئے۔ یہاں پر مولوی عبدالظاہر کے تعاون سے ضلع میزان کے پہاڑ ’ارغسو‘میں مجاہدین کا ایک محاذ بنایا، جہاں وہ مجاہدین کو عسکری تربیت کے علاوہ دعوت کے میدان میں فکری تربیت اور اسلامی ثقافت سے بھی روشناس کرانے کی کوشش کرتے تھے، تاکہ وہ الحاد اور لادین قوتوں کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ درسِ نظامی کی تعلیمی سلسلے کو بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ وہ حقیقت میں ایک جہادی رہنما اور داعیِ دین کا بھرپور کردار تھے۔

تحریکِ اسلامی طالبان میں شمولیت

محرم الحرام 1415 ہجری قمری میں ’تحریکِ اسلامی طالبان‘کی داغ بیل ڈالی گئی۔  مولوی احسان شہید بھی ان ابتدائی رہنماؤں میں تھے، جنہوں نے اپنے بھرپور خلوص اور دیانت کے ساتھ بانیِ تحریک کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔  انہوں نے اَن تھک جدوجہد سے تحریک کی حمایت کی۔ مولوی احسان شہید نے اپنے علاقے کے تمام جہادی کمانڈروں اور عام لوگوں کو اس بات پر تیار کیا کہ وہ بخوشی اپنے ہتھیاروں سمیت تحریک میں شامل ہو کر ملک میں خالص اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کا آغاز کریں۔ مولوی احسان شہید کی حکمت اور بصیرت پر مبنی دعوت کی بدولت علاقے کے بہت سے سابق جہادی کمانڈروں اور عام لوگوں نے تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ مولوی احسان شہید علماء کونسل کے رکن تھے، جو شیخ الحدیث مولوی عبدالعلی دیوبندی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ ا نہوں نے سرحدی شہر اسپین بولدک میں مسلح کمانڈروں کو دعوت دی کہ وہ جبر اور ظلم سے کنارہ کشی اختیار کر کے تحریک کی حمایت کریں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ جس پر مجاہدین نے ملا محمد اخوند کی قیادت میں ان کے خلاف آپریشن کیا اور بولدک کے علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر  لیا۔

مولوی احسان شہید کا عظیم کارنامہ

قندھار فتح کرنے کے بعد   1373 ہجری قمری میں مجاہدین نے صوبہ زابل کی طرف پیش قدمی کی۔ مولوی احسان شہید بھی اس قافلے میں شامل تھے۔ زابل میں موجود کمانڈروں اور مجاہدین نے ان کی حمایت کی اور ان کا پرتپاک استقبال کیا، جس کے بعد مجاہدین نے صوبہ غزنی کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے اہم فوجی مراکز، چھاؤنی اور صوبائی دارالحکومت پر کنٹرول قائم کر لیا، لیکن یونٹ اور روضہ کے مقامات پر حزب اسلامی اور حزب وحدت کے مسلح گروپوں نے مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جھڑپ ہوئی، لیکن بعد میں وہ بھی بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ تمام علاقے مکمل طور پر مجاہدین کے کنٹرول میں آ گئے۔

اگرچہ مجاہدین کے قافلے کا ایک بڑا حصہ صوبہ میدان وردگ کی سمت چلا گیا اور میدان شہر، لوگر اور چہارآسیاب تک پہنچ گیا، لیکن اسی سال 27 فروری کو مجاہدین کا ایک بڑا گروپ مولوی احسان احسان شہید کی قیادت میں غزنی سے پکتیکا کی طرف چلا گیا۔ پکتیکا میں مقامی علمائے کرام اور قبائلی رہنماؤں نے اس صوبے کا مکمل کنٹرول اِن کے اختیار میں دے دیا۔ اس کے بعد مولوی احسان اللہ احسان ’لویہ پکتیا‘ (جو تین صوبوں پکتیا، پکتیکا اور خوست پر مشتمل ہے) کے جہادی کمانڈروں اور رہنماؤں؛ مجاہد مولوی جلال الدین حقانی، ملا عبداللطیف منصور، مولوی فرید الدین محمود اور دیگر سے مذاکرات کیے۔ مولوی احسان کی دانش مندانہ حکمت عملی، مضبوط دلائل اور اطمینان بخش وضاحت کے نتیجے میں ’لویہ پکتیا‘ کے تمام مجاہدین نے تحریکِ طالبان کی حکمرانی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بڑے اخلاص سے اپنی تنظیموں کو اسلامی تحریک میں ضم کر دیا، جس کے باعث نہ صرف اِن تینوں اہم صوبوں پر مجاہدین کا مکمل کنڑول ہو گیا۔ اس عمل سے اسلامی تحریک کی حمایت سے مجاہدین مزید مضبوط اور منظم ہوگئے۔ اس منصوبے کی کامیابی میں مولوی احسان اللہ احسان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

اسلامی تحریک میں ذمہ داریاں

مولوی احسان اللہ احسان اسلامی تحریک کے ابتدائی دور میں جنوبی مشرقی صوبوں میں مجاہدین کی سرپرستی اور ان کی قیادت کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ صوبہ ہرات کو فتح کرنے کے بعد عالی قدر امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے انہیں ہرات کا گورنر مقرر کر دیا۔ اگرچہ اس وقت ہرات مسلح کارروائی سے فتح کیا گیا تھا، لیکن اکثر لوگ ذہنی طور پر مجاہدین کے بارے میں تحفظات اور خدشات رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے عوام کی طرف سے عدمِ حمایت کے خطرات موجود تھے۔ شہر اور مضافات میں مجاہدین پر حملے ہوتے تھے۔ مولوی احسان اللہ شہید نے حکمت اور دل نشین وعظ و نصیحت سے لوگوں کو قائل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اس صوبے کے لوگوں کے دلوں کو فتح کر کے ان کا اعتماد حاصل کیا اور ان کی کوششوں سے ہرات میں امارت اسلامیہ کے خلاف اعتراضات، مشکلات اور اختلافات ختم ہوگئے۔

1375 ہجری شمسی کیلنڈر کے مہینے ’حمل‘ میں قندھار میں امارت اسلامیہ کی تأسیس کے حوالے سے 1500 علمائے کرام پر مشتمل عظیم الشان اجتماع ہوا، جس میں تحریک طالبان کو امارت اسلامیہ افغانستان میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس شان دار اجتماع میں مولوی احسان اللہ احسان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اجتماع کے دوران مولوی احسان نے علمائے کرام کے سامنے ملا محمد عمر مجاہد کے لیے عنوان کا لقب پیش کیا، جو علماء کرام نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ جس سے سالوں بعد ایک بار پھر اسلامی سیاست کی لغت میں یہ لفظ زندہ ہو گیا۔

اسی سال’میزان‘ کے مہینے میں مجاہدین نے کابل فتح کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا۔ افغانستان کے مشرقی صوبوں کی فتح کے بعد مولوی احسان اللہ احسان کو صوبہ ننگرہار کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ کابل فتح کرنے کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان کی پہلی عمومی مشاورت میں اِنہیں بینک کے ڈائریکٹر کے طور پر مقرر کیا گیا۔

1376 ہجری شمسی تقویم کے مہینے ’جوزا‘ میں مجاہدین نے شمالی صوبوں میں جنرل مالک کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں مجاہدین فاریاب، جوزجان، سرپل اور بلخ میں داخل ہوگئے۔ مولوی احسان اللہ احسان  امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کے حکم پر چند دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مزار شریف گئے، تاکہ وہاں صورت حال کو کنٹرول کرنے میں امارت کا تعاون کریں۔ دو دن بعد جنرل مالک نے غداری کی اور حزب وحدت کے ساتھ مل کر ایک منصوبے اور سازش کے ذریعے مجاہدین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مجاہدین شہید کر دیے گئے، جن میں چند اہم رہنماؤں کے علاوہ مولوی احسان اللہ احسان بھی شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہوگئے۔

مولوی احسان اللہ شہید کی شہادت

مولوی احسان اللہ احسان شہید کی شہادت کا آنکھوں دیکھا واقعہ ان کے بھائی مولوی عبدالغنی بیان کرتے ہیں:

مَیں سال 1376 ہجری شمسی کے مہینے ’جوزا‘ کی ابتداء میں مولوی احسان کی ملاقات کے لیے کابل  گیا، لیکن وہاں ملاقات نہیں ہو سکی، کیوں کہ وہ پاکستان گئے تھے، تاکہ مزارشریف کی فتح کے بعد امارت اسلامیہ کو افغانستان کی حکومت کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کریں۔ اس وقت اسلام آباد میں امارت اسلامیہ کی طرف سے متعین سفیر مولوی شہاب الدین دلاور کے مطابق پاکستان نے امارت اسلامیہ کو افغان حکومت کے طورپر تسلیم کر لیا، جس کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی امارت اسلامیہ کو سرکاری حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔

مَیں قندھار آیا اور مولوی احسان بھی پاکستان سے قندھار پہنچ گئے۔ بعدازاں وہ وزیرخارجہ مولوی محمد غوث اور چند دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مزار شریف گئے۔ مَیں بھی ان کے بعد بذریعہ جہاز شبرغان اور پھر مزار شریف گیا۔ مزار شریف میں مجاہدین اور جنرل مالک کے درمیان شہر کی سکیورٹی کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس کے تحت چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں مجاہدین کی جانب سے سید جانان آغا، ہرات کے کور کمانڈر ملا عبدالحق اور مَیں، جب کہ جنبش کی جانب سے شیرعرب، جنرل مجید روزی اور مولوی عثمان شامل تھے۔ ایک دن گزر گیا۔ شہر میں لڑائی شروع ہوگئی۔ چوں کہ جنگ جنرل مالک کے حامیوں نے شروع کی تھی، لیکن ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہ لڑائی حزب وحدت کے اہل کاروں نے شروع کی ہے۔ جنگ عصر کے وقت شروع ہوئی، جو صبح تک جاری رہی۔ صبح ہوئی تو مجاہدین مزارشریف سے نکل کر کچھ شبرغان اور کچھ ’سیلو‘ کی طرف چلے گئے۔ اسی روز مَیں مزارشریف میں صبح آٹھ بجے مسجد کے سامنے کھڑا تھا کہ ایک گاڑی میں سوار چند مجاہدین آئے اور مجھے بتایا کہ مولوی احسان اللہ اور ان کے دوسرے ساتھی محکمۂ  کمیونی کیشن کے دفتر میں موجود ہیں۔ مَیں وہاں تک بڑی مشکل سے پہنچا۔ مولوی احسان اللہ صاحب، ملا محمد غوث اور قندھار میں خارجہ امور کے رئیس حاجی فضل محمد بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر گاڑی میں سوار ہوکر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ سیلو کے قریب ملا محمد غوث کی گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی، جنہیں دوسری گاڑی میں بٹھا کر روانہ کر دیا گیا۔ جب تنگی شادیان کے مقام پر پہنچے تو ضلع چارکنت کے ہزارہ رہنما ’سید اسد‘ کے مسلح ساتھی کھڑے تھے۔ انہوں نے ہمارا راستہ بلاک کر کے ہم سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ جب ہم نے انکار کیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ تب تقریبا دس بجے تھے۔ فائرنگ سے مولوی احسان اللہ زخمی ہو کر گر پڑے۔ ہم پہاڑ کی طرف چلے گئے۔ رات وہاں پر گزاری۔ اگلے روز بھوک اور پیاس کی وجہ سے قریبی گاؤں کی طرف آئے۔ ہزارہ لوگوں نے ہم سب سے پیسے، گھڑیاں اور قیمتی چیزیں چھین کر ہمیں گرفتار کر لیا۔ پھر ہمیں مختلف گروپوں میں تقسیم کر کے  ہم ساٹھ قیدیوں کو مزارشریف منتقل کیا گیا۔ چار روز بعد ہم یہاں تنگی شادیان میں حزب وحدت کے مرکز لائے گئے، پانچ دن کے بعد ہم دس افراد کو شہداء اٹھانے کے لیے جیل سے باہر نکالا گیا۔

اسی دن ہم نے راستے میں دو چار دنوں کی جنگ سے شہید ہونے والے کئی شہدا کے راستے میں پڑے ہوئے اعضاء جمع کر کے دفن کر دیے، جن میں میرے بھائی مولوی احسان اللہ احسان کا جسدِ خاکی بھی تھا۔ جب مزارشریف سمیت دیگر شمالی صوبوں کو دوبارہ فتح کیا تو مولوی احسان اللہ احسان کے جسد کو قندھار منتقل کر کے شہر کے لوہ ویالہ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ دوسرے کئی رہنماؤں؛ ملا محمد اخوند شہید، ملا بورجان شہید، مولوی احسان اللہ احسان شہید، ملا یار محمد شہید اور وزیر اعظم ملا محمد ربانی رحمہ اللہ بھی اسی قبرستان میں قریب قریب مدفون ہیں۔

واضح رہے جنرل مالک کی غداری کے نتیجے میں دل دہلا دینے والے اس سانحے میں مولوی احسان اللہ احسان کے ایک اَور بھائی مولوی ولی اللہ بھی شہید ہوئے تھے، جو صوبہ فاریاب کی جانب سے مجاہدین کے ساتھ آئے تھے۔ جنرل مالک کے مسلح اہل کاروں نے ہزاروں مجاہدین کے ساتھ اِنہیں بھی صوبہ جوزجان کے ضلع فیض آباد کے دشت لیلی کے ایک گہرے کنویں میں پھینک کر شہید کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*